اصلی شاہراہ ریشم،مزار شریف کو پشاور سے ملائیے

اصلی شاہراہ ریشم،مزار شریف کو پشاور سے ملائیے
اصلی شاہراہ ریشم،مزار شریف کو پشاور سے ملائیے

  

شاہراہ ریشم کا نعرہ آج کل ہمارے ہاں عام ہے۔ تقریروں میں اجلاسوں میں اور حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں میں پارٹیوں میں شاہراہ ریشم کے چرچے میں لیکن کیا اس پر کام ہورہاہے۔ یا کیا کوئی اس پر غور و فکر کررہا ہے۔ پاکستان ایک جغرافیائی طور پر سٹریٹجک حیثیت رکھنے والا ملک ہے لیکن کیا ہم اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ نہیں بالکل نہیں ہم توجہ ہی نہیں دے رہے۔ ہمارا قبلہ و کعبہ اب بھی امریکا ہے اور مغربی یورپ ہے۔ ہم اب بھی ان کی طرف دیکھتے ہیں اور ان کے احکامات قبول کرتے ہیں، اپنی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔

ذرا غور سے دیکھئے، بھارت نے اپنی بندرگاہوں کو ایران کی بندرگاہوں سے ملا کر اپنا کاروبار وسطی ایشیا تک پھیلادیا ہے۔ ایران کی بندرگاہوں سے بذریعہ ریل اور سڑک مال وسطی ایشیا کے ہر ملک تک جارہا ہے بلکہ چین کے مغربی حصے تک یہ ریل گاڑیاں اور سڑک پہنچ رہے ہیں۔ اسی طرح تیل او رگیس حاصل کرنے کے لئے بھارت دنیا بھر سے معاہدے بھی کررہا ہے اور اس کی بندرگاہیں سب کچھ وصول کررہی ہیں۔ وہی امریکا جو آپ کا سٹریٹجیکل پارٹنر ہے آپ کا دوست ہے وہ آپ کی دم پر پاؤں رکھ کر دبا دیتا ہے اور کہتا ہے آپ نے ا یران سے نہ تو تیل لینا ہے اورنہ ہی کاروبار کرنا ہے جبکہ بھارت کو تیل لینے بلکہ کاروبار کرنے اور ایران کے ساتھ عالمی پیمانے کے ادارے بنانے، بندرگاہیں بنانے، ریلوے لائنیں بچھانے اور سڑکیں بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ آپ سورہے ہیں اور بھارت ایران کو افغانستان سے او ربذریعہ سڑک اور ریل اپنی بندرگاہوں سے بھی ملارہا ہے۔ بھارت، ایران اور وسطی ایشیا اتنی تیزی سے اور خاموشی سے جھپی ڈال رہے ہیں کہ آپ جو کہ وسطی ایشیا کا گیٹ وے ہونے کا دم بھرتے ہیں چند سالوں بعد آپ کی وسطی ایشیا میں داستان بھی نہ ہوگی۔

دراصل ہم وسطی ایشیا کو اہمیت ہی نہیں دے رہے یا پھر ہم اس کی حیثیت کو سمجھ ہی نہیں پارہے۔ وسطی ایشیا درصل وہ پلیٹ فارم ہے جہاں سے ہم روس، چین، مشرقی بلکہ مغربی یورپ تک کی مارکیٹوں میں اپنا مال باآسانی پہنچاسکتے ہیں۔ کیا پاکستان میں کوئی جانتا ہے کہ آج چین کے انتہائی مشرقی حصے کی بندرگاہ شنگھائی پر اترنے والا مال بذریعہ ریل وسطی ایشیا کے ہر شہر تک پہنچ سکتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے سابقہ وزیر ریلوے بلور صاحب کابل میں نعرے مارتے رہے کہ ہم افغانستان میں ریلوے کا جال بچھادیں گے جبکہ عمل میں اپنا ریلوے نظام بھی ٹھیک نہ کرپائے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ شنگھائی اور چین کے ہر حصے سے اور روس کے ہر حصے سے ریلوے لائن کا رابطہ افغانستان کے شہر مزار شریف تک ہوچکا ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے پروجیکٹ کے تحت ازبیکستان نے اپنے سرحدی شہر ترمز کو افغانستان کے شہر مزار شریف سے بذریعہ ریل ملادیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ جو اپنی جغرافیائی اسٹریٹجک عقیدت کا چرچا کرتے رہتے ہیں، آپ جو وسطی ایشیا کا گیٹ وے ہونے کا نعرہ مارتے رہتے ہیں وہ سارا معاملہ عمل میں فضول ہے۔

تو آئیے میرے پیارے پاکستانیو ذرا غور سے سنو۔ اگر کچھ کرنا ہے تو کرلو اور وہ صرف ایک چیز ہے اور اسی کو ہم اصل شاہراہ ریشم کہیں گے اور وہ ہے وسطی ایشیا کے ساتھ پانچ شاہراہی شاہراہ ریشم تعمیر کرو۔ یعنی وسطی ایشیا سے ریل، سڑک، ہوا، گیس اور بجلی کی شاہراہیں تعمیر کرو اور یہ سب راستے پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک ازبیکستان، ترکمانستان اور تاجکستان کے ساتھ تعمیر کرو۔ سوچیے کچھ سوچیے آپ فری ٹریڈ ایگریمنٹ ان ممالک سے کررہے ہیں جو آپ سے طاقتو رہیں او ران کی معیشت آپ کے مقابلے میں مضبوط ترین ہے۔نتیجتاً وہ آپ کی مارکیٹ پر چھاجاتے ہیں اور آپ کو کھاجاتے ہیں۔ آپ کو فری ٹریڈ ایگریمنٹ وسطی ایشیا کے ممالک سے کرنا چاہیے تاکہ وہاں آپ کے مال کی کھپت ہوسکے اور وہاں سے آپ کا مال روس اور مشرقی یورپ کی مارکیٹوں میں خود بخود پہنچ جاتے ہیں۔

اس وقت ہم باآسانی ازبیکستان کے ساتھ مزار شریف سے پشاور تک ریلوے لائن بچھاسکتے ہیں، پچھلے دنوں دو اجلاسوں میں موقع ملا کہ پاکستان کے وزیر ریلوے شیخ رشید صاحب کو منایا جائے۔ خوشی ہوئی کہ وہ پاکستان ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتے ہیں اور دونوں ہاتھ کھول کر غیر ملکی انویسٹرز کو ویلکم کرتے ہیں۔ میری شیخ صاحب سے درخواست ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ان کا نام بھی بلور صاحب کی صف میں آجاتے لہٰذا انہیں پاکستان کے مستقبل کے لئے کچھ بڑے اور روشن منصوبے لازمی شروع کرنا چاہیے اور اس معاملے میں کراچی سے پشاور تک ڈبل ٹریک ریلوے لائن بچھانا لازمی ہے، اس معاملے میں چین کی مدد حاصل کرنا چاہیے اور ’’میرے پیارے پاکستانیوں‘‘ کے لئے مستقبل کو روشن بنانا چاہیے۔ چین کی مدد سے ہی ہمیں پاکستان کی بندرگاہوں کو چینی شہر کاشغر سے ملانا چاہیے یہ منصوبہ مشکل ضروری ہے ناممکن نہیں۔

چین نے تبت تک ریلوے لائن بنا کر ثابت کردیا ہے کہ یہ کام بھی ہوسکتا ہے۔ ان دونوں پروجیکٹس کی چین او رپاکستان دونوں کو ضرورت ہے، لہٰذا سی پیک کے تحت یہ بڑے منصوبے مکمل کرنا ہوں گے۔ 

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ مزار شریف کو پشاور سے بذریعہ ریل ملادیا جائے۔ اس معاملے میں فنڈز ADBکے پراجیکٹ CARECکے ذریعے مل سکتے ہیں۔ اس کنسورشیم میں روس، چین اور ترکی کو شامل کیا جانا چاہیے۔ یہ ریلوے لائن بن سکتی ہے لیکن دو شرائط پر ایک تو یہ کہ اس میں امریکی بزنس مین نہ شامل ہوں، دوسری یہ کہ اس کے ساتھ بھارت کو نتھی نہ کیا جائے۔ صرف اسی صورت میں یہ پروجیکٹ مکمل ہوسکتا ہے ورنہ اس کا حشربھی ایران، پاکستان بھارت گیس پائپ لائن والا ہوگا۔ یا پھر ٹاپی اور کاسا ون تھاؤنزنڈ والا ہوگا۔ کہ ان پروجیکٹس کا چرچا تو ہر جگہ اور ہر دم ہے لیکن عمل میں کہیں بھئی کچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ ہمیں افغانستان، پاکستان، روس، چین ، ترکی کا کنسورشیم بنا کر ADB کو شامل کرکے اس پروجیکٹ پر غور کرنا چاہیے۔ تب کہیں یہ پروجیکٹ آگے بڑھے گا۔ اس معاملے میں ترکش ریلوے اہم کردار اد اکرسکتا ہے۔

راقم کوچند ماہ پہلے ترکی جانے کا موقع ملا۔ استنبول، انقرہ اور انرہ، استنبول کا فاسٹ ٹرین سے سفر بھی کیا۔ وہاں کی ریلوے کمپنیاں وہاں کے ریلوے سٹیشن اور ریلوے ٹرینیں بھی دیکھیں۔ ان کے ریلوے کے معیار کو دیکھ کر صرف اسی سوچ کا غلبہ تھا کہ کاش ہمارا ریلوے نظام بھی ایسا ہوجاتے۔ وہاں کی ترکش سٹیٹ ریلوے TCDDکا نظام یورپی ریلوے سے کسی طرح بھی کم نہیں، وہاں ریلوے لوکوموٹو بنانے والی کمپنی TULOMSAS، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ، ڈیزائننگ کرنے والی کمپنی RAYSIMAS اور ریلوے کو چیز جی ہاں بہترین آرام دہ اور جدید ریلوے کو چیز بنانے والی کمپنی TUVOSAS جیسے ادارے پاکستان کے ریلوے نظام میں یورپی کوالٹی لانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ دوسری طرف ہم صرف چین اور امریکا کے محتاج بن کر رہ گئے ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پھر معاملے میں امریکا اور چین پر نہیں بلکہ متبادل ذرائع بھی مہیا کئے جائیں تاکہ ہم کو ڈکٹیٹ نہ کیا جاسکے۔ اس وقت ہمارا ریلوے نظام چین کی ریلوے کمپنیوں اور امریکی جنرل الیکٹرک کا محتاج ہوکررہ گیا ہے اور ظاہر ہے وہ بے وقوف ہوں گے جو کہ ہماری اس محتاجی سے فائدہ نہ اٹھائیں۔ مجھے امید ہے کہ موجودہ ریلوے قیادت دیگر متبادل ذرائع حاصل کرکے موناپلی سے جان چھڑاتے ہوئے اپنے آپ کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی عادت ڈالے گی۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ