وزیر اعظم آزاد کشمیر سے ریفیو جی ایکشن کمیٹی وفد کے مذاکرات بے نتیجہ نکلے


مظفرآباد(بیورورپورٹ)وزیراعظم آزادکشمیر کے ریفیوجی ایکشن کمیٹی کے 22رکنی وفد مذاکرات بے نتیجہ نکلے، مہاجرین اپنے حق کیلئے سڑکوں پر نکلنے کیلئے پرعزم، حکومت کی طرف سے ایک مہینے کے اندر اندر مہاجرین کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کا کہا گیا جس پر مہاجرین کی جانب سے معذرت کرلی گئی اور موقف اختیار کا گیا ہے کہ نو سال سے ٹرخایاجارہا ہے، ایک مہینہ میں حل ہوسکتے ہیں تو اس کی ابھی ہی منظوری دیدی جاسکتی ہے ، کئی ماہ سے ہم حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ مسائل حل کیئے جائیں مگر کسی کے کانوں تک جوں تک نہیں رینگی۔ ریفیوجی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین گوہر کشمیری، صدر راجہ عارف سمیت بائیس رکنی کمیٹی نے وزیراعظم آزادکشمیر سے ملاقات کی اور اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کیلئے کہا جس پر ایک مہینے کا وقت مانگا گیا۔ مہاجرین نے بتایا کہ ہمارے جائز مطالبات ہیں جو نوسال سے حکومتوں کے سامنے پیش کیئے جارہے ہیں مہاجرین کو ئی نیا مطالبہ لے کر حکومت کے پاس نہیں آئے ۔ ہر انسان کو زندگی گزارنے کیلئے بنیادی ضرورتیں ہوتی ہیں اگر ہم نے کوئی ناجائز ڈیمانڈ کی ہے اور حکومت سمجھتی ہیکہ مہاجرین کو ضروریات زندگی پوری مل رہی ہیں تو وزیراعظم سمیت وزراء کرام اور ممبران اسمبلی سب کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ محلات چھوڑ کر ٹینٹوں میں آکر رہیں اور انہیں ایک دن میں ہی علم ہو جائیگا کہ مہاجرین کس ذہنی اذیت سے گزر رہے ہیں۔ بائیس رکنی وفد نے حکومت کو بتایا کہ وہ اپنے جائز مطالبات پر کوئی کمپرو مائز نہیں کرینگے۔ حکومت ہمارا امتحان لینا چاہتی ہے تو بے شک لے ہم سڑکوں پر نکلیں گے اور بھوک ہڑتال کرینگے اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ مذاکرات کے موقع پر ضلعی انتظامیہ بھی موجود تھی نتائج بے نتیجہ نکلنے پر مہاجرین نے شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ اب سڑٖکوں پر آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہم نے پوری کوشش کی کہ حکومت ہمارے جائز مسائل حل کرے مگر نہیں کیئے جارہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ سڑکوں پر نکل کر بھوک ہڑتالی کیمپ لگائیں جس کی تما م تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...