بے تکلف رشتہ

بے تکلف رشتہ

  



یہ بات تو بار ہاسنی تھی کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔تاہم عمر صاحب کو عملی طور پہ اس کا تجربہ اس وقت ہوا جب وہ اپنے شہر کے تھانہ روڈپرواقع بازار پہنچے۔ ننھا حسین بھی اْن کی انگلی تھامے ہمراہ تھا۔

وہ قدم قدم پر کود کود کر ابو کے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے کھینچتا اور روک لیتا۔کھلونوں کی دکانوں سے کبھی ٹریکٹر ٹریلر،کبھی کارتوکبھی گائے بھینسیں اور جنگلی جانور لینے کی ضد کرتا۔ابو جان بیٹے کی تمام تر چھوٹی چھوٹی فرمائشوں کو بڑی فراخدلی سے پورا کررہے تھے۔

اچانک ان کو کچھ یاد آیا اور وہ زیرلب ہی مسکرانے لگے۔وہ تخیل میں 30سال پیچھے چلے گئے تھے۔وہ کھلونوں کی ان دکانوں پہ کھڑے ایک خوشگوار حیرت کے احساس میں مبتلا تھے۔

وہ تخیل کی دنیا سے اس وقت باہر آئے جب حسین نے پوچھا۔”ابوجان!آپ کے مسکرانے اور چہرے پر غیر معمولی خوشی کی وجہ کیا ہے؟“آج شام کے کھانے کے بعد بتاؤں گا،تم مجھے ضرور یا ددلانا۔

ابو جی نے جواب دیا۔حسنین نے بھی یاددہانی کا وعدہ کر لیا۔کھلونے خریدنے سے فراغت پاکر دونوں باپ بیٹا گھر کا راشن خریدنے کریانہ سٹور پہنچے۔عمر صاحب کو اچانک ایک بار پھر سے کچھ خوشگوار سا احساس ہوا اور وہ مسکرائے تو حسین نے پوچھا”ابو جان!اب کیا بات ہے؟“ابوجی نے حسین کو پیارکیا اور بتایا”یہ بھی اْسی بات کا تسلسل ہے جو رات کو آپ کو بتانی ہے“۔

خشک راشن لے کر باپ بیٹا پھل اور سبزی لینے کے لئے متعلقہ دکان پر پہنچے۔عمر صاحب نے دکاندار کو سلام کیا۔ اس کی طرف دیکھا پھر حسین کی طرف دیکھا اور اْن کے ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ بکھرگئی جو دودفعہ پہلے بھی حسین کو دیکھ چکا تھا۔

اب کی بار حسین کا تجسس اور بے قراری بڑھ گئی۔اس نے کہا”ابو جان!کیا یہ بھی اْسی واقعے کا تسلسل ہے جو رات کو سنائیں گے؟“عمر صاحب نے پیار بھری نگاہوں سے حسین کو دیکھا اس کی ذہانت کی بے ساختہ داددی اور بولے”جی بیٹاجی!یہ مسکراہٹ اور خوش گواری بھی اسی چیز کا حسین تسلسل ہے۔“ اب تو حسین کی بے قراری بام عروج پہ پہنچ چکی تھی وہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر ماجرا ہے کیا؟

خریداری مکمل کرنے کے بعد دونوں باپ بیٹا گھر آگئے۔عمر صاحب آرام کی غرض سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔حسین نئے کھلونوں کے ساتھ کھیلنے میں محو ہو گیا،تاہم بازار میں پیش آنے والا واقعہ اور ابو جان کا وعدہ بالکل نہ بھولا۔شام کے کھانے کے بعد ابو جان عشاء کی نماز کے لئے مسجد چلے گئے واپسی پر ننھا حسین اپنی امی جان کے ہمراہ ان کا منتظر تھا۔

ا س کی امی بھی اس عجب اور خوشگوار قصے کو سننے کے لئے بے تاب تھیں۔انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور عمر صاحب کہنے لگے۔”بیٹا!جیسے ہی آج میں اور آپ بازار پہنچے اور اس کے بعد جو ہماری خریداری اور گھومنے پھر نے کی ترتیب رہی وہ بالکل ایسی ہی تیس سال پرانی ایک باپ اور بیٹے کی طرف سے کی گئی خریداری کاپرتو تھی۔

گویا تاریخ اپنے آپ کو دہرارہی تھی۔باقی سب کچھ یکساں تھا بس کردار تبدیل ہوئے تھے۔اس واقعے میں جو لڑکا بیٹا تھا آج وہ باپ کے کردار میں تھا اور ایک کردار جو نیا شامل ہوا تھا وہ تھا بیٹا اور جانتے ہو وہ کون تھا؟“حسین جو بہت ذہین اور حاضر دماغ بچہ تھا فوراً معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا۔

بولا:”جی بالکل ابو حضور!آج سے تیس سال قبل آپ بیٹے کے کردار میں تھے اور دادا حضور مرحوم باپ کے کردار میں۔اور آج والے واقعے کا نیا کردار میں تھا۔“عمر صاحب نے بے ساختہ حسین کی ذہانت کی داددی اور کہا”بالکل اسی طرح میں اپنے ابو حضور کا ہاتھ تھامے کھلونوں کی دکانوں کے سامنے سے گزرتا تھا تو بالکل تمہاری طرح ان کی انگلیاں کھینچ کرروک لیتا تھا اور کھلونے لینے کی ضد کرتا تھا۔وہ بھی مجھے ایسے ہی کھلونے لے کر دیتے تھے جیسے آج میں نے تمہیں لے کر دئیے ہیں۔“حسین کا تجسس ابھی پوری طرح ختم نہ ہوا تھا۔اس نے فوراً اگلا سوال کر دیا”اور جو کریانہ سٹور پر آپ کو ایک خوشگوار احساس ہوا تھا اس کی کیا وجہ تھی؟“ابو جی بولے”معاملہ یہاں بھی یکساں تھا بس کرداروں میں تبدیلی آچکی تھی۔

اس وقت کریانہ سٹورابو حضور کے دوست اللہ دادمرحوم چلایا کرتے تھے اور آج ان کا بیٹا سلیم چلاتا ہے۔ آج دکاندار کی جگہ اس کے بیٹے نے لے لی تھی اور گاہک کی جگہ بھی اس وقت کے گاہک کا بیٹا کھڑا تھا۔

جب ہم سبزی اور پھل کی دکان پرپہنچے تو معاملہ وہاں بھی یکساں تھا بس کرداروں کی جگہ ان کے بیٹوں نے لے لی تھی۔

یہ تمام واقعات تیس برس پرانے واقعات کے عکس تھے۔ میں تاریخ کے اس عجب اور حسین اتفاق پر خوش بھی ہوا تھا اور حیران بھی۔“عمر صاحب کی گفتگو سن کر حسین کی امی کہنے لگیں ”واقعی باپ بیٹے کا یہ رشتہ اتنا ہی پرانا ہے جتنی یہ دنیا اور ان کی دوستی میں عجب بے تکلفی ہوتی ہے۔

ہمیں شکر ادا کرنا چاہئے کہ تاریخ کے اس حسین تسلسل کا حصہ بنے ہیں۔ہر بیٹا اپنے باپ کا پر تو ہوتا ہے۔تاریخ کے یہ اتفاقیہ موڑ خوش قسمت لوگوں کی زندگی میں آتے ہیں۔“

ان کی یہ خوبصورت باتیں سنتے ہوئے سب کی آنکھوں میں خوشی اور تشکر کے آنسو تھے۔

عمر صاحب اور حسین کی امی نے بیٹے کے بہتر مستقبل کے لئے دعا کی اور اسے خوب پیار کیا۔ حسین نے قدرت کا شکرادا کیا کہ”اس نے اسے اس قدر شفیق والدین کی نعمت سے سر فراز کیا“اس نے امی ابو سے وعدہ کیاکہ”وہ ہمیشہ ان کی توقعات پر پورا اترے گا۔“

مزید : ایڈیشن 1