خیبرپختونخوا کی فرانزک لیبارٹری ، کروڑوں مالیت کی بلڈنگ اور آلات غیر فعال، خالی عمارت 3سالوں سے سٹاف کی منتظر ہے : برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ

خیبرپختونخوا کی فرانزک لیبارٹری ، کروڑوں مالیت کی بلڈنگ اور آلات غیر فعال، ...

پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جنسی زیادتی اور دیگر جرائم کی سائنسی بنیادوں پر تحقیق کے لیے کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی ڈی این اے ٹیسٹنگ لیبارٹری کو قائم ہوئے تین سال ہو چکے ہیں لیکن حکومتی عدم دلچسپی کے باعث یہ تاحال غیر فعال ہے، چار کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی تین منزلہ عمارت اور جدید آلات پر مشتمل لیبارٹری کا قیام سنہ 2014 میں لایا گیا تھا لیکن ماہرین کی تعیناتی میں تاخیر اور حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث یہ لیبارٹری ابھی تک اپنے کام کا باقاعدہ آغاز نہیں کر سکی ہے۔

بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے دارلحکومت میں ڈیپارٹمنٹ آف فورینزک میڈیسن اور ڈی این اے پروفائیلنگ کے نام سے موسوم یہ ادارہ خیبر میڈیکل کالج پشاور کے احاطے میں قائم کیا گیا تھا، نشریاتی ادارے کے مطابق سروے کے دوران لیبارٹری کے تمام سیکشنز میں صرف ایک خاتون اہلکار نظر آئی جبکہ بیشتر کمروں میں جدید آلات بھی دکھائی دئیے۔ لیبارٹری کے ساتھ ایک مردہ خانہ بھی قائم ہے جہاں ایک ہی وقت میں 70 کے قریب لاشیں رکھی جا سکتی ہیں۔ یہ مردہ خانہ خیبر پختونخوا اور پشاور میں دہشت گردی کی کاروائیوں سے ہونے والے جانی نقصانات سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے لیبارٹری کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر حکیم خان آفریدی نے تسلیم کیا کہ کچھ تکینکی وجوہات کی وجہ سے ڈی این اے ٹیسٹنگ لیبارٹری بروقت اپنا کام شروع نہیں کرسکی ہے۔ لیبارٹری کے قیام کے فوراً بعد چند ڈاکٹری تنظیموں کی جانب سے یہاں ہونے والی تعیناتیوں کو عدالت میں چیلنج کیا گیا جس کی وجہ سے دو سال تک ماہرین کی تعیناتی میں تاخیر ہوئی جس کی وجہ سے ابھی تک کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر حکیم خان آفریدی نے کہا کہ اب تمام مسائل حل ہو چکے ہیں اور امید ہے کہ آئندہ دو ہفتوں تک یہاں باقاعدہ کام کا آغاز ہو جائے گا۔ حکومت کی جانب سے ڈی این اے کٹس کی خریداری کے لیے 50 لاکھ روپے کی رقم فراہم کی گئی جس میں آدھی رقم ایک فرم کو پہلے ہی جاری کر دی گئی ہے جس سے 200 کٹس خریدی جا رہی ہیں۔

ڈاکٹر آفریدی کامزید کہنا تھا کہ پشاور کی فرانزک لیب لاہور کی سائنس لیبارٹری سے کسی صورت میں سہولیات میں کم نہیں بلکہ تمام ماہرین اور سہولیات یہاں بھی موجود ہیں تاہم ان کی عمارت بڑی ہے اور ان کی لیب 11 سال پہلے قائم ہو چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہاں کی لیبارٹری فعال ہوتی تو نہ صرف مردان کی اسما کا ٹیسٹ یہاں ہوتا بلکہ اس کی رپورٹ بھی جلدی آ جاتی۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں حالیہ دنوں میں جنسی زیادتی اور خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔عوامی حلقوں اور ذرائع ابلاغ میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس صوبے میں سائنسی بنیادوں پر جرائم کی تحقیقات کیوں نہیں ہو سکتیں؟اسی وجہ سے مردان میں دو ہفتے قبل جنسی زیادتی اور قتل کا نشانہ بننے والی چار سالہ بچی اسما کا ڈی اے این ٹیسٹ کرانے کے لیے ان کے جسم کے نمونے پنجاب کے فورینزک اینڈ سائنس لیبارٹری بھجوائے گئے تاہم ابھی تک اس کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔

مزید : قومی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...