سندھ حکومت سماجی کارکن کو دھمکیاں دے رہی ہے ،عارف علوی


کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت سندھ تعلیم دشمن پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ تعلیم دینا ریاست کا کام ہے لیکن آج سندھ حکومت ایک سماجی کارکن کو دھمکیاں دے کر اسے سوشل ورک سے روک رہی ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ آرمی پبلک اسکول کے واقعے کے بعد اس اسکول کے قیام کا خیال آیا کہ گلیوں میں گھومنے والے بچوں کو جو سڑکوں پر رہتے تھے، تعلیم دی جائے۔ یہ ایک اچھا اقدام تھا اور ہر بچے کو روزانہ کی بنیاد پر 50روپے دئیے جاتے ہیں۔ دو سے تین سو بچے یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جنہیں کھانا بھی دیا جاتا ہے۔ سماجی کارکن وہ کام کر رہے ہیں جو حکومت یا سرکاری اسکول نہیں کرتے لیکن حکومت انہیں ہٹانا چاہتی ہے۔ اگر حکومت اسکول چلانا چاہتی ہے تو پہل کرے۔ہم ناہید درانی صاحبہ کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔ میرا سندھ حکومت سے مطالبہ ہے کہ انہیں پریشان نہ کیا جائے اور سرکاری اسکولوں میں بھی بچوں کو کھانا دیا جائے۔ سماجی کارکنوں کو دھمکیاں نہ دی جائیں بلکہ سرکاری اسکولوں کا حال بہتر کرنے پر توجہ دی جائے۔ یہ باتیں پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے کلفٹن میں قائم فٹ پاتھ اسکول میں پریس کانفرنس کے موقعے پر کہیں۔ اس موقعے پر رکن سندھ اسمبلی و جنرل سیکریٹری تحریک انصاف کراچی ڈویژن خرم شیر زمان ، سیکریٹری اطلاعات سندھ الیاس شیخ، دوا خان صابر، افتخار فاروقی، طاہر ملک، اظہر لغاری، شہزاد قریشی، ثمینہ علوی، سیّد زرین شاہ، طلعت نورین، آصف یوسف زئی اور دیگر رہنما بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان نے کہا کہ حکومت سندھ کے اسکولوں کی حالت اچھی نہیں ہے۔ اس بنیاد پر یہ اسکول قائم کیا گیا۔ سرکاری اسکولوں کی خستہ حال عمارتیں حکومت سندھ کی تعلیمی پالیسی کا حال سناتی ہیں۔ یہ بچے سرکاری اسکول چھوڑ کر یہاں آتے ہیں جہاں تمام سہولیات میسر ہیں اور یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ ہر جگہ NA250 میں تحریک انصاف نے سرکاری اسکولوں کو ٹھیک کیا ہے۔ ہم نے 52 میں سے 30-40اسکول ٹھیک کیے ہیں۔ یونیفارم، کتابیں اور فرنیچر دیا ہے ۔ اگر اسٹریٹ چلڈرن کا کوئی پروجیکٹ ہے تو اس میں انفاس صاحبہ کا تجربہ شامل کریں اور ان سے مشورہ لیں۔ تعلیم کا بجٹ 140ارب ہے اور تعلیم کا براحال ہے۔ میں اسٹریٹ چلڈرن اسکول کے لیے اسمبلی میں آواز اُٹھاؤں گا اور قرارداد پیش کروں گا۔ سندھ میں 40فیصد اسکولوں میں باتھ روم موجود نہیں ہیں۔ 60فیصد اسکولوں میں پینے کا پانی دستیاب نہیں۔ 75فیصد اسکولوں میں پلے گراؤنڈ موجود نہیں۔ اربوں روپے تعلیم کے نام پر سندھ حکومت ہڑپ کر چکی ہے لیکن اگر خاتون سوشل ورکر کوئی اچھا کام کر رہی ہیں تو ان کو دھمکایا اور ڈرایا جارہا ہے۔ اس سے سندھ حکومت کو کیا تکلیف ہو رہی ہے۔ جس شخص پر 462ارب روپے کرپشن کے الزامات ہیں ،اسے ہائر ایجوکیشن کمیشن کا چیئرمین بنایا جارہا ہے۔ یہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کا اصل چہرہ ہے۔ سندھ حکومت نے تعلیمی نظام کو فٹ پاتھ پر لاکھڑا کیا ہے۔6577 اسکولوں کی عمارتیں خطرناک ہیں۔ اس موقعے پر فٹ پاتھ اسکول کی سربراہ سماجی کارکن سیّدہ انفاس علی شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ اچھا کام کرنے والوں کا ساتھ دیتی ہے۔ ہمارے اسکول کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ ہم آپ کی شرائط پر کام نہیں کرسکتے، نہ اپنے کام کو روکیں گے۔ اسکول ایسے ہی چلتا رہے گا اور سندھ حکومت کو چاہئے کہ دھمکیوں سے باز رہے۔ اگر میں کسی بااثر شخص کی بیٹی نہیں ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے بے عزت کیا جائے۔ یہ تو فٹ پاتھ ہے۔ میں نے کوئی قبضہ نہیں کیا۔ شہر کراچی میں تو سینکڑوں ایکڑ زمینوں پر قبضہ ہوچکا ہے ۔ اس کے خلاف سندھ حکومت کچھ نہیں کرتی۔ مجھے دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اس موقعے پر پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات سندھ الیاس شیخ نے اسٹریٹ چلڈرن کے لیے 10ہزار روپے کا عطیہ بھی دیا۔ رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے فٹ پاتھ اسکول کے لیے ایک موبائل باتھ روم بنانے کا اعلان بھی کیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...