وہ پاکستانی جو 270 گاڑیوں کا مالک ہے لیکن ۔ ۔ ۔

وہ پاکستانی جو 270 گاڑیوں کا مالک ہے لیکن ۔ ۔ ۔

اسلام آبا د(ویب ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ملک میں امرا کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے گزشتہ دس سال میں ملک بھر میں بنائے جانے والے کمرشل پلازوں اور ان کے مالکان کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور ابتدائی طور پر اسلام آباد میں گزشتہ دس سال کے دوران بنائے گئے 450 پلازوں کی نشاندہی ہوچکی ان کے مالکان کی نشاندہی کر لی گئی ہے اس کے بعد رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بھاری سرمایہ کاری کرنے والے امرا کی نشاندہی کیلئے ہاﺅسنگ سکیموں پر توجہ دیں گے ، کمیٹی میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ راولپنڈی میں 270 گاڑیاں ایک ایسے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ ہوئیں جو ٹیکس گزار ہے ہی نہیں ،کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں ہوا ۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر عثمان خان کاکڑکے سینیٹ اجلاس میں توجہ دلاﺅ نوٹس برائے کسٹم انسپکٹر کی 30 پروموشنل سیٹوں ، مسابقتی کمیشن پاکستان کی چیئر پرسن کی تعیناتی ، ٹیکس کی بنیاد کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے معاملات کے علاوہ بے نامی ٹرانزیکشن کے حوالے سے ایف بی آر کی پراگریس رپورٹ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا، سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 53 کسٹم حکام نے پروموشن کا امتحان پاس کیا اور صرف 10 کو پروموٹ کیا گیا ہے۔

جس پر ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پروموشن اور نئی تقرریوں کا کوٹہ 50 فیصد ہے۔2015 تک نئی تقرریوں پر پابندی کیوجہ سے پروموشن کوٹہ میں 78 فیصد لوگ آچکے ہیں جب تک یہ توازن قائم نہیں ہوگا نئی پروموشن نہیں ہو سکتی۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں صوبوں کے لحاظ سے کوٹے کی تفصیلات طلب کر لیں۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن اور ممبرز کی تعیناتی کا معاملہ بھی زیر غور لایا گیا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...