ٹرمپ کا ”امن منصوبہ“

ٹرمپ کا ”امن منصوبہ“
ٹرمپ کا ”امن منصوبہ“

  



صدر ٹرمپ نے 28جنوری کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یا ہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لئے ”امن“ منصوبہ پیش کیا۔اس منصوبے کو پیش کرنے کی ٹائمنگ بڑی دلچسپ ہے۔ یہ منصوبہ ایسے وقت میں پیش کیا گیا،جب ایک طرف امریکی سینٹ میں ٹرمپ کے خلاف ٹرائل چل رہاہے تو دوسری طرف اسرا ئیلی وزیراعظم نیتن یا ہو کو بھی کرپشن اور فراڈ کے الزامات کا سامنا ہے۔ٹرمپ نے جہاں ایک طرف گولان کی پہا ڑیوں پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کو تسلیم کیا، وہاں یرو شلم کو بھی اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا۔ٹرمپ کا یہ منصوبہ 181 صفحات کی دستا ویزکی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔اس دستاویز میں نقشوں کی شکل میں ”مغربی کنارے“ کے وسیع علاقے کے ساتھ ساتھ ”وادی اردن“کو اسرائیلی علاقے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

نقشوں کے مطابق جن علاقوں کو فلسطینی علاقہ تسلیم کیا گیا ہے، ان کے اندر پا نچ مقا مات پر اسرائیل کے فو جی اڈے بھی مو جود ہوں گے۔ اس منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو تا ریخی طور پر فلسطینی علاقے کا صرف 15فیصد دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے فلسطینیوں کو اس منصوبے کو تسلیم کرنے کے لئے4سال کا وقت دیا ہے،جبکہ فلسطینی علاقوں کی زمینی سرحدیں، حتیٰ کہ سمندر ی راستے بھی اسرا ئیل کے ہی کنٹرول میں ہوں گے۔یوں ”فلسطینی ریاست“ کے نام پر مغربی کنارے اور غزہ میں جو کچھ فلسطینیوں کو دیا جا رہا ہے، وہ عملی طور پر آسمان تلے ایک بڑا قید خانہ ہی ہے۔اس مضحکہ خیز معاہدے کو فلسطین کی پی ایل او اور حماس نے فوری طور پر مسترد کر دیا ہے۔اب یہاں بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا ٹرمپ کے اس منصوبے سے اسرائیل کی متنا زعہ حیثیت کم ہو گی یا اس میں اضافہ ہو گا؟…… اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں اسرائیلی ریاست کے وجود کی بنیاد کو سمجھنا ہو گا۔

قومی ریا ست کا تصور یا نظر یہ دیگر کئی سیا سی نظریات کی طرح مغربی مفکرین ہی کی سوچ کا نتیجہ ہے۔18ویں اور19ویں صدی میں سیاسیات کے مفکرین کی جانب سے پیش کئے جانے والے اس تصور کو پوری دُنیا میں قبولیت ملنا شروع ہوئی، آج صورتِ حال یہ ہے کہ دُنیا بھر کی تقریباً تمام ریاستیں قومی ریاست کے تصور کے تحت ہی اپنا وجود رکھتی ہیں۔ قومی ریاست کے اس تصور کے تحت ایک یا ایک سے زیادہ قومیتیں ایک ایسے مخصوص جغرافیائی علاقے،جس میں وہ صدیوں سے اپنی تہذیبی اور ثقا فتی زندگی کے ساتھ آبا د ہوں،اسی جغرافیائی حدود کو سالمیت کا تصور عطا کر کے ریاست تشکیل دیتی ہیں،حتیٰ کہ18ویں اور 19ویں صدی میں جب برطانیہ، فرانس اور یورپ کی کئی اقوام نے ایشیا اور افریقہ پر اپنا تسلط قائم کیا تو ان قابض علاقوں کے باشعور طبقات نے قومی ریاست کے تصور ہی کے تحت آزادی اور خود مختاری حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کی، مگر 1948ء کو وجود میں آنے والے اسرائیل کے قیام کے لئے ایک ایسی عجیب و غر یب تاویل تراشی گئی،جس کا جدید زمانے میں تو دور کی بات،قرون وسطیٰ اور قدیم عہد میں بھی تصور ملنا مشکل ہے۔

ایک مخصوص مذہبی نسل کا یہ دعویٰ کہ ہزاروں سال سے آ باد فلسطینیوں کے علاقے پر اس بناء پر اسرائیلیوں کے لئے ایک ملک قائم کر دیا جائے، کیونکہ قدیم عہد میں ایک عرصے کے لئے اسرائیلی اس علاقے میں آبا د تھے، انتہائی مضحکہ خیز دعویٰ ہے۔اس مضحکہ خیز دعوے کو قبول کرنے،اس دعوے ہی کی بنیاد پر اسرائیل کو وجود میں لانے اور اسے مضبوط بنانے میں وہی مغرب پیش پیش تھا،جس نے خود پوری دُنیا میں قومی ریاست کے تصور کو فروغ دیا۔ اپنی تشکیل سے لے کر آج تک کئی جنگوں کے باوجود بھی اسرائیل کو اپنا وجود بر قرار رکھنے کے حوالے سے کئی مسائل اس لئے درپیش ہیں کہ اسرائیل قطعی طور پر ایک فطری اور قومی ریاست نہیں ہے۔اس علاقے کے فلسطینی کسی بھی طور پر اپنے اس حق سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں کہ یہ صدیوں سے ان کا وطن ہے۔اسرائیل، فلسطین پر وقفے وقفے سے حملے بھی کرتا رہا ہے، اس کے باوجود فلسطینی مزاحمت ختم ہونے کی بجائے اس میں مزید اضا فہ ہوتا رہتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے2016ء کی انتخا بی مہم کے دوران واضح طور پر یہ اعلان کیا تھا کہ وہ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے اسرائیل نواز صدر ہوں گے اور امریکی سفارت خانے کو یرو شلم منتقل کر کے ہی دم لیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں فخر کے ساتھ کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی جرأت ان کے سوا کوئی اور امریکی صدر نہیں کر سکا۔ ٹرمپ کے اس قدام کے پیچھے مقاصد یہی ہیں کہ ایک طرف امریکہ کے بنیاد پرست عیسائیوں کی ہمددریاں حاصل کی جائیں تودوسری طرف امریکی آبادی میں انتہائی کم تنا سب،مگر معاشی اعتبار سے بہت زیادہ اثرو رسوخ رکھنے والے صیہونیوں کی حمایت بھی حاصل کی جائے۔ اسی طبقے سے تعلق رکھنے والے جوئے خانوں کے کا روبار سے منسلک ارب پتی شیلڈن ایڈلسن نے ٹرمپ کو انتخابی مہم میں 25ملین ڈالرز کی امداد بھی دی تھی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد جینوا کنونشن کے مطابق کوئی بھی ملک کسی بھی علاقے کو جنگ کے ذریعے اگر اپنا حصہ بنائے گا تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی، جبکہ اسرائیل نے یروشلم شہر کے اکثر حصے پر 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔

ٹرمپ کے اس فیصلے پر عرب ممالک کی شاہی اور آمرانہ حکومتوں کا ردعمل توقع کے عین مطابق ہے۔ عرب ممالک کی اکثر شاہی اور آمرانہ حکومتیں اپنے بہت سے معاشی اور سیاسی مفادات کے لئے امریکہ پر انحصار کرتی ہیں،اِس لئے ان میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ آگے بڑھ کر کچھ کر پائیں۔ اسی وجہ سے ٹرمپ نے فخر سے کہا کہ اس تقریب میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور اومان کے سفیر بھی موجود ہیں۔ٹرمپ کے اس فیصلے پر اسرائیل کو سب سے زیادہ خطرہ فلسطینی تنظیم حماس سے ہے، جس نے باضابطہ طور پر اس فیصلے کے خلاف فلسطینی اور عرب عوام سے بھر پور احتجاج کا مطالبہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل حماس کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ حماس صحیح معنوں میں اسرائیل کے لئے 2006ء میں اس وقت مزاحمت کا باعث بنی جب اس نے غزہ کی پٹی میں ہو نے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔

غزہ میں حماس کی جمہوری جیت اسرائیل اور مغر بی دنیا کے جمہو ریت نواز دعوؤں کے لئے ایک امتحان تھی……اگر غزہ کی اکثریت نے الفتح پا رٹی کی کر پشن اور اسرا ئیل کے ساتھ سمجھوتوں کی پا لیسی کو مسترد کرتے ہوئے حماس کو جمہوری طریقے سے کامیابی دلائی تھی تو اس جمہوری فیصلے کا احترام ہونا چاہئے تھا،مگر اس خطے کی تاریخ کو سمجھنے والے کسی بھی انسان کے لئے یہ جاننا قطعی طور پر مشکل نہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جمہوریت اور انتخابات کے ذر یعے کئے گئے فیصلوں کی مغر بی دُنیا کے لئے کو ئی اہمیت نہیں ہے۔مغرب کے لئے اس خطے میں بیلٹ بکس کے ذریعے اسلامی بنیاد پرستی پھیلنے کا خطرہ 1990ء میں اس وقت سامنے آیا،جب الجزائر کے بلدیاتی انتخابات میں ”اسلامک سالویشن فرنٹ“ نے 55فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کر لی۔ایک سال بعد ہونے والے قو می انتخابات میں جب ”اسلامک سالویشن“کی کامیا بی صاف نظر آرہی تھی تو امریکی پشت پنا ہی رکھنے والی الجزائری حکومت نے اسلامک سالویشن پر پابندی عائد کر کے اس کے رہنماؤں کو جیل میں ڈال دیا۔اس کے نتیجے میں ہونے والی خانہ جنگی میں 100,000کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ امریکہ نے اس انتہائی غیر جمہوری اقدام کی بھر پور حمایت کی۔اسی طرح مصر میں منتخب صدر محمد مرسی مرحوم کے مقابلے میں فوجی آمر السسی کے لئے امریکی حمایت بھی سب کے سامنے ہے۔

ٹرمپ کے اس حالیہ منصوبے سے مشرق وسطیٰ کے حالات میں مزید کشیدگی آ سکتی ہے۔ جہاں تک فلسطینیوں کا تعلق ہے تو ان کے جذبہ  حریت کو پوری دُنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسرائیل بھلے امریکہ اور یورپی حکمرانوں کا چہیتا ہو، مگر عوامی سطح پر وہاں بھی ایسے طبقات موجود ہیں جو فلسطینی مزا حمت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسرا ئیلی جارحیت پر کسی بھی مسلمان ملک میں اتنے بڑے مظاہرے نہیں ہوتے،جتنے یورپ کے شہروں میں ہوتے ہیں۔فلسطینیوں کے جذبہ ئ حریت سے دُنیا بھر کی مزاحمتی تحریکیں آدرش حا صل کرتی رہی ہیں۔ 72سال سے جا ری اس فلسطینی مزاحمت نے ادب اور شاعری کے ایسے شاہکار نمونے تخلیق کئے ہیں، جو دُنیا بھر کے حر یت پسندوں کے لہو کو گرماتے ہیں۔مزاحمت اور حریت کے ان جذبوں کو ظلم و ستم سے ختم کر نا ممکن ہی نہیں، کیونکہ ظلم جتنا زیادہ ظلم بڑھے گا،مزاحمت کی شدت میں بھی اسی قدر اضافہ ہوگا۔

مزید : رائے /کالم