قانون کی حاکمیت

قانون کی حاکمیت
قانون کی حاکمیت

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کسی بھی معاشرے میں اِس کے باسیوں کے مابین رہنے سہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھے بُرے برتاؤ کے کچھ اصول و ضوابط ہوا کرتے ہیں۔یہ اصول و ضوابط ہر معاشرے کے لیے مختلف ہوتے ہیں۔ گویا ہر معاشرہ یا گروہ ایک دوسرے سے الگ زندگی کے اصول و ضوابط پر عمل پیرا ہوتا ہے۔اِسی رہن سہن کے نفاذ کے سبب ہی اِس معاشرے کی پہچان ہو پاتی ہے۔جو لوگ اپنے اپنے معاشرے کی پیروی کرتے ہیں وہی لوگ اِس معاشرے کے پُرامن شہری کہلاتے ہیں،پُر امن شہری سے مُراد پُر اُمن ماحول، پُرامن ملک ہے۔ اِس لیے عالمی سطح پر اقوام کے مابین طے پاجانے والے معاہدے عالمی اصول و ضوابط کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔جنہیں اقوام عالم کے مابین تعلقات کو پُرامن بنانے کے لیے زیر مطالعہ لایا جاتا ہے۔

اُردو زبان میں پاکستان کے مروجہ قوانین کی تحقیق کے حوالے سے بہت کم لکھا گیا ہے۔ اِس حوالے سے انتہائی تحقیق پر مبنی اعلٰی عدلیہ کے فیصلہ جات اور قانونی نظائر کی عام فہم تشریحات کا مجموعہ" قانون کی حاکمیت " کے نام سے کتابی صورت میں حال ہی میں صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب ہمارے لیے کسی نایاب تحفہ سے کم نہیں ہے،اس میں ہمارے مسائل اور مشکلات کے حوالے سے راہنمائی اور اس کا آسان ترین حل موجود ہے۔

قانون کے عصری منظر نامہ کو اپنا مرکزی خیال بنانے والی یہ کتاب اردومیں قانون کی منفرد اندازِمیں سیر کراتی ہے ۔قانون سے وابستہ حقائق اوربعض کڑوی سچائیوں کو انتہائی برجستگی اور بے باکی سے پیش کیا گیا ہے ۔

اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ عصر حاضرمیں ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جو قانون سے جڑی نئی نسل کو قانون کی تاریخ سے نکال کر دور جدید میں آنے ولی درپیش مشکلات اور چیلنج سے نکالنے کے لئے مدد اور رہنمائی بھی فراہم کرے گی ۔ پاکستان میں خاص نوعیت کی اس منفرد کتاب کی اشاعت پر خوش آئند اضافہ قرار دیا ہے ۔اس کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں گراں قدرعلمی حوالہ جات کے ساتھ مصنف نے اپنے قیمتی مشاہدات کو بھی سپرد قلم کیا ہے ۔گویا انہوں نے صرف اپنے مطالعے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ جو کچھ کھلی آنکھوں دیکھا اور محسوس کیا،اسے بحیثیت قانون کے ایک طالب علم اوراپنے شعبے کے فعال رکن کے طور پر اپنے قلم سے کاغذ پر منتقل کردیا۔اس کتاب کو پاکستان کی ہر لائبریر ی کا حصہ بنایا جانا چائیے۔

آج کا انسانی ذہن اِس بلند ترین سطح تک رسائی حاصل کر چُکا ہے جہاں سے آسانی سے ہر کوئی یہ کہتا نظر آتا ہے کہ قوانین سے عدم آگہی و عدم شناسی ناقابل قبول بہانہ ہے۔ یہ بات نہ صرف انسانی نقطہ نظر کی ترقی بلکہ معاشرتی ترقی کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ مگر وہ معاشرے جہاں لوگوں میں ناخواندگی کی شرح بہت زیادہ ہو ،علم کی کمی ہو، سکولوں میں تعلیم ادھوراچھوڑنے کا رحجان بہت زیادہ ہو، بنیادی انسانی حقوق سے محرومی بلکہ ناواقفیت بھی عام ہو، وہاں کون قانون طلب و رسد کی بات کرے اگر کوئی کرے بھی تو کس حد تک کرسکتا ہے۔جبکہ تیسری دُنیا کے ممالک نو آبادیاتی نظام کا حصہ رہے ہیں۔اِس لیے اِن ممالک میں ایک بڑا مسئلہ قومی زبان کا بھی ہے۔ ایسے ممالک میں عام طور پر حکمران ممالک کی زبان میں کاروبارِ حکومت چلایا جا رہا ہوتا ہے۔جس کے سبب اِن ممالک کے عوام علوم وفنون اور خصوصاً قانونی معاملات اور اپنے بنیادی حقوق سے نابلد رہتے ہیں یا انہیں بزور نابلد رکھا جاتا ہے۔

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے گزشتہ تین دہائیوں کی پیشہ ورانہ زندگی میں پستے ہوئے مجبور وبے کس انسان دیکھے،جذبہ خدمت انسانی کے تحت ان کی مجبوریوں ،دکھوں ،غموں کا مداوابننے کے لیے خود کو بے لوث پیش کر دیا ،ان کی ہر لحاظ سے قانونی و اخلاقی مدد کی ،ہر ممکن انہیں انصاف دلا کر ان کی زندگیوں میں خوشیوں کا ایک نیا رنگ بکھیر دیا۔

اس وقت پاکستان کی % 70 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔کروڑوں افراد صحت و صفائی اور پینے کے صاف پانی تک سے محروم ہیں۔ ناخواندگی کی سطح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں سب سے بلند ہے۔ سکول و کالج کی بنیادی تعلیم سے لاکھوں افراد دور رہنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔تو کون کس طرح اپنے حقوق کی حفاظت کر سکتا ہے۔ جبکہ اِسے ا پنے حقوق سے آگہی اور ملکی قوانین کی سوجھ بوجھ ہی نہ ہو۔ تمام قانون کی کتب غیر ملکی زبان میں ہونے کے سبب کوئی پھر کیوں نہ کہے گا کہ مجھے قانونی کُتب تک رسائی نہیں ہوئی یا مجھے ملکی قانون کا علم ہی نہ تھا۔

جی ہاں جب تک ریاست اپنے شہریوں کو ترقی کے یکساں ذرائع و مواقع فراہم نہیں کرتی تو کو ئی کس طرح ایسے امتیازی سلوک والے معاشرے کو پُرامن معاشرہ یا پُرامن ملک کیسے کہہ سکتا ہے۔کچھ ایسے ہی خیالات کو سامنے رکھتے ہوئے زیرِ نظر کتاب" قانون کی حاکمیت " میں اُنھوں نے سپرد قلم کیا ہے اور اس کتاب کا خاصا یہ ہے کہ خصوصاً قومی زبان اُردو میں تحریر کی گئی ہے۔جس میں خصوصیت کے ساتھ ایسے قانونی معاشرتی موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے جو کہ عوام النا س کی زندگی کے بالکل قریب ہیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ