اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 88

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 88
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 88

  

حامد اسود بیان کرتے ہیں کہ مَیں ایک مرتبہ حضرت ابو اسحق ابراہیمؒ کا ہم سفر تھا۔ ہم ایک ایسے مقام پر جا پہنچے جہاں کثرت کے ساتھ سانپ تھے۔ ہم ایک پہاڑ کی کھوہ میں مقیم ہوگئے اور جب رات کو سانپ اپنے سوراخوں سے باہر نکلے تو مَیں نے آپ کو آواز دی۔

آپ نے فرمایا ’’اللہ کو یاد کرو۔‘‘

چنانچہ مَیں نے اللہ کو یاد کرنا شرو ع کردیا اور جب تمام سانپ اِدھر اُدھر گھوم کر اپنے سوراخوں میں واپس چلے گئے تو صبح کے وقت مَیں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا سانپ آپ کے قریب کنڈلی مارے بیٹھا ہے۔

مَیں نے آپ سے عرض کیا ’’آپ کو اس موذی کی خبر نہیں۔‘‘

اس پر آپ نے فرمایا ’’آج کی رات سے زیادہ افضل میرے لیے اور کوئی رات نہیں گزری اور صدحیف ہے اس شخص پر جو ایسی افضل رات میں خدا کے سوا کسی دوسری چیز سے خبردار ہو۔‘‘

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 87 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

**

حضرت شیخ نصیر الدین محمودؒ فرماتے ہیں کہ وہ بدایون کے ایک موضوع ترک لئی میں مقیم تھے۔ ایک دن حضرت مولانا مخلص الدین اپنے شاگردوں کے ساتھ سیر کو جارہے تھے۔ راستے میں آک کے پودوں پر ڈوڈے لگے ہوئے نظر آٗے۔ شاگردوں نے ان کو توڑ لیا او رہاتھ میں لیے ہوئے آئے۔مولانا نے دیکھا تو کہا ’’تمہارے ہاتھ میں ککڑیاں ہیں۔‘‘

شاگردوں نے عرض کیا ’’نہیں، آک کے پھل ہیں۔‘‘

شاگردوں نے عرض کیا ’’مولانا! ہم نے تو خود اپنے ہاتھ سے توڑے ہیں۔ یہ آک کے پھل ہیں۔ یہ ککڑی کا موسم نہیں ہے۔ آپ کیسے فرماتے ہیں؟‘‘

مولانا نے فرمایا ’’میرے پاس لاؤ۔‘‘

شاگردوں نے مولانا کے ہاتھ پر وہ پھل رکھ دئیے۔ مولانا نے چاقو نکال کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے سب کو تقسیم کیے۔ جو کھایا تو واقعی ککڑی تھی۔

***

شیخ نصیرالدین محمودؒ فرماتے ہیں کہ اَودھ میں ایک بزرگ رہتے تھے۔ وہ بیمار ہوگئے اور ان کی حالت ایسی ہوئی کہ کفن دفن کی تیاری ہونے لگی۔

مولانا داؤدؒ اور مولانا رضی الدین منصورؒ دونوں ان کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اب ہم آگئے ہیں۔ جب تک صحت نہ ہوگی ہم آپ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ اس کے بعد مولانا رضی الدین منصورؒ نے مولانا داؤد سے کہا ’’مریض کی ایک طرف آپ لیجئے اور دوسری طرف مَیں لیتا ہوں۔‘‘

اس پر مولانا داؤدؒ نے سر کی جانب کا حصہ لیا اور مولانا رضی الدینؒ نے پاؤں کی جانب کا۔ چنانچہ دونوں بزرگوار بیٹھ گئے اور کچھ پڑھا۔ پھر یہ اُٹھے اور اس مریض کا ہاتھ پکڑ کر کہا ’’اُٹھو‘‘

وہ اسی وقت اُٹھ بیٹھے اور صحت یاب ہوگئے۔

***

ایک دن حضرت امیر خسروؒ نے حضرت محبوب الہٰیؒ کی خدمت میں ایک شعر پیش کیا۔ حضرت نظام الدین اولیاءؒ شعر سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا ’’بولو کیا مانگتے ہو؟‘‘

امیر خسروؒ نے عرض کیا ’’دعا فرمائیں کہ میں شیریں سخن ہوجاؤں۔‘‘

حکم ہوا ’’چار پائی کے نیچے شکر کا طشت رکھا ہے۔ اس میں سے کچھ شکر کھالو اور کچھ اپنے سر پر ڈال لو۔‘‘

امیر خسروؒ نے اس حکم کی تعمیل کی۔ اس کے بعد وہ دنیا بھر میں شیریں سخن اورشاعر بے بدل تسلیم کیے گئے۔

***

ایک دفعہ حضرت مولانا رومؒ کی زوجہ کرا خاتون نے اپنی لونڈی کو سزا دی۔ اتفاق سے مولانا بھی اسی وقت آگئے، زوجہ پر سخت ناراض ہوئے اور اس سے فرمایا کہ اگر وہ آقا ہوتی اور تم اس کی لونڈی تو تمہاری کیا حالت ہوتی۔ پھر فرمایا کہ درحقیقت تم نسل انسانی ہمارے بھائی بہنیں ہیں۔ کوئی شخص خدا تعالیٰ کے سوا کسی کا غلام نہیں۔ اس پر کراخاتون نے اسی وقت لونڈی کو آزاد کردیا۔ اس کے بعد جب تک وہ زندہ رہیں، غلاموں اور کنیزوں کو اپنے جیسا کھلاتی اور پہناتی رہیں۔

***

ایک مرتبہ حضرت عبدالقادر جیلانیؒ مسجد میں بیٹھے وعظ کہہ رہے تھے کہ اسی دوران میں آپ کو چھینک آئی۔ آپ نے الحمد للہ کہا۔ لوگوں نے اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہا۔ تو مسجد لوگوں کے مجمع کی وجہ سے گونج اُٹھی۔

خلیفہؒ بغداد نے جو اس وقت وہاں موجود تھے۔ حیرت سے پوچھا ’’یہ کیا ہوا؟‘‘

جواب ملا کہ سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ کو چھینک آئی اور لوگوں نے اس کا جواب دیا ہے اس پر خلیفہ بغداد نے کہا ’’اصل میں حکومت تو یہ ہے۔‘‘

***

حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کے والد محترم جناب ابو صالحؒ تھے۔ آپ نہایت متقی، عابدو زاہد اور ایک پرہیز گار بزرگ تھے۔

ایک مرتبہ نہر میں بہتا ہوا سیب آپ کے ہاتھ آگیا۔ سیب نہایت خوش رنگ تھا۔ طبیعت چاہی چنانچہ کھالیا مگر کھاتے ہی معاً خیال آیا کہ معلوم نہیں، یہ کس کے باغ کا سیب ہے۔ باغبان کی اجازت کے بغیر کھانا ’’اکل حلال‘‘ نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ آپ نہر کے کنارے سیب کے مالک کی تلاش میں چل پڑے۔ بالآخر ایک باغ میں پہنچ گئے اور وہاں آپ نے اس باغ کا صحیح اندازہ لگالیا کہ یہ سیب اسی باغ کا ہے۔ اس باغ کے مالک جناب عبید اللہ صومعیؒ تھے۔ آپ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ عرض کرکے معافی کے خواست گار ہوئے۔ آپ انہیں دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ یہ ضرور کسی اعلیٰ خاندان کا چشم و چراغ ہے۔

جناب سید عبید اللہ صومعیؒ نے آپ سے فرمایا ’’آپ کو معافی اس شرط پر مل سکتی ہے کہ آپ میری اندھی، گونگی، اپاہج اور بہری بیٹی کو اپنی بیوی بنانا قبول کرلیں۔ آپ نے منظو رکرلیا۔ چنانچہ شادی ہوگئی۔

جب حجلہ عروسی میں پہنچے تو وہاں ایک صحت مند اور حسین و جمیل عورت کو پایا۔ سخت پریشانی ہوئی۔ قریب تھا کہ کسی الجھن میں پڑجاتے کہ آپ کے خسرنامدار نے اس الجھن کو رفع کردیا۔ فرمایا

’’ہاں، یہی تمہاری بیوی ہے۔ مَیں نے جو کچھ کہا تھا وہ درست ہے۔ میرا مطلب ان باتوں سے یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میری بیٹی ایسی تربیت یافتہ ہے کہ احکام الہٰی کے خلاف کبھی بھی شیطان کے بہکائے نہیں بہک سکتی۔‘‘

یہ بی بی جناب فاطمہ اُم الخیر تھیں جن کی آغوش محبت میں جناب سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ نے پرورش و تربیت پائی۔(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 89 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے