بھارتی حکومت کو ہلا کر رکھ دینے والا یہ فوجی تیج بہادر تو آپ کو یاد ہوگا، اب اس کے خلاف تحقیقات مکمل ہوگئیں اور ایسا انکشاف سامنے آگیا کہ بھارتی حکومت پوری دنیا کے سامنے شرم سے پانی پانی ہوگئی

بھارتی حکومت کو ہلا کر رکھ دینے والا یہ فوجی تیج بہادر تو آپ کو یاد ہوگا، اب ...

نئی دلی(نیوز ڈیسک) ویسے تو بھارتی فوج کی شرمندگی کی داستانیں بے شمار ہیں لیکن اس کے اپنے ہی اہلکار تیج بہادر نے اسے جس طرح ذلیل کیا اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ چندماہ قبل جب اس فوجی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں بتایا کہ سرحد پر تعینات بھارتی فوجی بھوکے مررہے ہیں تو پورے ملک میں ہنگامہ برپاہوگیا۔ اتنی بڑی رسوائی کے باوجود بھارتی دفاعی حکام نے شرمندہ ہونے سے انکار کر دیا اور الٹا تیج بہادر پر الزام لگادیا کہ اس نے کسی بیرونی طاقت کی ایماءپر یہ کام کیا ہے۔ اس کے بعد تو بیچارے تیج بہادر کی زندگی عذاب ہوگئی۔ اسے نوکری سے نکال دیا گیا اور اس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔ اب یہ تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بار پھر بھارتی دفاعی حکام کے لئے شرمندگی کا سامان پیدا ہو گیا ہے کیونکہ تمام تر کوشش کے باوجود تیج بہادر کا کسی بھی بیرونی طاقت سے رابطہ ثابت نہیں کیا جاسکا۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق تیج بہادر کی ویڈیو سامنے آتے ہی اسے فوج سے نکال دیا گیا تھا اور بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے اس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا تھا۔ تیج بہادر نے اپنی برطرفی کے فیصلے کو بے انصافی قرار دیتے ہوئے پنجاب اور ہریانہ کی ہائیکورٹ سے رابطہ کرلیا تھا۔ عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ تیج بہادر کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس، کال ریکارڈز اور دیگر تمام معاملات کی تحقیقات کی گئی ہیں لیکن اس کا کوئی بھی بیرونی رابطہ ثابت نہیں ہوسکا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کو بھی تسلیم کرلیا گیا ہے کہ اس کے اقدام کو بھارت کے قومی مفاد کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

تیج بہادر کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اس کے مﺅکل نے یہ ویڈیو فوجیوں کو دی جانے والی خوراک کے ناقص معیار کو اعلیٰ افسران کے سامنے رکھنے کے لئے بنائی تھی لیکن اس کے ایک دوست نے یہ ویڈیو فیس بک پر اپ لوڈ کردی۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ جب ویڈیو سوشل میڈیا پر عام ہونے کے بعدتیج بہادر کو اس کے اعلیٰ افسران نے بلایا اور ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کو کہا تو اس نے بتایا کہ اسے معلوم نہیں سوشل میڈیا پر ویڈیو اپ لوڈ یا ڈیلیٹ کیسے کی جاتی ہے۔ یہ جواب سننے کے بعد اس کے افسران نے اے ایس آئی جے چند نامی اہلکار کو اس کا سوشل میڈیا اکاﺅنٹ کھول کر ویڈیو ڈیلیٹ کروائی۔

ویڈیو کے سامنے آنے کے فوری بعد ہی اسے نوکری سے نکالنے کا حکم بھی جاری کردیا گیا تھا۔ اب دیکھنا ہو گا کہ الزامات غلط ثابت ہونے پر اسے نوکری پر بحال کیا جائے گا یا فوجی حکام ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے خلاف کوئی نیا کیس بنا دیں گے۔

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...