صنعتی ترقی کیلئے نجی شعبہ کو سستے قرضوں کی فراہمی ناگزیر لاہور چیمبر

صنعتی ترقی کیلئے نجی شعبہ کو سستے قرضوں کی فراہمی ناگزیر لاہور چیمبر

  



 لاہور(لیڈی رپورٹر) لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ اور سینئر نائب صدر علی حسام اصغر نے کہا ہے کہ مضبوط معاشی فریم ورک اور نجی شعبہ و متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی ہی مضبوط معیشت کی ضمانت ہے، صنعت و تجارت سے متعلقہ اداروں کو نجی شعبہ کی ضروریات سمجھنی چاہیئیں تاکہ حکومت کو ملک میں کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مارک اپ کی شرح سوا تیرہ فیصد پر برقرار رکھنے کے معاملے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صنعت سازی کے فروغ اور انہیں وسعت دینے کے لیے نجی شعبہ کو سستے قرضوں کی ضرورت ہے۔ مارک اپ کی زیادہ شرح نجی شعبے میں قرضوں کے حصول کی حوصلہ شکنی کررہی ہے جس سے معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مارک اپ کی موجودہ شرح 13.25فیصد بہت زیادہ ہے جس کا اثر صنعتوں کی پیداواری لاگت پر پڑ رہا ہے، مارک اپ کی شرح سنگل ڈیجٹ تک آنے سے صنعتوں کو فائدہ ہوگا۔اس کے ساتھ ہی حکومت کو صنعتی ترقی کے اہداف حاصل کرنے، پیداواری لاگت میں کمی کرنے اور بینکوں کے سرمائے کو گردش میں رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مارک اپ ریٹ پیداواری لاگت پر اثر انداز ہوتا ہے، پاکستانی مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ میں ان ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ نہیں کر سکتی جن میں مارک اپ ریٹ صفر یا اس سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2018میں مارک اپ کی شرح 6.5فیصد سے بڑھ کر جولائی 2019تک 13.25فیصد تک جا پہنچی۔ اس میں اس قدر اضافہ سے قرضوں کا حصول بہت مہنگا ہو گیا۔

جس نے سرمایہ کاری، پیداوار اور برآمدات کو شدید متاثر کیا۔انہوں نے کہا کہ مانیٹری پالیسی میں سختی سے ہمیشہ صنعتی شعبے کو نقصان ہوا ہے۔ ہمیں ملک کو پیداواری سرگرمیوں اور سرمایہ کا مرکز بنانے کیلئے خطے میں موجود دیگر ممالک کی طرح جلد از جلد اس صورتحال سے باہر آنا ہو گا۔ انہوں نے سٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا کہ آئندہ مونیٹی پالیسی میں مارک اپ کی شرح میں کم از کم چار سو پوائینٹ کمی کا اعلان کریں۔

مزید : کامرس