تنازعہ فلسطین کا ”ٹرمپی حل“

تنازعہ فلسطین کا ”ٹرمپی حل“

  



امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعہ حل کرنے کے لئے ایک معاہدے کا اعلان کیاہے،180 صفحات پر مشتمل اس مجوزہ معاہدے کو،جس کا ڈرافٹ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے اسرائیلی حکام کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے”ڈیل آف دی سنچری“ کا نام دیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ اسے تاریخی معاہدہ قرار دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر اس کے تحت بھی اسرائیل فلسطین تنازعے کا حل نہیں نکل سکا تو پھر یہ تنازعہ کبھی بھی ختم نہیں ہو سکے گا۔یہاں یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ صدر ٹرمپ نے برسر اقتدار آتے ہی اس معاہدے پر کام شروع کرنے کا عندیہ دے دیا تھا۔فلسطین اور اسرائیل کا تنازعہ کوئی آج کی بات نہیں،بلکہ اب تو اسے طویل ترین تنازعے کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے، اور اب تک اس مسئلے کو حل کر نے کے لئے معاہدے بھی کئے جا چکے ہیں، لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو ئے۔ 1917میں پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کر لیا تھا، اور پھر اسی سال نومبر میں بالفور اعلامیے کے تحت یہودیوں کوفلسطین میں ”اپنا گھر“ بنانے کی خوشخبری سنا دی۔ یہودیوں کے تسلط سے آزاد ہونے کے لئے اہل ِ فلسطین نے 1919ء میں جدو جہد کا آغاز کیا۔اس یہودی عرب تنازعے کو حل کرنے کے لئے1947ء میں اقوام متحدہ نے فلسطین کو یہودی اور عرب ریاستوں میں تقسیم کرنے کی قرارداد کی منظور دی اور ساتھ ہی ساتھ یروشلم کو بین الاقوامی کنٹرول میں لے لیا، تقسیم کے نتیجے میں ویسٹ بنک اور مشرقی یروشلم اردن جبکہ غزہ پٹی مصر کا حصہ بن گئی۔1948ء میں جنگ کے نتیجے میں اسرائیل نے فلسطین کے 78 فیصدحصے پر قبضہ کر لیا، اس کے بعدپھر1967ء میں جنگ ہوئی اور اسرائیل نے باقی 22فیصد فلسطینی حصہ بھی اپنے قبضے میں کر لیا،مشرقی یروشلم، ویسٹ بنک، غزہ پٹی اور گولان کی پہاڑیوں پراسرائیلی قبضہ ہو گیا۔ویسٹ بینک میں اسرائیل نے آباد کاری شروع کر دی اوردرجنوں یہودی بستیاں قائم ہوگئیں۔ ویسٹ بنک میں اس وقت چار لاکھ اسرائیلی، جبکہ 26 لاکھ فلسطینی موجود ہیں، لیکن فلسطینی، اسرائیلیوں کی مرضی سے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ عالمی سطح پر یہ آباد کاری ناجائز قرار دی جا چکی ہے،یہی اسرائیل اور فلسطین کے مابین کسی بھی معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں امریکہ کے سوا تمام ممبران کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ دے چکے ہیں۔لیکن صدر ٹرمپ کا پلان ان آباد کاریوں کو جائز قرار دے رہا ہے، جس کے مطابق کسی فلسطینی یا اسرائیلی کو اپنے گھر سے بے دخل نہیں کیا جائے گا،جو اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ عالمی قوانین کے تحت غیر قانونی مانی جانے والی اسرائیل کی تعمیر کردہ ان بستیوں کو ختم نہیں کیا جائے گا، بس اسرائیل وہاں اگلے چار سال تک کوئی ترقیاتی کام نہیں کر سکے گا، لیکن وہ علاقہ اسی کے زیرانتظام رہے گا۔جن علاقوں کو صدر ٹرمپ نے فلسطینیوں کے لئے مختص کیا ہے وہ آئندہ چار سال آمد و رفت کے لیے کھلے رہیں گے اس دوران فلسطینیوں کے پاس موقع ہو گا کہ وہ اس پلان کا جائزہ لے لیں، اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کریں اور ’خود مختار ریاست کے لئے تعین شدہ پیمانے پر پورا اترجائیں۔صدر ٹرمپ کی ڈیل کے مطابق فلسطین اپنی فوج بھی نہیں بنا سکے گا،لیکن اگر اسرائیل کو فلسطین میں کسی قسم کی ”دہشت گردی“ کے آثار نظر آئے تو وہ ضرورفلسطینی علاقے میں کاروائی کا مجاز ہو گا۔صدر ٹرمپ کے پیش کردہ معاہدے کے مطابق یروشلم اسرائیل کا غیر مشروط اور غیر منقسم دارالحکومت ہوگا اور فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم کا حصہ دے دیا جائے گا جہاں پر کوئی مقدس مقام نہیں ہے، اس نکتے سے تو فساد میں کمی آنے کی بجائے انتشار بڑھنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ واضح رہے کہ یروشلم ایک مقدس شہر کے طور پر جانا جاتا ہے، یہ مسلمان، عیسائی اور یہودی تینوں ہی کے لئے مذہبی اہمیت کا حامل ہے۔ یروشلم ایک قدیم شہر ہے، عیسائیوں کے لئے وہاں موجود چرچ مقدس ترین ہے، یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ وہاں کی مغربی دیوارہی وہ جگہ ہے جہاں پر دُنیا کی بنیاد رکھی گئی تھی اوروہیں حضرت ابراہیم ؑ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑکو قربان کرنے کے لئے لے گئے تھے، مسلمانوں کے لئے وہاں بیت المقدس ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق اس کو مشترکہ شہر قرار دیتے ہوئے اس کو بین الاقوامی کنٹرول میں لے لیا گیا تھا،اقوام متحدہ نے 1980ء میں اسرائیل کی طرف سے یروشلم کو اپنا دارلخلافہ قرار دینے پر اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قراردیا تھا۔یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ امریکہ 2017ء میں پہلے ہی یروشلم کو اسرائیل کا دارلخلافہ قرار دے چکا ہے جبکہ فلسطین چاہتا ہے کہ یروشلم کی 1967ء سے پہلے والی حیثیت بحال کی جائے۔یروشلم کو اسرائیل کا دارلخلافہ قرا ر دینا کسی کے لئے بھی قابل ِ قبول نہیں۔صدر ٹرمپ کے اس معاہدے پر اگر عمل کیا جائے تو 1948ء کی جنگ کے نتیجے میں جوقریباً 700,000 فلسطینی بے گھر ہو گئے تھے اگر وہ چاہیں تو بھی واپس فلسطین آ کر بس نہیں سکتے۔ سوال یہ ہے کہ فلسطینی ریاست میں فلسطینیوں کو واپسی کے حق سے کیسے محروم کیا جا سکتا ہے؟ ساتھ ہی ساتھ اس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے معاشی حالات بہتر بنانے کے لئے اگلے دس سالوں میں 50 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی اور ان دس سال میں فلسطینی معیشت کافی حد تک مستحکم ہو جائے گی، دس لاکھ نئی نوکریاں دی جائیں گی اور غربت میں 50 فیصد کمی آ جائے گی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ”ڈیل آف دی سنچری“ میں اہل فلسطین کی رائے کوہی مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیاہے یعنی ان سے پوچھے بغیر ہی اسرائیل اور امریکہ کی منشا کے مطابق ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتان یاہو تو اس پر خوش معلوم ہوتے ہیں،لیکن فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسے یکسر مسترد کر دیا،ترکی بھی اس کے خلاف ہے اوراقوام متحدہ نے بھی اس ڈیل کواپنی قرادادوں سے متصادم قرار دیا ہے۔بظاہر تو یہ معاہدہ کم اور فلسطین کو ایک ڈبے میں بند کرنے کی سازش زیادہ نظر آ رہی ہے،جو ریاست فلسطین کا تصور صدر ٹرمپ نے پیش کیا ہے اس لحاظ سے فلسطین کو کاغذات میں تو شایدایک الگ ریاست کی حیثیت حاصل ہو جائے گی، لیکن ایک شہر کو دوسرے شہر سے جوڑنے والی تما م سڑکیں اسرائیلی کنٹرول میں ہو ں گی، جس کا مطلب ہے کہ سرحدوں پر فلسطین کا کوئی کنٹرول نہیں ہو گا۔اس سے تو یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ ’آزاد فلسطینی ریاست‘ کے ارگرد اسرائیل ہی موجود رہے گا،اسرائیل نے اب تک جارحیت کے سر پر فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس معاہدے کی رو سے اس قبضے کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔اس وقت المیہ یہ ہے کہ مسلم ممالک بھی متحد نہیں ہیں، کئی محاذوں پر تو ایک دوسرے کے مخالف کھڑے ہیں،ایسے میں فلسطین کی داد رسی کس طرح ممکن ہے؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پیش کی جانے والی یکطرفہ ڈیل سے صرف اسرائیل کی جارحیت کو ہی تقویت مل سکتی ہے۔یہ بات تو واضح ہے کہ یکطرفہ طور پر پیش کی گئی کسی بھی ڈیل یا معاہدے سے خطے میں امن قائم ہونے کی بجائے بدامنی پھیلنے کے امکانات زیادہ ہیں۔اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لئے فلسطین اور اسرائیل کو مذاکرات کا ہی راستہ چننا پڑے گا،دونوں فریقین کی منشاء و مرضی کے مطابق ہی مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ امریکی صدرکو سمجھنا چاہئے کہ طے شدہ تقسیمی منصوبے کے تحت ہی دو ریاستوں کا قیام عمل میں آ سکتا ہے، فلسطینی اکثریتی علاقے ویسٹ بنک اور غزہ پٹی کو ریاست فلسطین کا حصہ ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو بھی مثبت کردارادا کرنا ہو گا۔ یہ بات تو طے ہے کہ ہر مسئلے کا حل دونوں فریقین کی باہمی رضا مندی سے ہی نکل سکتا ہے ورنہ بگاڑ بڑھنے کا اندیشہ رہتا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ