”نہال ہاشمی کو سزا پر ڈسٹرب ہوں اس لیے دلائل نہیں دے سکتا“وکیل نے یہ کہا تو آگے سے چیف جسٹس نے ایسی بات کہہ دی کہ فوری دلائل دینا شروع کردیے

”نہال ہاشمی کو سزا پر ڈسٹرب ہوں اس لیے دلائل نہیں دے سکتا“وکیل نے یہ کہا تو ...
”نہال ہاشمی کو سزا پر ڈسٹرب ہوں اس لیے دلائل نہیں دے سکتا“وکیل نے یہ کہا تو آگے سے چیف جسٹس نے ایسی بات کہہ دی کہ فوری دلائل دینا شروع کردیے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اور وکیل کامران مرتضیٰ میں نہال ہاشمی توہین عدالت کیس سے متعلق دلچسپ مکالمہ ہوا ہے۔

آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کی مدت کی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سینئر وکیل کامران مرتضیٰ نے دلائل دینے سے معذرت کرلی اور کہا کہ وہ آج اپنے دلائل نہیں دے سکیں گے۔ چیف جسٹس کے استفسار پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ نہال ہاشمی توہین عدالت کیس کا فیصلہ آگیا ہے جس پر وہ ڈسٹرب ہیں۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیس کا کیا فیصلہ آیا ہے؟ جس پر کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ نہال ہاشمی کو سزا سنائی گئی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے وکیل کامران مرتضیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ قانون کے مطابق ہے ، آپ دلائل جاری رکھیں۔ چیف جسٹس کے حکم کے بعد کامران مرتضیٰ نے دوبارہ دلائل دینا شروع کردیے۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد