آپ بے بہرہ ہے جو متقدے میر نہیں

آپ بے بہرہ ہے جو متقدے میر نہیں
آپ بے بہرہ ہے جو متقدے میر نہیں

  



ہمارا ملک پاکستان ایک فلاحی ریاست ہے آئین کہتا ہے کہ عوا م کو بنیادی ضروریات یعنی کھانا، لباس، رہائش، تعلیم اور طبی سہولیا ت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے بات بہت سادہ سی ہے عام انسان کی غذائی ضروریات کیا ہیں؟ آٹا، چاول،گھی، چینی، تیل اور دالیں۔ عوام کو سب سے زیادہ غرض انہی اشیاء کی قیمتوں سے ہے یہ چیزیں سستے داموں مل جائیں تو عوام خوش نہیں تو عوام ناراض پاکستان میں موجود پرائس کنٹرول مکنزم کو دیکھا جائے تووفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی”ECC“نیشنل ٹیرف کمیشن (NTC)اور مسابقتی کمیشن آف پاکستان (CCP) جیسے ادارے اشیاء کی قیمتوں کا تعین، سبسڈیز کی فراہمی اور دیگر امور طے کرتے ہیں۔ دوسری جانب تبدیلی سرکار نے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے بہت سے اقدامات شروع کر رکھے ہیں ان میں وزیر اعظم ہاؤس میں پرائس کنٹرول سیل کا قیام، پنجاب حکومت کی پرائس کنٹرول ٹاسک فورس، فیئر پرائس شاپس کا قیام جہاں چھوٹے کسان بغیر کسی کمیشن کے اپنی اشیاء کی خریدو فروخت کر سکیں۔

پانچ بڑے شہروں میں فوڈ اینڈڈیجیٹل ہوم ڈیلیوری سروس کا آغازاور یوٹیلٹی سٹورز پر 7ارب روپے کی سبسڈی جیسے اقدامات شامل ہیں جس میں 50لاکھ خاندان اور 2کروڑ عوام مستفید ہونگے مگر افسوس یہ تمام حکومتی پروگرام و اعلانات بس کاغذوں اور کمیٹیوں تک محدود ہوکر رہ گئے اور ان کو عملی جامہ نہیں پہنایا جارہا جس کی زندہ مثال یہ ہے کہ 2019ء میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح مجموعی طور پر 12فیصد بڑھی جبکہ سبزیوں کی قیمتوں میں 50سے 80فیصد اضافہ ہوا۔ سوال یہ ہے کہ تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود مثبت نتائج سامنے کیوں نہیں آئے؟حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے پرائس ریویو کمیٹی تو بنا دی مگر آج تک اس کی کارکردگی بارے کچھ نہیں سناایسا کیوں ہے؟ اس کی بڑی وجہ موجودہ حکومت میں گورننس کے سنگین مسائل ہیں۔ حکومت کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ یہ کمیٹیاں اور فیصلے حقیقی عوامی مسائل سے غافل اور پرائس کنٹرول پر موثر کام کرنے سے قاصر ہیں۔کیا آج پنجاب میں پرائس مجسٹریٹس اپنی حقیقی ذمہ داری نبھا رہے ہیں؟آج بھی وہی من مانے نرخوں پر ملاوٹ شدہ چیزیں فروخت ہو رہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ان تمام مسائل سے چھٹکارہ کیسے ممکن ہے؟ حکومت کو کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے؟ سب سے پہلے قیمتوں کے تعین کا نظام اور اشیاء کی دستیابی کو موثر بنانے کیلئے ضلعی سطح پر پرائس کنٹرول اینڈمینجمنٹ کا ایک مضبوط اور خود مختار ڈھانچہ تیار کرنا ہوگاجو فرسودہ نظام سے ہٹ کر صرف پرائسنگ اور دستیابی پر توجہ مرکوز رکھے اور حکومت کو جوابدہ ہو۔

ملک میں ایک مضبوط ڈیٹا بیس تیار کر نا ہوگاجس میں پاکستان کی اس 20فیصد آبادی جو غربت کی لکیر سے نیچے ہے کی تمام معلومات میسر ہوں اور ان تک فوری ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ آج منڈیوں میں طلب اور رسد کے مطابق سپلائی کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اشیاء کی قیمتوں میں یک دم اضافے سے بچا جا سکے۔ پرائسنگ نظام میں آڑھتی مافیا کردار کو منڈیوں میں بولی کے فرسودہ نظام کو ختم کرنے کی ضرورت ہے پاکستان کی مارکیٹوں میں کولڈ سٹوریج جیسی بنیادی ضروریات کا شدید فقدان ہے جس کے باعث خراب ہونے والی اشیاء، دودھ پھل اور سبزیوں کی بڑی مقدار ضائع ہوجاتی ہے اسی حوالے سے حکومت کو فورا سہولیات دینا ہونگی ملک میں نیشنل فوڈ اینڈ ڈیجیٹیل پالیسی بننی چائیے جس میں کسانوں اور عوام یعنی صارفین دونوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔ یوٹیلٹی سٹورکرپشن کی وجہ سے خزانے پر بوجھ بن چکا ہے اس میں کرپشن اور اشیاء کے خرد بردکے سوا کچھ نہیں ہوا یہ ادارہ ریلیف دینے کی بجائے تکلیف دینے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہا اس ادارے کو آرمی کے زیر انتظام چلنے والے سٹور ”CSDُُ“جیسے کامیاب ماڈل میں بدلنے کی ضرورت ہے۔

آج عوام کو عمران خان سے سب سے بڑا شکوہ یہی ہے کہ ملک میں مہنگائی رکنے کانام ہی نہیں لے رہی اور نہ ہی کوئی امید نظر آرہی ہے۔حال ہی میں سٹیٹ بینک نے بھی اپنی سہ ماہی رپورٹ میں صاف نشاندہی کی کہ حکومت کے پاس اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر قابو پانے کا سرے سے کوئی ڈھانچہ موجودہ ہی نہیں۔کھانے پینے کی قیمتوں کا نظام حکومت اور عوام کیلئے چیلینج بن چکا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس سنگین مسئلے کے فوری حل کیلئے ایک مضبوط ڈھانچہ بنائے غریبوں کو فوری سستا غذائی ریلیف پہنچائے جس کا نام بس جلسوں اور کمیٹیوں میں سننے کو نہ ملے بلکہ عملدرآمد ہوتا نظر آئے خان صاحب کواس بارے میں سوچنا ہوگاورنہ سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گاکیونکہ خود فرماتے ہیں کہ جو کارکردگی دکھائے گا وہ رہے گااور جو نہیں دکھائے گا اسے گھر جانا ہوگا۔یہ بھی ٹھیک کہا تھا کہ میچ میں موقع کی مناسبت سے بیٹنگ آرڈر تبدیل کرنا پڑتا ہے یہاں تو پوری بیوروکریسی اٹھا کر رکھ دی جو کارکردگی دکھا رہے تھے اور جو نہیں دکھا رہے تھے ان کو تو تبدیل ہونا چایئے تھا مگر جو کارکردگی دکھا رہے تھے انہیں تبدیل کرنا سمجھ سے باہر ہے کارکردگی دکھانے والے بیوروکریٹ کی قابلیت سے فائدہ نہ اٹھانا سمجھ سے بالا تر ہے جیسے ثاقب منان جو کمشنر سوشل سکیورٹی تھے جنہوں نے سوشل سکیورٹی ”contribution“ پالیسی میں ریفارمز کی جس سے محکمہ کی مالی پوزیشن بہت بہتر ہوگئی پورے پنجاب کے سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کی اپ گریڈنگ کی ہسپتالوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹرز، نرسیز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی کمی کوحکومت کی پالیسی کے تحت پورا کیاجس سے ورکرز کو بہت بہتر سہولیات ملنا شروع ہوگئیں۔ فیکٹری اور کارخانہ مالکان کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کیاجس کو آن لائن بھی کر دیا گیاجس سے مالکان محکمہ کی کالی بھیڑوں کی بلیک میلنگ سے بچ گئے اور مالکان جو بھی ادا کرتے تھے وہ محکمہ کے خزانہ میں جمع ہونے لگا محکمہ اس قدر منافع بخش ہوگیاکہ مافیاکے منہ میں پانی آنے سے اس کو پرائیوٹائز کرنے کی سازش ہونے لگی۔

”آپ بے بہرہ ہے جو متقدے میر نہیں“

یہاں میر سے مراد یوسف میر نہیں ثاقب منان ہیں۔کارکردگی دکھانے والے ایسے بیوروکریٹ کی قابلیت سے فائدہ اٹھائیں خدارا خان صاحب آپ اپنی اور اپنی کابینہ کی کارکردگی پر بھی غور کریں کیونکہ یہ آپ کی پالیسی تھی ورنہ آپ ہی فرماتے ہیں جو کام کرے گا رہے گاجو کام نہیں کرے گااسے جانا ہوگا۔

مزید : رائے /کالم