وہ محل جہاں بھوتوں کے لئے 500 کمرے بنوائے گئے، ایسا کیوں کیا گیا؟ اس کی حقیقت جان کر ہی آپ کانپ اُٹھیں گے

وہ محل جہاں بھوتوں کے لئے 500 کمرے بنوائے گئے، ایسا کیوں کیا گیا؟ اس کی حقیقت ...

لندن(نیوز ڈیسک) اس دنیا میں کروڑوں ایسے غریب ہیں جن کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ برطانیہ میں ایک ارب پتی خاتون نے بھوتوں کی مہمان نوازی کے لئے 500 شاندار کمروں پر مشتمل وسیع و عریض محل تعمیر کروا ڈالا۔ سارہ ونچسٹر نامی اس خاتون کو وہم لاحق ہو گیا تھا کہ طاغوتی طاقتیں اس کے تعاقب میں ہیں اور ان کی نحوست سے بچنے کے لئے اس نے یہ محل تعمیر کروایا۔

سارہ صرف 26 سال کی تھیں جب ان کی شیر خوار بیٹی عینی کی موت ہوگئی۔ پندرہ سال بعد ان کے خاوند ولیم ٹی بی کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے گئے۔ اب دنیا میں ان کا کوئی عزیز باقی نا رہا اور وہ بالکل تنہا رہ گئیں۔ دکھ اور پریشانیاں جب سارہ کی برداشت سے باہر ہونے لگیں تو انہوں نے بوسٹن شہر سے تعلق رکھنے والے مشہور عامل ایڈم کونز نے راہنمائی کے لئے رابطہ کیا۔ ایڈم نے ان کے مسائل کا جو حل بتایا وہ عجیب و غریب تھا، اتنا عجیب کہ اس حیرتناک کہانی کو اب ایک فلم کی شکل دی جاچکی ہے۔

سارہ بہت امیر کبیر خاتون تھیں۔ ان کے خاوند کے اسلحے کے کاروبار سے ان کی دولت میں مزید اضافہ ہورہا تھا۔ ایڈم نے انہیں بتایا کہ ان کی ڈھیروں دولت اور اسلحے کا کاروبار ہی ان کی پریشانیوں کا اصل سبب تھا۔ سارہ کے سسر ’ونچسٹر رائفل‘ نامی عام استعمال ہونے والی بندوق کے خالق تھے اور ایڈم کا کہنا تھا کہ اس رائفل سے آج تک جتنے لوگ ہلاک ہوئے تھے ان کی روحیں سارہ کا تعاقب کررہی تھیں۔ ایڈم نے انہیں بتایا کہ اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ وہ ان میں سے ہر ایک روح کو پرسکون کرنے کیلئے اسے گھر فراہم کریں اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رکھیں ورنہ اسے دردناک موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سارہ نے ایڈم کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے 1884ءمیں سان ہوزے شہرمیں وسیع و عریض قطعہ اراضی خرید ااور اس پر ایک محل کی تعمیر شروع کروادی۔ چند ہی سالوں میں یہ جگہ ایک پراسرار محل کی شکل اختیار کر گئی جہاں بھوتوں کے لئے قطار اندر قطار کمرے تعمیر کئے گئے۔ اوپر تلے کمروں اور بھول بھلئیوں جیسی راہداریوں نے اس محل کو بہت ہی آسیب زدہ صورت والی جگہ بنا دیا۔

اس گھر میں مجموعی طور پر 500 سے زائد کمرے تعمیر کئے گئے اور اس کی سات منزلیں ہیں جن کی راہداریاں تنگ و تاریخ اور سیڑھیاں خطرناک انداز میں بنائی گئی ہیں۔ سارہ ہر رات ایک مختلف کمرے میں گزارتی تھی اور اس کا یہ محل اس قدر پیچیدہ تھا کہ ملازمین کو اس کے مختلف حصوں میں جانے کے لئے ایک نقشے سے مدد لینا پڑتی تھی۔

جب سارہ کی 82 سال کی عمر میں موت ہوئی تو ان کی بھانجی نے اس گھر کو خالی کروایا۔ کہتے ہیں کہ اس مقصد کے لئے چھ ٹرک مسلسل ایک ہفتے کے لئے استعمال کئے گئے تب کہیں جاکر سارا سامان یہاں سے نکالا جاسکا۔ اس پراسرار محل اور اس کے پیچھے چھپی داستان پر بنائی گئی فلم ”ونچسٹر“ کل (بروز جمعہ) ریلیز کی جارہی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...