تعلقات کے شبہ میں نوجوان کے گلے میں پٹہ ڈال، کتا بناکر تشدد

تعلقات کے شبہ میں نوجوان کے گلے میں پٹہ ڈال، کتا بناکر تشدد

خانیوال ، سرائے سدھو، بارہ میل، نواں شہر، جودھ پور، کبیروالا، بٹہ کوٹ،اڈہ کوٹ بہادر، باٹی بنگلہ (نمائندگان) بارہ میل کے نواحی علاقہ میں انسانیت سوز واقعہ ،ضلع ملتان میں تعینات پولیس آفیسر کے گاؤں میں مبینہ طور پر ڈیرے پر لڑکی سے تعلقات کے شبہ میں نوجوان پر وحشیانہ تشدد ،بازیبا حرکات ،نوجوان کے گلے میں کتے کا پٹہ ڈال کر منہ کالا کردیا ،پورے گاؤں کا چکر لگوایا گیا ،نوجوان سے بھاری رقم لے کر جان بخشی کی ۔تفصیل کے مطابق بارہ میل کے نواحی علاقہ موہری پور میں ایک بار پھر انسانیت کی تذلیل کی گئی ،علی پور بندیشہ کا رہائشی عامر نامی نوجوان کو لڑکی سے تعلقات کے شبہ میں بااثر افراد نے پکڑ کر ایس ایچ او ذوالفقار اولکھ کے ڈیرے پر لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے گلے میں کتے کا پٹہ ڈال کر اسے کتے والی حرکتیں کرنے پر مجبور کیا گیا ،پھر اس کا منہ کالا کر کے گلی ،محلوں اور بازار میں گھمایا گیا منت سماجت کرنے پر اس سے 30ہزار روپے لے کر اور اس کا موٹر سائیکل اپنے پاس رکھ کر چھوڑ دیا گیا اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقے بھر میں خوف پھیل گیا ،ضلع ملتان میں تعینات پولیس آفیسر ذوالفقار اولکھ نے لا علمی کا اظہار کیامیڈیا کی نشاندہی پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرعمر رضوان گوندل موقع پر پہنچ گئے اور فرائض میں غفلت برتنے پر ایس ایچ او سرائے سدھو اور اے ایس آئی کو معطل کردیا تاہم ڈی پی او خانیوال کی ہدایت پر تشدد کا شکار ہونے والے محمد عامر قوم بندیشہ کی مدعیت میں تھانہ سرائے سدھو میں محمد شاہد ولد احمد بخش قوم کمہار سکنہ موہری پور ،شانی ولد محمد صادق قوم اولکھ سکنہ موہری پو راورتین نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کردیا گیا ،ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں ۔ ذرائع کے مطابق لڑکے کے گلے میں پٹہ ڈال کر اسے بار بار کتے کی طرح بھوکنے پر مجبور کیاجاتا رہا۔ جبکہ اس دوران لڑکے کو مرچوں کی دھونی دیکر مزید تڑپاتے رہے شدید ی زخمی نوجوان کے زخموں پر بار بار نمک چھڑک کر اسکے درد کا مزہ لیتے رہے اس دوران نو جوان کئی بار بے ہوش ہوا ہوش میں آکر جب اس نے پانی مانگا تو ملزمان اور اسکے ساتھی شانی اور دیگر نا معلوم اسکے منہ میں پیشاب انڈلنے کی کوشش کرتے رہے جبکہ نوجوان کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی بھی کوشش کی گئی ہے ذرائع نے بتایا کہ پنچائتی طور پر معاملہ حل کرانے کیلئے مقامی دڈیرے سر گرم ہو گئے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر