دفاع کا موقع دیا جائے،جرح میرے بھائی کریں گے:سعودی داعشی ملزمہ

ریاض(این این آئی)سعودی عرب میں دہشت گردی کے الزامات اور شدت پسند گروپ ’داعش‘سے تعلق کے الزام میں مقدمہ کا سامنا کرنے والی ایک سعودی خاتون نے فوجی عدالت سے انوکھا مطالبہ کردیا۔
عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے شمالی شہر عسیر میں ایمرجنسی سروسز کی مسجد میں دہشت گردی کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے اور دہشت گردوں کو بارودی جیکٹ پہنچانے میں ملوث داعشی ملزمہ نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ اس کے بھائیوں کو اس کے دفاع کا موقع دیا جائے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ کیس کی آئندہ سماعت کے موقع پر اپنے اوپر عائد الزامات کو غلط ثابت کرنے کے لیے بھائیوں کو شواہد پیش کرنے کی ذمہ داری سونپ سکتی ہے۔واضح رہے کہ داعش سے تعلق کے الزام میں گرفتار سعودی خاتون کو الریاض میں قائم ایک فوجی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جوکہ سعودی عرب کی یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ شدت پسند لڑکی کا شوہر بھی ’داعش‘ کا رکن ہے۔ وہ بھی اس وقت سعودی پولیس کی تحویل میں ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کے پراسیکیوٹر جنرل نے داعشی ملزمہ کو کڑی اور عبرت ناک سزا دینے کی سفارش کی ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل کی طرف سے عائد کردہ فرد جرم میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ عدالت ملزمہ کو دہشت گردی میں سہولت کاری، منی لانڈرنگ اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے پر قید، جرمانے اور بیرون ملک سفر پر پابندی کی سزائیں سنائے۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید : عرب دنیا

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...