فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر347

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر347
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر347

  

تازہ الٹیوں نے ہمیں واقعی بے حال کر دیا تھا۔ ڈاکٹروں کے میڈیکل بورڈ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہمارا بلاتاخیر آپریشن کرنا ضروری ہے ورنہ جس رفتار سے ہمارے جسم سے خون خارج ہو رہا ہے اس کے بعد ہم خون کی کمی کے باعث اللہ کو پیارے ہو جائیں گے۔

ہمارے بھائیوں کو ڈاکٹر ولیم نے تمام حالات سے آگاہ کرنے کے بعد کہا ’’یہ سرجن ڈاکٹر ڈنلپ ہیں۔ ان کا مشورہ ہے کہ آپریشن فوری طور پر ہونا چاہیے۔ فی الحال خون کی چار بوتلیں درکار ہوں گی۔ یہ خون آپ لوگ کل بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ ہم انہیں ہسپتال کے بلڈ بینک سے خون دے دیں گے۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے ایک فارم ہمارے بھائی کے آگے رکھ دیا۔’’ یہ فارم پُر کر کے سائن کر دیجئے۔‘‘

فارم میں ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ اگر مریض کی موت واقع ہو جائے تو ہسپتال ذمّہ دار نہیں ہوگا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر346 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ پڑھ کر سلطان بھائی کا چہرہ سفید ہوگیا۔ انہوں نے گھبرا کر ڈاکٹر ڈنلپ کی طرف دیکھا۔

وہ بولے ’’یہ رسمی کارروائی ہوتی ہے۔‘‘

’’ڈاکٹر! یہ تو بہت خطرناک بات ہے۔ میں اپنی والدہ سے پوچھے بغیر سائن نہیں کر سکتا۔ ‘‘

ڈاکٹر نے کہا ’’آپ فوری طور پر ٹیلی فون کر کے اجازت حاصل کر لیجئے اور یہ بھی یاد رکھیے کہ آپریشن کی صورت میں مریض کے بچنے کے پچیس فیصد امکانات ہیں جب کہ دوسری صورت میں ایک فیصد بھی نہیں ہیں۔‘‘

ہم تو غنودگی کے عالم میں تھے۔ یہ سب باتیں ہمیں بعد میں معلوم ہوئیں۔ بہرحال امّاں نے دل تھام کر آپریشن کی اجازت دے دی اور خود جائے نماز‘ قرآن شریف اور تسبیح لے کر بیٹھ گئیں۔

علی الصبح ہمارا آپریشن ہونا طے پایا۔ رات گئے ہمیں آپریشن کیلئے تیار کرنا شروع کر دیا گیا تھا۔ ہمارا چھوٹا بھائی عمران بھی پہنچ گیا تھا۔ سب سے بڑے آکا بھائی اور سلطان بھائی بھی ہسپتال میں موجود تھے۔

ہمیں کچھ ہوش آیا تو تمام صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔ کمرے میں اداسی اور خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ ہر شخص چپ چپ اور سہما سہما نظر آ رہا تھا۔ سرگوشیوں میں باتیں ہو رہی تھی۔

ڈاکٹر ولیم نے ہمیں مختصراً تمام صورت حال سے آگاہ کیا اور پھر پوچھا ’’ڈر تو نہیں لگ رہا؟‘‘

ہم نے کہا ’’بالکل نہیں مگر پریشانی ہے؟‘‘

ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ’’یعنی ڈر لگ رہا ہے؟‘‘

ہم نے اس حالت میں بھی ولیم کو لکھنؤ کے بانکے کا لطیفہ سنا دیا جو شدید سردی میں بھی صرف ململ کا کُرتہ پہنے بیٹھے تھے۔ جب ان سے کسی نے پوچھا آپ کو سردی نہیں لگ رہی؟انہوں نے جواب دیا ’’سردی وردی کی تو ایسی تیسی مگر یہ کم بخت کپکپی پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہے۔‘‘

اس کے بعد ہم نے انہیں اپنے ڈر اور پریشانی کا فرق سمجھایا۔ دراصل ہمیں پریشانی یہ تھی کہ اگر ہم انتقال کر گئے تو ہمارے گھر والوں کا کیا ہوگا۔

ڈاکٹر ولیم نے کہا ’’مسٹر آفاقی! ہر ایک کا رکھوالا اللہ ہے اور آپ کو تو خدا نے بھائی بھی دے رکھے ہیں اور اتنے بہت سے رشتے دار اور مخلص دوست بھی ہیں۔ کیا آپ کو اللہ پر بھروسا نہیں ہے؟‘‘

ہم شرمندہ ہوگئے۔ ڈر ہمیں واقعی بالکل نہیں لگ رہا تھا۔ اللہ نے ہمارے دل کو ہر طرح کے خوف سے آزاد کر دیا تھا۔ دل میں یہ خیال تھا کہ اگر اتنی ہی زندگی اللہ کو منظور ہے تو یونہی سہی۔ اللہ میاں سے کوئی بحث تو کر نہیں سکتا۔

ڈاکٹر ولیم کی گفتگو کے بعد ہمارے دل کو سکون مل گیا تھا۔ صرف امّاں کا خیال تھا کہ وہ ہمیں کتنا یاد کریں گی۔ کتنا مِس کریں گی۔ کتنا غم کریں گی۔ اس کے سوا کوئی خیال دل میں نہ تھا۔

جب سب رُخصت ہوگئے تو ہم نے اپنے چھوٹے بھائی عمران کو مختصراً بتایا کہ کِن لوگوں کی طرف ہمارے کتنے پیسے بقایا ہیں۔ یہ بھی بتا دیا کہ ہمیں کِن کِن لوگوں کو کتنے کتنے پیسے دینے ہیں۔ کون سے بینک میں کتنی رقم ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ عمران ہم بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے مگر سب سے زیادہ ذہین اور سمجھدار اور بُردبار بھی ہے۔ اس نے ہماری تمام باتیں بڑے اطمینان سے سنیں۔ کسی قسم کے غم و فکر یا جذباتیت کا اظہار نہیں کیا۔ حالانکہ ہم نے بعد میں سوچا تو خیال ہوا کہ وہ خاصا دل گداز ڈرامائی اور ٹریجڈی سین تھا مگر یہ ڈرامہ عمران پر کوئی اثر نہ کر سکا۔ کم از کم اس نے ہمارے سامنے تو بڑی حقیقت پسندی کا ثبوت دیا تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا یہ ہم نہیں جانتے۔

صبح تک ہر ایک پُرسان حال کو ہمارے آپریشن کی اطلاع مل چکی تھی اور دوست احباب فلم والے اور رشتے دار جوق در جوق ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ ہر کوئی خون دینے کی پیش کش کر رہا تھا۔ ہم ان سب باتوں سے بے خبر تھے۔

آپریشن سے پہلے ہمیں ’’تیاّر‘‘ کیا گیا تھا۔ یہ ایک طبّی اصطلاح ہے۔ اس میں مریض کو بھوکا پیاسا رکھنا بھی شامل ہے اور جسم کے جس حصّے کا آپریشن مقصود ہوتا ہے اس کو صاف کرنا بھی اس تیاّری کا ایک حصّہ ہوتا ہے۔

ہمیں بے ہوشی کا انجکشن تو دیا گیا تھا مگر مقامی طور پر بھی پیٹ کو سُن کر دیا گیا تھا۔ ہمیں وہ سب کچھ بخوبی یاد ہے۔

کمرے سے آپریشن تھیٹرلے جاتے وقت ہمارا ذہن نارمل تھا اور ہم خلاف توقّع مطمئن پُرسکون اور خوش مزاج تھے حالانکہ عام حالات میں ہم ذرا سی بات سے گھبرا کر نروس ہو جاتے ہیں۔ یہ شاید دوائیوں کا اثر تھا۔

ہمیں سٹریچر کے ذریعے تھیٹر لے جایا گیا حالانکہ ہمارا اصرار تھا کہ ہم خودبھی چل کر جا سکتے ہیں۔ آپریشن ٹیبل پر لٹانے کے بعد ڈاکٹر اور نرسیں اِدھر اُدھر مصروف ہوگئے اور ہم خاموش لیٹے ان کی باتیں سنتے رہے یا چھت کو تکتے رہے ۔ان کی گفتگو ہمارے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔ ڈاکٹری اصطلاحات تھیں جو ہماری سمجھ سے باہر تھیں۔ اتنی دیر میں ہمارے اوپر غنودگی سی طاری ہوگئی۔

ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے ہم بادلوں میں گِھرے ہوئے ہیں۔ بادلوں میں سے اچانک ایک چہرہ نمودار ہوا جس نے سر پر کپڑے کی ٹوپی پہن رکھی تھی اور ناک پر ڈاکوؤں جیسا نقاب باندھ رکھا تھا۔ یہ شکل دیکھ کر ہم دل ہی دل میں ہنسے پھر اچانک ہمیں خیال آیا کہ شاید ہم مر چکے ہیں اور عالم بالا میں کوئی فرشتہ ہم سے حساب کتاب لینے آیا ہے۔

فرشتہ جب بولا تو ایسا لگا جیسے میلوں دور سے ایک گونج دار آواز سنائی دے رہی ہے۔ فرشتے نے انگریزی میں بھرائی ہوئی آواز میں ہم سے پوچا ’’تم کیا محسوس کر رہے ہو‘‘

ہم نے جواب دیا بہت اچھّا مگر یہ صرف ہمارا ذہنی جواب تھا ہمارے منہ سے کوئی آواز نہیں نکلی تھی۔ ہم سوچنے لگے کہ فرشتہ انگریزی کیوں بول رہا ہے؟ کیا یہاں کی سرکاری زبان انگلش ہے؟ پھر ہمیں یوں لگاجیسے ہمارے پیٹ پر کوئی انگلیوں سے لکیریں کھینچ رہا ہے حالانکہ کہ اس وقت نشتر سے ہمارا پیٹ چاک کیا جا رہا تھا مگر ہمیں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ (جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر348 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ