لاہور بار کے نومنتخب صدر ملک ارشد نے بھی سیشن کورٹ کی سیکیورٹی کوانتہائی ناقص قرارد ے دیا

لاہور(کامران مغل)لاہور بار کے نومنتخب صدر ملک ارشد نے بھی سیشن کورٹ کی سیکیورٹی کوانتہائی ناقص قرارد ے دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی موجودہ سیکیورٹی وکلاءججز اور سائلین کے لئے رسک ہے ۔پولیس کی ناقص سیکیورٹی سے کے باعث سیشن عدالت میں آنے والوں کی زندگیاں بھی داﺅ پر لگ گئی ہیں ،ایک روز قبل ہونے والے سانحہ کے باعث وکلاءمیں خوف وہراس پایا جارہا ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیشن کورٹ سمیت ماتحت عدالتوں کی اوروکلاءکی سیکیورٹی فول پروف بنائی جائے ۔

تفصیلات کے مطابق یاد رہے کہ سیشن کورٹ میں اس سے قبل بھی قتل وغارت کے متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں سال 15جون 2013ءکو سیشن کورٹ میں ناقص سیکیورٹی ہونے کی وجہ سے ایڈیشنل سیشن جج صادق مسعود کی عدالت میں گھس کرملزم سابق پولیس اہلکارشہبازنے اپنے بھائی ودیگرساتھیوں کی مدد سے اپنے مخالفین کے 2افرادکوقتل جبکہ 2افرادکو زخمی کردیاتھاجس کے 3روززبعد 24جون 2013کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور نذیر احمد گجانہ نے ناقص سیکیورٹی کے سبب کارروائی کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز کو حکم دیا تھا کہ سیشن کورٹ میں تعینات پولیس اہلکاروں کو تعداد کو بڑھا کر سیکیورٹی فول پروف بنائی جائے لیکن پولیس ناقص سیکیورٹی کے باعث دوبارہ پھر27جون 2013کو ہی ایڈیشنل سیشن جج عبدالقیوم خان کی عدالت میں پیش ہونے والے ملزم قیدی افتخار بابر جسے پولیس اہلکار کانسٹیبل عبدالرشید اور گن مین حبیب بخشی خانے سے نکال کر لے جارہے تھے کہ ایک بارپھر2ملزمان مزمل اور رمضان نے دوپہر 12:25کے قریب افتخار بابر پر کلہاڑیوں کے وار کر کے اسے شدید زخمی کردیا اوراس کے کندھوں اور بازوﺅں پر وار کر کے لہولہان کردیا اور اس کاہاتھ کلائی سے کاٹ ڈالا تھا۔اس حوالے سے لاہور بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر ملک ارشدنے پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیشن کورٹ کو فراہم کی جانی والی موجودہ پولیس سیکیورٹی انتہائی ناقص ہے جس کا پول ایک روز قبل دوہرے قتل سے کھل کرسامنے آگیا ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ واک تھرو گیٹس بھی ناکارہ ہیں ، اس کے علاوہ موجودہ نفری بھی سیشن کورٹ کی سیکیورٹی کے لئے ناکافی ہے ،اسی وجہ سے وکلا ، ججز اور سائلین کے زندگیاں ناقص سیکیورٹی کے سبب داﺅ پر لگی ہوئی ہیں ،انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ماتحت عدالتوں اوروکلاءکی سیکیورٹی فول پروف بنائی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہوسکے ۔اس کے علاوہ سابق سیکرٹری لاہوربار کامران بشیر مغل اوردیگروکلاءمدثر چودھری، مرزا حسیب اسامہ اورمجتبی چودھری نے سیکیورٹی کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سیشن کورٹ میں قتل وغارت کے واقعات ناقص سیکیورٹی کے باعث ہی رونما ہوتے ہیں تاہم اگر پولیس اپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے سرانجام دے تو کافی حد تک ایسے واقعات کے رونما ہونے سے بچا جاسکتا ہے ۔اس حوالے سے صوبائی دارالحکومت کی بھی ماتحت عدالتوں میں فائرنگ کے المناک واقعات سے قیدیوں کے قتل سمیت متعدد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ سیشن کورٹ لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں پر مامور پولیس اہلکاروں کی جانب سے بھی سیکیورٹی کے ناقص انتظامات ہونے کے باعث جج صاحبان ،عدالتی عملے اور وکلاءسمیت وہاں موجود درجنوں سائلین کی زندگیاں داﺅ پر لگی ہوئی ہیں ۔ماتحت عدالتوں میں آئے روز ملزمان کی فائرنگ سے قیدیوں کے قتل اور زخمی ہونے جیسے المناک واقعات رونما ہورہے ہیں۔وکلاءکامزیدکہنا ہے کہ سیشن کورٹ کے داخلی اور خارجی راستوں پر مامور پولیس اہلکاروں کی جانب سے سیکورٹی کے انتہائی ناقص انتظامات اور سیکیورٹی پر تعینات اکثر پولیس اہلکار وں کی جانب سے ڈیوٹی سرانجام دینے کی بجائے خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں ۔دوسر ی جانب لاہور بار ایسوسی ایشن کے نو منتخب صدر ملک ارشدنے بھی سیشن کورٹ میں تعینات سیکیورٹی پر تحفظات کا اظہار کردیاہے اورسیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کو سیشن کورٹ کے لیے ناکافی قرار دیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیشن عدالت کے داخلی راستوں پر آنے جانے والوں کی چیکنگ کا انتظام تسلی بخش نہیں ہے۔سیشن عدالت میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں وکلاءبراداری کومقدمات کی سماعت کے لیے پیش ہونا پڑتاہے اور اس موقع پر جیلوں سے لائے گئے ملزمان بھی عدالتوں میں پیش کیے جاتے ہیں تاہم ملزمان سے ملاقات کے لیے ان کے متعدد رشتہ دار بھی سیشن عدالت میں پہنچ جاتے ہیںتاہم اس موقع پر عدالت میں سیکیورٹی انتہائی ناقص ہونے کی وجہ سے ہزاروں وکلاءکے ساتھ ساتھ روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں پیشی پرآئے ملزمان اورانکی ملاقات کے لیے آنے والے رشتہ داروں کی زندگیاں خطرات میں پڑی رہتی ہیں۔اس حوالے سے عدالت میں آنے والے سائلین ندیم، جعفر، ثاقب ،مدثر نواب ،علی رضوی وغیرہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیشن عدالت میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر تعینات کی گئی سیکیورٹی انتہائی ناقص ہے اور جو ہے وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اکثر اوقات پولیس اہلکار عدالت میں آنے والے افراد کو چیک کرنے میں سستی اور کوتاہی برتتے ہیں تاہم متعدد موبائل فونز پر گپیں لگانے میں مصروف رہتے ہیں ۔واضح رہے کہ بدھ کے روزسیشن عدالت میں مخالف فریق کی سرعام فائرنگ کے نتیجے میں قتل کیس کی پیشی بھگتنے کے لئے آنے والا ملزم ملک امجد گجر اور پولیس کانسٹیبل آصف اقبال ہلاک ہو گئے تھے۔ایڈیشنل سیشن جج عمران شفیع کی عدالت میں پولیس نے قدیر قتل کیس میں ملزم ملک امجد کو جیل سے لا کر عدالت میں پیش کیا گیاتھاملزم جیسے ہی پیشی بھگت کر عدالت سے باہر نکلے تو مخالف فریق کی فائرنگ سے مذکورہ بالا سانحہ رونما ہوا ۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...