انسان ،گدھااور قرآن کی گواہی

انسان ،گدھااور قرآن کی گواہی
انسان ،گدھااور قرآن کی گواہی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انسانوں نے جب متمدن زندگی کا آغاز کیا تو جنگل کے جن باسیوں نے انسانوں کا بھرپور ساتھ دیا ان میں گدھے کا نام بہت نمایاں ہے ۔ انسانی فطرت پر یہ راز اول دن سے آشکارا تھا کہ یہ معصوم اور بے ضر ر جانور باربرداری کے لیے بہترین ذریعہ ہے ۔ چنانچہ تہذیب کی تعمیر اور تمدن کی ترقی میں گدھے کی سامان ڈھونے کی صلاحیت انسان کی بہترین معاون ثابت ہوئی اور مشینوں کے پھیلاؤ سے پہلے تک انسان اور ان کے سامان کو ڈھوکر گدھا تمدن کی تعمیر اور اس کے بقا و استحکام کا ایک اہم ترین حصہ رہا ہے ۔ تاہم باربرداری کے غیر معمولی وصف کے باوجود گدھا انسانوں کے ہاں ’گدھا‘ ہی سمجھا جاتا ہے اور بے جا ہٹ دھرمی اور بے وقوفی کے استعارے کے طور پر اس کا نام استعمال ہوتا ہے ۔

بے وقوفی کی تعبیر کے لیے گدھے کے استعارے کا پس منظر تو معلوم نہیں ، لیکن قیاس یہ ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ گدھا انسانوں کے انتہائی قرب کے باوجود بعض دیگر جانوروں کی طرح تربیت یافتہ نہ ہو سکا۔ وہ ہزاروں برس تک انسانوں کے ساتھ رہ کر بس ایک ڈھونے والا رہا، سمجھنے والا نہ بن سکا۔ وہ کبھی نہ جان سکا کہ کیسی قیمتی اور اہم اشیا ہیں ، جنھیں وہ ڈھوتا ہے ۔ قرآن مجید (جمعہ5:62) کے مطابق گدھے کی یہی مثال ان لوگوں کی ہے جو کتابِ الٰہی جیسی عظیم نعمت کے حامل ہوں ، مگر وہ اس نعمت کو پا کر معرفت، تقویٰ اور حکمت پیدا کرنے کے بجائے فخر اور کفر اور غفلت میں مبتلا ہوجائیں ۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر وہ گروہ گدھے جیسا ہے جو کتاب اللہ کو پائے اور اس کی ذمہ داریوں کو نہ اٹھائے ۔ وہ اسے سمجھے نہ اسے سیکھے ، وہ اس کا علم ہو نہ اس کا عمل، وہ اس کی سیرت ہو نہ اس کا اخلاق۔ یہ گدھے حق کو جھٹلاتے ہیں ، مگر خود کو حق کا سب سے بڑ ا نمائندہ کہتے ہیں ۔ یہ گدھے حاملِ کتاب ہونے پر فخر کرتے ہیں ، مگر اس کا پیغام دوسروں تک نہیں پہنچاتے ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ