ڈاکٹر وحید احمد دلنشین لہجے کے خوبصورت نظم گو شاعر ہیں،ڈاکٹر قاسم بگھیو

ڈاکٹر وحید احمد دلنشین لہجے کے خوبصورت نظم گو شاعر ہیں،ڈاکٹر قاسم بگھیو

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) اردو شاعری میں غزل کو سمجھے بغیر اچھی نظم نہیں کہی جا سکتی ۔ ان خیالات کا اظہار ممتازنظم گو شاعر، دانشور اورناول نگار ڈاکٹر وحید احمد نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب ’’اہل قلم سے ملیے‘‘ میں کہی۔ادیبوں اوردانشوروں نے ان کی فنی زندگی اور شخصیت کے حوالے سے گفتگو کی۔ڈاکٹر وحید احمد نے کہا کہ1959میں لائلپور موجودہ فیصل آبادمیں پیدا ہوا۔ اس علاقے کے مختلف سکولوں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، شہری ماحول کے ساتھ دیہاتی ماحول کے سکولوں میں بھی پڑھتا رہا۔ میرے والد ملازم پیشہ شخص تھے لہٰذا ان کا تبادلہ ساہیوال ہوا تو آٹھویں سے میٹرک تک ساہیوال میں پڑھا۔ 1974کے دور میں مجھے شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ شریف حجازی میر ے نہایت شفیق استاد تھے۔ انہوں نے مجھے سب سے پہلے مجید امجد کی کتاب شبِ رفتہ پڑھائی،اسی زمانے میں مَیں خود اردو کے معروف شاعر مجید امجد کو اپنے سامنے روزانہ سائیکل پر جاتے دیکھتا تھا۔ میں انہیں روزانہ سلام کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بلا شبہ مجید امجد کے کلام اور اُن کی شخصیت میں بڑی کشش تھی۔ میرے نزدیک مجید امجد نظم کے بہت بڑے شاعر تھے۔ وہ تنہا، گُم سُم اپنے حصار میں رہتے تھے۔ میں نے کتاب شبِ رفتہ سے بہت کچھ سیکھا۔ ڈاکٹر وحید احمد نے کہا کہ اردو شاعری میں غزل کے دروازے سے نکل کر نظم کے آنگن میں جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے غزل کے حوالے سے جانکاری بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں بنیادی طور پر ترقی پسند رائٹر ہوں۔ میرا کسی نظریے یا گروپ بندی سے کوئی تعلق نہیں ۔ میں اپنے لیے لکھتا ہوں ، کوئی پسند کرے یا نہ کرے، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کے نقادوں کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ وہ اپنا کام غیر جانبدرانہ طریقے سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امیر خسرو ، نطشے اور مجید امجد میرے پسندیدہ شاعر ہیں اور انہی سے اپنے لیے روشنی کشید کرتا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ اردو غزل میں جو مقام داغ کو حاصل تھا وہ کسی اور شاعر کو نصیب نہیں ہوا۔ ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے کہا کہ ڈاکٹر وحید احمد ایک معروف اور خوبصورت نظم گو شاعر ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ اچھے نثر نگار بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کا پروگرام ’’ میٹ اے رائٹر اوور اے کپ آف ٹی ‘‘ کے تحت ڈاکٹر وحید احمد کے ساتھ یہ تقریب اس سلسلے کی ستائیسویں تقریب ہے اور اکادمی میں آئندہ بھی ادبیوں اوردانشوروں کے ساتھ اس طر ح کی ملاقات کا اہتمام کیا جاتا رہے گا۔افتخارعارف نے کہا کہ ڈاکٹر وحید احمد خوبصورت نظم گو شاعر ہیں ، وہ خوش گفتار، خوش لباس اور خو ش گلو شخص بھی ہیں۔ شاعری میں اُن کا اپنا ایک مخصوص انداز ہے ۔ وہ ایک سچے اور کھرے شاعر ہیں ۔ تخلیق کار اپنی سچائی کی وجہ سے زندہ رہتا ہے۔ یاسمین حمید نے کہا کہ ڈاکٹر وحید احمد کی نظم دو انتہاؤں کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔ کشور ناہید نے کہا کہ ڈاکٹر وحید احمد نظم کے حوالے سے اپنامنفرد انداز رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے لکھتے ہیں، اس سے قطع نظر کوئی پسند کرے یا نہ کرے۔ تقریب میں ڈاکٹروحید احمد کے قریبی احباب اور اہل خانہ نے ان کی شخصیت کے حوالے سے گفتگو کیجبکہرب نواز عباسی، ڈپٹی سیکرٹری، قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن، فاخرہ نورین، محبوب ظفر،علی اکبر عباس ، افشاں عباسی، مظہر الحق، سعید راجہ، انجم خلیق،اختر رضا سلیمی، علی یاسر، حسن عباس رضا،ایم۔ مسعود اقبال ہاشمی اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر