نظرِ بَد،مودی کی دھمکی اور اس کو کرارا جواب!

نظرِ بَد،مودی کی دھمکی اور اس کو کرارا جواب!
نظرِ بَد،مودی کی دھمکی اور اس کو کرارا جواب!

  



انگریزی ادب میں اکثر ماورائے عقل واقعات پر مبنی ناول لکھے گئے اور پھر انہی میں ایسے امور کو رد بھی کیا گیا،جیسے کالی بلی اور الّو والے واقعات کا ذکرہوا، اس سلسلے میں رائیڈر ہیگرڈ اور دوسرے مصنف بھی ہیں،جو بہت مقبول رہے اور اب بھی ہیں۔برصغیر میں منشی تیرتھ رام فیروزپوری نے ان کو اُردو میں متعارف کرایا اور وہ بھی بہت مقبول ہوئے، ہم نے بھی ان کے تراجم سے بہت استفادہ کیا تھا اور یوں تو جوانی میں اکثر اپنے ہی سائے سے ڈر جایا کرتے تھے، لیکن یہ مراحل گذر گئے اور ہم نے جب مسجد اور حضرت علامہ ابو الحسنات سے رجوع کیا، تو کئی واہمے مٹ بھی گئے، تاہم اس حوالے سے بھی کئی معاملات زیر بحث رہتے ہیں،مثلاً ہمارے یہاں یہ بات عام ہے ”کالا علم برحق ہے،لیکن یہ علم کرنے والا کافر اور غلیظ ہے“۔

اسی سلسلے میں جو اہم عنصر ہماری زندگیوں میں ہے اور خصوصی طور پر خواتین بہت سوچتی اور عمل بھی کرتی ہیں،وہ ہے، ”نظر لگنا“ اب کہا جاتا ہے کہ بُری نظر پتھر چیر دیتی ہے۔ مائیں اکثر اپنے چاند سے بچوں کی نظر اتارتی رہتی ہیں، ہم بھی جب چھوٹے تھے تو ہماری دادی جان (مرحومہ) اللہ ان کی مغفرت فرمائے ہماری نظر اتارا کرتی تھیں، کبھی چولہے پر پھٹکری ڈال کر، کبھی کوئلے کی انگیٹھی میں کوئلوں پر سرخ مرچیں ڈال کر اور اکثر سوا روپیہ (پرانے دور کی بات ہے) ہمارے سر پر گھما(وار) کر خیرات کر دیتی تھیں۔ اس سلسلے میں اور بھی بہت کچھ کہا جاتا ہے، مثلاً بکرے کی ”سری“ سر پر سے گھما کر کسی چوراہے پر رکھ دی جاتی ہے، کہ کتے اور بلیاں وغیرہ کھا لیں گی،اس سلسلے میں یہ بھی دلچسپ ہے کہ راہ گذر اسے دیکھ کر کترا کر گذرتے اور وہم کرتے ہیں،اکثر مائیں بچوں کو ماتھے پر کالی سیاہی سے نشان لگا دیتی ہیں، یہ سب ردِ بَلا کے لئے ہوتا ہے، تاہم ہمارے بزرگوں نے ان تمام توہمات سے گریز کی ہدایت کر رکھی ہے، وہ ہمیشہ دین کے مطابق تلقین کرتے کہ صدقہ دو، یہ ردِ بَلا ہے اور بَلا کو ٹالتا ہے۔اس کے لئے بھی ہدایت ہے کہ ضرورت مندوں کی مدد کرو، کھانے سے، کپڑے سے اور رقم سے کہ اس کی تسلی ہو۔

قارئین کرام! آپ کو کسی اُلجھن میں ڈالنا مقصود نہیں،ہم چونکہ حال ہی میں ایک بڑے تجربے سے گذرے ہیں اِس لئے عمل تو اپنے صاحبزادے کی بات پر کریں گے،لیکن آپ حضرات کی خدمت میں گذارش پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ”نظر لگنا“ حقیقت ہے اور ہم جو مانتے نہیں تھے، اب قائل ہو گئے ہیں۔اللہ نے جب2009ء میں ہمیں عارضہئ قلب سے صحت بخشی اور سرجری سے سرخرو ہوئے تو ڈاکٹر حضرات کی ہدایت پر سیر صبح کے پکے پابند ہو گئے اس سے پہلے بھی سیر کرتے تھے،لیکن ایسی پابندی نہیں تھی، جیسی اس شفایابی کے بعد کی۔ اللہ کا کرم رہا کہ ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق زندگی بہتر گذرتی چلی گئی اور ہم صبح کو پابندی سے ساڑھے چار پانچ کلو میٹر کی سیر کرتے رہے۔اچانک اس میں رکاوٹ یوں آئی کہ ایک محترم نے بڑی حسرت سے کہا یہ بندہ بہت سیر کرتا ہے۔ساتھ ماشاء اللہ کہہ دیتے تو شاید بات نہ بگڑتی، مجھے انہوں نے خصوصی نوازش سے یاد فرمایا، حالانکہ وہاں ہمارے دوسرے کئی ساتھ مجھ سے کہیں زیادہ سیر کرتے ہیں۔بہرحال وہ دن جائے اور آج کا دن آئے مَیں پھر سے اپنی یہ سیر برقرار نہیں رکھ سکا، ابتدا بھی طبیعت کی خرابی سے ہوئی، پھر سستی بھی چھانے لگی، بہرحال دِل نہ مانا اگرچہ ایک دوست نے کہا کہ صدقہ اتارو، یہ وقت گذر ہی گیا اور پھر سے معمول برقرار رکھنے کی جدوجہد شروع ہوئی۔کسی حد تک کامیابی رہی کہ اپنے فزیشن محترم فیصل قاضی سے بھی رجوع کیا۔ادویات میں بہت معمولی تبدیلی اور خوراک کی احتیاط شروع کی، ہم نے تو پھر بھی نہ سوچا تاہم اب یقین کرنا پڑا کہ ایسا ہوتا ہے۔

ہوا یوں کہ شدید سردی کی وجہ سے سیر کا معمول تو ختم ہوا تاہم ہم نے یہ طریقہ نکالا کہ جس روز صاحبزادہ عاصم چودھری دفتر چھوڑنے نہ آتا ہم گھر سے بس سٹاپ تک قریباً دو سوا دو کلو میٹر پیدل چل کر آ جاتے اور سپیڈو بس کے ذریعے دفتر اور پھر واپس بھی جاتے، ایک بار پھر بس سٹاپ سے گھر تک کا سفر پیدل ہو جاتا۔ یوں ایک نیا سلسلہ شروع تھا کہ بدھ کو ہم اسی معمولی کے تحت بس پر گھر روانہ ہوئے۔ راستے میں عشاء کی نماز کا وقت آ گیا۔ اللہ یار بلاک کی مسجد طیبہ سامنے تھی، ہم نماز کے لئے رُک گئے، نماز کی ادائیگی کے بعد ہم ابھی اُٹھنے اور واپسی کا ارادہ کر رہے تھے کہ پچھلی صف میں ہمیں وہی محترم نظر آ گئے اور انہوں نے ہماری طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں میں سخت حیرت تھی ہمارا ان کا آمنا سامنا ہوئے، دو تین ماہ ہو گئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں کچھ اور بھی تھا جیسے کہہ رہے ہوں کہ ابھی بچے ہوئے ہو، وفات نہیں ہوئی۔ بہرحال وہ صاحب ہمیں چھوڑ کر سلام دُعا کے بغیر ہی تشریف لے گئے، قارئین! ہم نہیں مانتے لیکن ماننا پڑا کہ جمعرات کو دفتر میں کام کرتے ہوئے اچانک شدید سردی کا احساس ہوا، اور جسم بُری طرح کانپنے لگا، دھوپ میں نہ بیٹھا گیا۔اُٹھ کر ہیٹر کے قریب گئے دوستوں نے قریب بھی کر دیا،لیکن افاقہ نظر نہ آیا، گر گر کر سنبھل رہے تھے، بالآخر آخری کام ساتھی عبید صاحب کے سپرد کیا اور اوبر سے گھر پہنچے، ہماری بیٹی (بہو) نے جلدی سے بلڈ پریشر اور ٹمپریچر دیکھا، درجہ حرارت تو معمول کے مطابق ہی نظر آیا تاہم بلڈ پریشر145/60 نکلا، اس عرصہ میں ہم نے اوبر والی کار کے ہیٹر سے فائدہ اُٹھا لیا تھا۔

گھر واپسی سے پہلے ہم بچوں کو بتا چکے تھے اِس لئے انہوں نے سب سے پہلے چکن سوپ اور پھر ادویات سامنے رکھ دیں۔کمبل اور رضائی کو اکٹھا کیا اور گھس کر لپیٹے کافی دیر بعد گرم ہوئے تو جان بچی، خیال ہوا کہ ایسا کیوں ہوا، کیونکہ ہمیں تو ہمارے فزیشن محترم نے سختی سے ہدایت کر رکھی ہے کہ بلڈ پریشر کی دوا لازم ہے کہ بڑھنا نہیں چاہئے تو محترم قارئین! پھر ہم نے آیت کریمہ اور درود شریف کے ساتھ آیت الکرسی کا ورد کیا اور اللہ نے کرم کیا، آج اس قابل ہیں کہ دفتر میں آ کر کام بھی کر رہے ہیں۔ تو صاحبو! مان لو! صدقہ دیا اور آیات قرآنی کا ورد کیا کرو۔

اپنی اسی کیفیت سے ہم اہل ِ وطن کو خبردار کرتے ہیں کہ ہمارا کمینہ دشمن ہمسایہ ہو کر بھی حق ہمسائیگی کے احساس سے محروم ہے اور ہندوتوا کے حوالے سے بُرے علوم سے بھی شغف رکھتا ہے۔ مودی توکالی دیوی کا پجاری ہے اور وہ تسلسل سے خون بہائے چلا جا رہا ہے اور اسی زعم میں اس نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی،خود اپنے ہی ملک کے آئین کی مٹی پلید کی اور اب اس نے دھمکی دی کہ بھارت پاکستان کو دس روز میں ختم کر سکتا ہے۔ ہماری مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور اس مرتبہ ذرا تاخیر سے بولے! اور انہوں نے بروقت انتباہ کر دیا ہے کہ کالی کے پجاریو! حق پرستوں، اللہ والوں اور رسول ؐ کریم کے امتیوں پر تمہارا یہ رعب، جادو نہیں چلے گا اور اگر تم جنگ چھیڑو گے تو اسے پھر ختم ہم ہی کریں گے۔ قارئین! جنگ کسی مرض کا علاج نہیں،لیکن بھارتی پنڈتوں کا جادو مودی کے سر چڑھ کر بول رہا ہے، تو خبردار ہو رہو، اتحاد و اتفاق پیدا کرو، ایک قوم بن جاؤ، صرف زبانی نہیں عملاً سیسہ پلائی دیوار بن جاؤ۔ نظر بد سے بچو! اللہ ہم سب کا محافظ ہو!

مزید : رائے /کالم