ای چالان اطلاق اور کارکردگی کے حوالے سے سیف سٹی اتھارٹی سے رپورٹ طلب

ای چالان اطلاق اور کارکردگی کے حوالے سے سیف سٹی اتھارٹی سے رپورٹ طلب

  



لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے نمبر پلیٹ اور گاڑیوں کے کاغذات جاری نہ کرنے پر محکمہ ایکسائز کے خلاف دائردرخواست پرای چالان کے اطلاق اور اس کی کارکردگی کے حوالے سے سیف سٹی اتھارٹی سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نے منسٹری آف ڈیفنس پروڈکشن، چیف سیکرٹری، پپرا بورڈ سے نمبر پلیٹ اور کاغذات جاری کرنے کے ساتھ ساتھ سمارٹ کارڈ جاری کرنے والی کمپنی ان باکس کوبھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیاہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے قراردیا کہ اگر گاڑی کا مالک گاڑی نہیں چلا رہا تو ای چالان اس کو کیوں جائے، چیف سیکرٹری پنجاب محکموں کے درمیان اور صوبائی و وفاقی حکومت کے درمیان رابطوں کو مضبوط کرنے کے لئے اقدامات کریں۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالتی حکم پر سیکرٹری ایکسائز وجیہہ اللہ کنڈی، ڈی جی ایکسائز اور سربراہ سیف سٹی اتھارٹی پیش ہوئے۔سیکرٹری ایکسائز نے عدالت کوبتایا کہ ہم خودکار نظام کے ذریعے پڑھی جانے والی نمبرز پلیٹس بنا رہے ہیں، ڈالر کا ریٹ بڑھنے کی وجہ سے نئی نمبرز پلیٹس کا ٹینڈر منسوخ کر دیا ہے،چیف جسٹس نے سیکرٹری ایکسائز سے استفسار کیا کہ نئی نمبر پلیٹس کب سے جاری ہونا شروع ہو جائیں گی؟جس پر انہوں نے کہا کہ6 ماہ درکار ہوں گے،اس وقت 17لاکھ نمبر پلیٹس کے کیسسز پینڈنگ ہیں۔ ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کو ہم نے کہہ دیا ہے کہ جس کے پاس کمپیوٹرائز نمبر پلیٹس نہیں انہیں نہ پکڑیں، اس وقت 5لاکھ 30ہزار سمارٹ کارڈز پینڈنگ ہیں۔کیس کی مزید سماعت 13 فروری کوہوگی۔

رپورٹ طلب

مزید : پشاورصفحہ آخر