نقیب اللہ محسود قتل کیس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش، جے آئی ٹی سربراہ کو تبدیل کرنے کی سفارش

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے نقیب اللہ محسود قتل کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی، جس میں جے آئی ٹی سربراہ کو تبدیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی رینک کے افسرسے تحقیقات کرائی جائیں۔
آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ راﺅ انوار کے قریبی 9 اہلکاروں کا فون ریکارڈ چیک کیاگیا،سابق ایس ایس ملیر جان بوجھ کر تحقیقات میں پیش نہیں ہو رہے ،راﺅانوار انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور انہوں نے جعلی دستاویزات تیار کرکے بھاگنے کی کوشش کی ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نقیب اللہ محسود کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا،پولیس افسران نقیب اللہ کو ایک جگہ سے دوسرے جگہ منتقل کرتے رہے،نقیب اللہ محسود کسی دہشتگردی کے واقعہ میں ملوث نہیں پایاگیااورکمیٹی کے سامنے پیش کیا جانے والے ریکارڈ نقیب اللہ محسود کا نہ تھا۔نقیب اللہ محسود کے ساتھیوں حضرت علی اورقاسم کو 6 جنوری کو چھوڑ دیا گیا،آئی جی سندھ نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کو 13 جنوری کو بادی النظر میں جعلی مقابلے میں مارا گیا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...