’’امرودوں کے شہر شرقپور کو گواسٹی کا درجہ دیکر جدید ٹیکنالوجی مہیا کی جائے‘‘ ممتاز زمیندار ملک محمد اسحاق

’’امرودوں کے شہر شرقپور کو گواسٹی کا درجہ دیکر جدید ٹیکنالوجی مہیا کی ...
’’امرودوں کے شہر شرقپور کو گواسٹی کا درجہ دیکر جدید ٹیکنالوجی مہیا کی جائے‘‘ ممتاز زمیندار ملک محمد اسحاق

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (زرعی رپورٹر)’’شرقپور امرودوں کے باغات کی وجہ سے گوا سٹی کادرجہ رکھتا ہے لیکن حکومت نے اس شہر کو عمدہ ترین اجناس کی پیداوار کے اعتبار سے ترجیح نہیں دی۔شرقپور کا امرود ملک بھر میں مقبول ہے اس لئے امرود کے گودے اور جوس کو محفوظ کرنے کے لئے کاشتکاروں کو جدید سہولتیں فراہم کی جائیں‘‘موضع ملہی والا شرقپور کے ترقی پسند زمیندار ملک محمد اسحاق نے ڈیلی پاکستان آن لائن کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرقپور کے امرودوں کے باغات کی دیکھ بھال اور ان کو موسمی کیڑوں سے بچانے کے لئے حکومت کو فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔اگرچہ محکمہ کی جانب سے گاہے گاہے ایسی نوید سنائی جاتی ہے کہ باغبانوں اور کاشتکاروں کو جدید سہولتیں فراہم کرکے پھلوں اور اجناس کی پیداوار بڑھانے میں مدد دی جائے گی لیکن یہ سب زبانی جمع خرچ ہے۔انہوں نے بتایا کہ شرقپور میں سال میں دوبار امرود کا پھل لگتا ہے۔ایک سردیوں میں اور ایک بار گرمیوں میں ، گرمی کے موسم میں فروٹ فلائی امرود پر حملہ آور ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے پھل میں کیڑا لگ جاتا ہے،محکمہ کو کئی بار تجویز دی گئی ہے کہ جسطرح چین اور انڈیا میں پھلوں کو فروٹ فلائی سے بچانے کے لئے نیٹ (جالی ) کا استعمال کیا جاتا ہے اسی طرز پر یہاں بھی زمینداروں کو سستے پیکج پر نیٹ مہیا کیئے جائیں،اب کچھ خوشحال زمینداروں اور باغبانوں نے اسکا انتظام کرلیا ہے لیکن حکومت کو سب سے پہلے زراعت کے نظریہ اور پالیسی کو عملی طور پر نافذ کرتے ہوئے کسان خوشحالی کا خواب پورا کرنا چاہئے۔

ملک محمد اسحاق نے زرعی یونورسٹی فیصل آبا دسے ہارٹیکلچرل میں ایم ایس سی کررکھی ہے ۔انہوں نے زرعی ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جن ملکوں میں جدید ذرائع کو استعمال کیا جارہا ہے وہی ترقی کی منازل طے کررہے ہیں۔لیکن ہماری حکومتی پالیسیاں کسان دشمنی پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زمینداروں اور باغبانوں کا آڑھتیوں کے ہاتھوں قتل عام ہورہا ہے جو انکی خون پسینے کی محنت کو کوڑیوں میں خریدکر مارکیٹ کرتے ہیں۔اسکی وجہ یہی ہے کہ ناکارہ پالیسیوں کی وجہ سے آڑھتی کلچر کو ختم نہیں کیا جاسکا۔اسکا علاج بھی جدید ٹیکنالوجی کے پاس ہے۔انہوں نے بتایا کہ پھل جب پک جاتا ہے تو باغبان و زمیندار اسکی فوری فروخت کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلہ میں آڑھتی انکی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اگر زمینداروں کو پھلوں کے گودے اور جوس نکالنے کی مشنری مہیا کی جائے تویہ براہ راست جوس و فوڈ فیکٹریوں کو مہیا کیا جاسکتا ہے۔

مزید : کسان پاکستان /علاقائی /پنجاب