’’ قواعد کی پابندی نہ کرنے والی ہاوسنگ سوسائٹیزکو اشتہار بازی سے روکنے کے لئے پنجاب حکومت کو قانون سازی کرنی چاہئے‘‘ محمد نواز غنی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)’’گھروں کی خریداری اور پراپرٹی میں انویسٹمنٹ کرنے والوں کو ہمیشہ ساکھ رکھنے والی رجسٹرڈ اور بڑی ہاوسنگ سوسائٹیزکا رخ کرنا چاہئے۔ قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی نجی ہاوسنگ سوسائٹیز لوٹ مار کا بازار بھی گرم کرتیں اور سادہ لوح لوگوں کو دلکش اشتہاروں کی وجہ سے پھانس کر جمع پونجی سے محروم کردیتی ہیں جس کا تدارک حکومت کو ہی کرنا ہوگا ‘‘. ان خیالات کا اظہار غنی مارکیٹنگ کے چیف ایگزیکٹو محمد نواز غنی نے ’’ ڈیلی پاکستان آن لائن‘‘  کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کئی بار حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی ایسی ہاوسنگسوسائٹی کو اشتہار بازی کی اجازت نہ دی جائے جو تمام ضابطوں پر عمل نہیں کرتی اور اسکے پاس این او سیز  بھی نہیں ہوتےکیونکہ یہاں ایسی سوسائٹیز بھی موجود ہیں جو راتوں رات اپنا نقشہ بدل دیتی ہیں،ضابطوں کی خلاف ورزیا ں کرنے والوں کو کڑی سزا دی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ جن سوسائٹیزمیں قواعد پر عمل نہیں کیا جاتا وہاں  پلاٹوں پر قبضے کرلئے جاتے اور انکے پلاٹ منسوخ بھی کردئے جاتے ہیں،ایل ڈی اے کی منظور شدہ سوسائٹیز میں پلاٹوں پر قبضوں اور ایک ایک فائل کئی لوگوں کو الاٹ ہونے کے واقعات کے بعد لوگوں نے ڈی ایچ اے اور بحریہ کا رخ کیا ہے،اس وقت لاہور میں ڈی ایچ اے اور بحریہ کی مثال سب کے سامنے جہاں کسی کے پلاٹ پر قبضہ نہیں کیاجاتا ۔انہوں نے بتایا کہ1975ء سے لیکر اب تک ڈی ایچ اے میں بہت سے پلاٹ خالی ہیں لیکن کسی کو جرات نہیں ہوتی کہ ان پر ناجائز قبضہ کرے یا کسی فائل میں تبدیلی کرے ،اس اعتماد کی وجہ سے اوورسیز انویسٹرزیہاں اپنا سرمایہ محفوظ سمجھتے ہوئے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی ایچ اے میں ابھی بھی ڈیڑھ کروڑ روپے تک کی سرمایہ کاری سے گھر بنایا جاسکتا ہے ۔

مزید : رئیل سٹیٹ /علاقائی /پنجاب /لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...