پنجاب کانسٹیبلری ملتان سکینڈل ، انٹی کرپشن کو مگرمچھوں کی گرفتاری میں مشکلات

ملتان( نمائندہ خصوصی ) نیب ملتان بیورو آخر کار انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کی محنت پر شب خون مارنے میں کامیاب ہو گیا ‘ سپیشل جج انٹی کرپشن کورٹ نے نیب آرڈیننس کے تحت پنجاب (بقیہ نمبر44صفحہ12پر )

کانسٹیبلری ملتان بٹالین تھری کے سکینڈل کا چالان سپیشل کورٹ نیب کو بھجوانے کے احکامات جاری کر دئیے ‘ 63 کروڑ روپے مالیت کا کیس ٹرانسفر ہونے کے بعد موجود ایس پی پنجاب کانسٹیبلری ملتان بٹالین محمود لحسن ‘ سابق ایس پی محمد باقر اور ریٹائر ایس پی عرفان اﷲ مروت میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی جبکہ گزشتہ 5 ماہ سے میگا سکینڈل پر دن رات ایک کرنے تفتیشی افسران کے منہ بھی لٹک گئے ۔ بتایا گیا ہے نیب آرڈیننس کی شق 16-A کے تحت قومی احتساب بیورو پاکستان کوئی بھی مقدمہ کسی بھی سٹیج پر متعلقہ ادارے سے طلب کر سکتی ہے ۔ چیئرمین نیب نے اس شق کے تحت سپیشل جج انٹی کرپشن کورٹ کو ایک درخواست بھجوائی اور یہ مقدمہ نیب عدالت میں ٹرانسفر کرنے کی استدعا کی ۔ سپیشل جج انٹی کرپشن کورٹ نے ہفتہ کے روز مذکورہ درخواست منظور کرلی اور مقدمہ اپنی عدالت سے احتساب عدالت ریفر کر نے کی منظوری دیدی ‘ جس کے بعد نیب کی ٹیم نے ہفتہ کے روز ہی تمام ریکارڈ انٹی کرپشن کورٹ سے وصول کرلیا ۔ جبکہ نیب حکام تفتیشی ریکارڈ حاصل کرنے میں تاحال ناکام نظر آ رہے ہیں ‘ معلوم ہوا ہے ہفتہ کے روز جاری ہونیوالے عدالتی احکامات کے بارے میں ڈائریکٹر انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کو ہوا تک نہیں لگنے دی گئی ۔ حالانکہ انہی کی خصوصی دلچسپی کیوجہ سے ملزمان سے اب تک 70 لاکھ روپے سے زائد برآمد ہو چکے ہیں ‘ اس سے انٹی کرپشن اس کیس میں اب تک 10 سے 15 ملزمان گرفتار بھی کر چکی ہے لیکن بڑے مگرمچھوں کی گرفتاری بھی عدالتی کاروائی کیوجہ سے مشکلات کا سامنا ہے ۔ بتایا گیا ہے اس سکینڈل میں ملوث مرکزی ملزمان اپنے اثر و رسوخ کے باوجود انٹی کرپشن حکام کو روکنے میں ناکام رہے ہیں ‘ انٹی کرپشن کورٹ کے احکامات کیوجہ سے زیادہ پریشانی موجود ایس پی محمود الحسن کو ہے جو گزشتہ5 ماہ سے فرنزک رپورٹ کرانے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں‘ اسی طرح سابق ایس پی محمد باقر اور ریٹائرڈ ایس پی عرفان اﷲ مروت بھی اپنے دستخطوں کی فرنزک رپورٹ کرانے سے انکاری ہیں‘ معلوم ہوا ہے ایک چینل سے انٹی کرپشن حکام کو تینوں افسران نے ایک میسج بھجوایا ہے کہ فرنزک رپورٹ کی بجائے معاملات طے کرنے کے آپشن کو ترجیح دی جائے لیکن انہیں تاحال ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ دوسری جانب گزشتہ 5 ماہ سے اس سکینڈل پر محنت کرنیوالے آفسران بھی کیس ٹرانسفر ہونے کے احکامات سن کر سکتے کے عالم میں ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...