بحران حکومت کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں؟

بحران حکومت کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں؟

  



”حکومت کس طرح چلانی ہے، یہ مشورہ دینے کے لئے بادشاہ سلامت کا نمک خوار ہونا ضروری ہے یا آپ کے مشورے تسلیم کر کے ان پرعمل کیا جا سکتا ہے“۔ یہ موضوع زیر بحث تھا کہ کسی نے بتایا کہ آٹے کے بعد چینی کا بحران آ گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ خبر بھی سامنے آئی کہ چینی کی قلت اور قیمت میں اضافہ کی وجوہات تلاش کرکے حکومت کو رپورٹ پیش کریگی۔ اس سے اختلاف کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ چینی کی قلت اور قیمت میں اضافے کی وجوہات تلاش کرنے والے ناکام ہوں گے۔ حکومت نے دو ”باصلاحیت“ ایسے شوگر مل مالکان کا انتخاب کیا جو بقول اپوزیشن 42فیصد چینی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ آٹے کے بحران کا کھوج لگانے کے لئے بننے والی جے آئی ٹی کے ارکان کوں ہوں گے؟ اس کے لئے مارکیٹ میں بہت سے ماہرین موجود ہیں لیکن پتہ نہیں حکومت کی نظر ان پر کیوں نہیں پڑی۔ جے آئی ٹی کسی فوجداری کیس کی تفتیش کے لئے بنائی جاتی ہے یا کسی بھی نوعیت کے واقعہ کی چھان بین کے لئے بنائی جا سکتی ہے؟۔

اگر کوئی شخص آٹا مہنگا ہونے یا اسے خریدنے کی سکت نہ رکھنے کی وجہ سے بچوں کو زہر دے دے اور بعد میں اس یقین کے ساتھ خود بھی پھانک لے کہ کام تمام ہو جائے گا تو اس کے خلاف پولیس اقدام خود کشی کا مقدمہ درج کر کے اسے فوجداری مقدمہ بنا دے تو پھر جے آئی ٹی بنائی جا سکتی ہے۔ موجودہ حکومت کے سربراہ خلعت سلطانی زیب تن کرنے سے پہلے اپنے سے پہلے حاکموں کے جو نقائص عوام الناس کو گنواتے ہوئے تھکتے نہیں تھے اگر وہ ان میں بھی پائے جاتے ہوں تو کیا ان کو کوئی فرق پڑے گا؟ ہر گز نہیں۔کیوں کہ وطن عزیز کے حاکم عوام کے لئے نہیں بنائے جاتے۔ ان کو کسی بڑے مقصد کے لئے لایا جاتا ہے۔ جب وہ حاصل ہو جائے تو ’اِن ہاؤس‘ تبدیلی بھی لائی جا سکتی ہے۔ بقول حمزہ شہباز ’ہم نے ان ہاؤس تبدیلی کے لئے دروازے کھول دیے ہیں، کوئی چیز غیر آئینی نہیں‘۔ ان ہاؤس تبدیلیوں پر پھر کبھی بات کریں گے۔ حکومت کے اتحادی روٹھ جائیں تو انہیں راضی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے حکومت کے پاس قانون کا ایک نا اہل کردہ ایسا سیاستدان ہے جو ہر مرحلے پے فرنٹ مین رہنا چاہتا ہے۔ ہم ایک ایسے جمہوری ملک کے سیاسی نظام میں حصہ ڈالتے ہیں جہاں قانون کے سزا یافتہ معزز سمجھے جاتے ہیں۔ کیا بات ہے ہماری۔ ان باتوں سے حکومتوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ویسے تو پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے پیشرووں کی طرح میڈیا سیل اور ایڈوائزر بنا رکھے ہیں جو اسے مشورے فروخت کرتے ہیں، لیکن حکومتیں صحافیوں کو مشوروں کے لئے نہیں بلکہ ان کے منہ بند کرنے لئے ہائر کرتی ہیں۔ مشوروں کے لئے بیوروکریسی کے تجربہ کار اور گھاک قسم کے افسران کی ایک فوج موجود ہے۔ جو ملکی خزانے سے تنخواہ بھی لیتے ہیں۔ مشورہ اس کا مانا جاتا ہے جسے آپ اس کیقیمت ادا کرتے ہیں۔ مفت کی دوا تو سنجیدہ مریض بھی استعمال کرنے سے گریز کرتا ہے کہ معلوم نہیں اس سے شفا ملے یا نہ ملے۔

آٹے اور چینی کے بحران سے پہلے ٹماٹر اور ادرک کا بحران تھا وہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ روزانہ آٹا اور چینی خریدنے والوں کو طلب اور رسد یا طلب اور پیدا وار کا مسئلہ قرار دیکر ایک ہفتے میں ذخیرہ اندوزوں اور بلیک میلروں نے اربوں روپے کا ناجائز منافع جیبوں میں ڈال لیا۔ حکومت پھر بھی مضبوط اور پُر سکون ہے۔ یہ معمولی باتیں ہیں۔ یہاں صیح اور غلط کی تعریف آپ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ زبان پر ہے جو جسم کے ہر حصے سے زیادہ تیز چلتی ہے۔

حکومت نے بہت جلد ایک ایسی مشیر دریافت کر لی ہے جس کے بات کرنے سے پہلے اس کی مردانہ باڈی لینگوئج جھوٹ کو آشکار کر دیتی ہے۔فرماتی ہیں ’ٹرنسپیرنسی انٹرنیشنل کو ن لیگ والوں نے سپانسر کر کے پاکستان میں کرپشن کی ریٹنگ کو بڑھا کر پیش کیا ہے تاکہ حکومت بدنام ہو۔ پھر دیگر ممالک میں بھی ایسا ہی کیا گیاہو گا۔ معلوم کرنا چاہئے کہ وہاں ن لیگ ہے؟۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خاں کے دو تین سال پہلے بیانات سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ اس سے حکومت کو کیا فرق پڑے گا؟۔ عوام کرپشن سے نفرت کرتے ہیں نہ حکمران اسے روکتے ہیں۔ ٹرانپیرنسی کی تعریف جن دنوں موجودہ وزیراعظم کرتے تھے آٹے اور چینی کا بحران اس قدر نہیں تھا۔ حکمران یا سربراہ ریاست میں کون سے اوصاف حمیدہ پائے جاتے ہوں تو اسے اس اہل سمجھا جائے گا۔ شاہ ولی اللہ ؒ نے اس مسئلے کا حل بہت مختصر مگر انتہائی جامع حل بتایا ہے۔ فرماتے ہیں ’جو لوگ کسی عہدے کی خواہش کریں انہیں اس کے قریب مت آنے دیں‘۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نا ممکن ہے۔ یہاں خواہشمندان اقتدار کی ایک نہ ختم ہونے والی قطار لگی ہوئی ہے۔

آج پاکستان کا مڈل کلاسیا اپنے آپ کو کوستا ہے کہ جن کو اس نے کندھوں پر اٹھا کر وطن عزیز کے حالات ٹھیک کرنے کے نعرے لگائے تھے وہ تو ڈھنگ سے قومی مسائل کو دنیا کے سامنے رکھنے سے بھی قاصر ہے۔ انہوں نے کشمیر کے بجائے افغانستان کو پہلی ترجیح قرار دیکر پاکستانیوں کی توہین کی۔ حکومت کی ترجیحات کو خبر ناموں کی ترتیب سے جانچا جا سکتا ہے۔ اب کشمیر کاذکر خبر نامے کے آخر میں موسم کی صورت حال سے ذرا پہلے کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں تین چیزوں کی قلت ہر گز نہیں ہونی چاہئے۔ اول انرجی، دوم اشیائے خوردنی اور سوم پٹرل و ڈیزل۔ ان کے بحران سے حکومت گرائی جا سکتی یا گر سکتی ہے؟ حکومت نے کسی اور چیز کی منصوبہ بندی کی ہو یا نہ کی ہو اپنے مدت پوری کرنے کی منصوبہ ضرور کر رکھی ہے۔ آنے والے دنوں میں بلوچستان اور کے پی میں ضرور کچھ تبدیلیاں آئیں گی۔

مزید : رائے /کالم