سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دیدی

سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کی منظوری ...
سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دیدی

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے وزارت خزانہ کی استدعا کے باوجود بغیروارنٹ منی لانڈرنگ کے شبہ میں گرفتاری کی تجویزمسترد کردی۔

نجی ٹی وی کے  مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ رپورٹ میں چند غلطیاں ہیں جن کی درستگی کے لیے قانون کو دوبارہ زیرغور لایا گیا ،کمیٹی نے منی لانڈرنگ کے شبہ میں بغیر وارنٹ گرفتاری کی تجویز کومسترد کر دیا اور کہا کہ گرفتاری بغیر وارنٹ نہیں ہو سکتی۔ کمیٹی نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو پچاس لاکھ روپے جرمانہ کو بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے اور ملوث افراد کی سزا دس سال تک کرنے کی تجویز منظور کرلی ۔کمیٹی نے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹ کا ڈیٹا پانچ سال کی بجائے دس سال تک رکھا جانے کی تجویزبھی  منظور کرلی ۔کمیٹی نے منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کی جائیداد تحقیقات کے دوران چھ ماہ سے ایک سال تک ضبط کرنے کی تجویز منظور کرلی۔کمیٹی نے منی لانڈرنگ پرقانونی چارہ جوئی کا اختیار تمام تحقیقاتی اداروں کو دینے کی بجائے صرف فنانشل مانیٹرنگ یونٹ تک محددو کردیا۔

مزید : قومی