پٹوار سسٹم کی واپسی کا شوشا: نئی حماقت

پٹوار سسٹم کی واپسی کا شوشا: نئی حماقت
پٹوار سسٹم کی واپسی کا شوشا: نئی حماقت

  



شنید ہے کہ پٹوار سسٹم دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایسا بیورو کریسی کے دباؤ کی وجہ سے ہو گا جو موجودہ کمپیوٹرائزڈ اراضی سسٹم نظام سے بالکل خوش نہیں، کیونکہ اس نظام کی وجہ سے اس کا ایک بہت اہم مہرہ پٹواری اس کی دسترس سے نکل گیا ہے…… لیکن اندر کی بات یہ ہے کہ اس کمپیوٹر اراضی سسٹم نے عوام کا بھی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ کرپشن اتنی بڑھ گئی ہے کہ جو فرد ملکیت پٹواری کو پانچ سو روپے دینے سے مل جاتی تھی، وہ اب پانچ ہزار روپے میں بھی نہیں ملتی۔ اس قدر الجھاوے ڈال دیئے گئے ہیں کہ لوگوں کے پاس رجسٹریاں موجود ہیں، مگر اراضی سنٹروں میں ان کا اندراج ہی نہیں۔ اندراج کرانے کے لئے جو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، قدم قدم پر رشوت دینا پڑتی ہے۔ اسے دیکھ کر لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے اور دعا مانگتے ہیں کہ پٹوار سسٹم واپس آ جائے……قبل ازیں کم از کم ایک ہی شخص ان کے تمام مسائل کا حل تو رکھتا تھا…… جہاں پٹوار نظام کی بحالی کے بارے میں افواہیں گرم ہیں، وہاں یہ خبر بھی آئی ہے کہ سی ڈی اے اسلام آباد کی اراضی کو کمپیوٹرائزڈ کر لیا گیا ہے اور جلد ہی وہاں نیا نظام رائج کر دیا جائے گا۔

پتہ نہیں سی ڈی اے نظام میں پٹواری تھا یا نہیں، البتہ یہ دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اسلام آباد میں اس تجربے کا وہ حشر نہ ہو، جو پنجاب میں ہوا ہے؟…… پنجاب میں اس نظام کو چلانے کے لئے ایک لینڈ ریکارڈ اتھارٹی بنائی گئی، جس کے ڈی جی لاہور میں بیٹھتے ہیں اور شائد ہی کبھی لاہور سے باہر نکل کر صوبے میں قائم دیگر اراضی سنٹروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوں؟…… سینکڑوں سائلین ہر سنٹر میں صبح سویرے پہنچتے ہیں اور ناکافی سہولتوں کی وجہ سے اذیت ناک صورتِ حال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان اراضی سنٹروں میں جو اعتراضات لگائے جاتے ہیں، ان کی اصلاح کے لئے پھر پٹواری کے پاس بھیجا جاتا ہے اور اس کی رپورٹ کو مقدس جان کر آپ کے حق میں فیصلہ کیا ہوتا ہے…… اگر یہ کہا جائے کہ پٹوار سسٹم کو ختم کرکے بنایا جانا والا یہ کمپیوٹرائزڈ اراضی سنٹرز کا نظام عوام کو ریلیف دینے کی بجائے تکلیف دینے کا باعث بنا ہے تو بے جا نہیں ہو گا۔

پچھلے دنوں کمشنر ملتان شان الحق پہلی بار اراضی سنٹر ملتان گئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک چھوٹے سے کمرے میں خواتین، بزرگوں اور عام آدمی کے لئے ٹوکن جاری کئے جا رہے ہیں …… یہ تو وہ سردیوں کے موسم میں گئے، اگر گرمیوں میں جاتے تو انہیں اندازہ ہوتا کہ کس طرح پسینے میں شرابور افراد لائن میں لگ کر گھنٹوں ٹوکن ملنے کا انتظار کرتے ہیں؟…… کمشنر نے اس کا سخت نوٹس لیا اور اراضی سنٹر کے انچارج کو حکم دیا کہ سینئر سیٹیزن، خواتین اور عام افراد کے لئے علیحدہ علیحدہ کاؤنٹر بنائے جائیں۔ اللہ کرے اس پر عملدرآمد ہو جائے، کیونکہ اراضی سنٹروں کے افسر ضلعی و ڈویژنل افسروں کی بھی نہیں سنتے، صرف اپنے ڈی جی کا حکم مانتے ہیں، جولاہور سے باہر نہیں نکلتے۔ شہباز شریف نے بیرونی فنڈنگ کی وجہ سے ان اراضی سنٹروں کو ہنگامی بنیادوں پر قائم کیا تھا اور بنیادی انفراسٹرکچر بنائے بغیر انہیں فوری طورپر فنکشنل کرنے ہدایات دی تھیں۔ اس زمانے کے افسر، جنہوں نے یہ کام کیا، بتاتے ہیں کہ جس کے ہاتھ جو اور جیسا ریکارڈ لگا، اسے کمپیوٹر میں ڈال دیا گیا۔

کسی کا کھاتہ غلط ہوا اور کسی کی کھتونی صحیح نہیں لکھی گئی، کسی کا نام غلط فیڈ ہوا تو کسی کی ذات پر ہیرپھیر آ گیا۔چونکہ سب ریکارڈ پٹواری کے بستوں سے لیا گیا تھا اور اسے ساتھ بٹھانے کی بجائے جلد بازی میں ڈیٹا انٹری آپریٹروں کو یہ کام سونپ دیا تھا، اس لئے ہزاروں غلطیاں رہ گئی ہیں۔ خاص طور پر پرانی رجسٹریوں یا انتقالات کے معاملات انتہائی دگرگوں ہیں۔ ایسے میں ان اراضی سنٹروں پر آنے والے چکرا کر رہ جاتے ہیں۔ مَیں خود اس عذاب کو بھگت چکا ہوں۔ میری دو رجسٹریاں ایک ہی دن ہوئی تھیں۔ مَیں فرد ملکیت لینے گیا تو ایک رجسٹری مل گئی، دوسری کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ابھی پرانے مالک کے نام کھڑی ہے۔ پوچھا اب کیا کرنا ہو گا؟ ایک پرفارما مجھے تھمایا گیا اور کہا گیا کہ پہلے پٹواری سے رپورٹ کروائیں، پھر رجسٹرار کے پاس جائیں۔ اس سے پہلے اسسٹنٹ کمشنر سے رجسٹرار کے نام یہ پرفارما مارک کرائیں۔

اب ایک دفتر جنوب اور دوسرا شمال میں تھا۔ پہلے تو پٹواری کو ڈھونڈنا ہی عذاب تھا۔ میرے ایک دوست ظہیر عباس شیرازی، جو اس وقت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ملتان تھے،آج کل ڈپٹی کمشنر خانیوال تعینات ہیں، میرے ذہن میں آئے۔ ان کے پاس جا کر ساری رام کہانی سنائی۔ انہوں نے پٹواری کو اپنے دفتر بلایا، رپورٹ کروائی، پھر رجسٹرار کو فون کیا اور تصدیق کرنے کو کہا۔ یہ مراحل دو دن میں طے ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ جو کام دو دن میں ہو گیا ہے، عام حالات میں چھ ماہ تک لگ جاتے ہیں۔ کبھی ریکارڈ نہیں ملتا اور کبھی پٹواری، ہاں البتہ نوٹ دکھانے سے سارے کام فوری ہو جاتے ہیں ……پہلے کسی کرپٹ پٹواری کی کبھی کبھار ہی آتی تھی، لیکن اب اراضی سنٹروں کے بارے میں ہر روز اخبارات میں خبریں چھپتی ہیں کہ وہاں رشوت کا بازار گرم ہے، عملہ بدتمیز ہے اور اعتراضات لگا کر دور دراز سے آنے والے سائلوں کو واپس بھیج دیتا ہے، البتہ وہاں موجود ٹاؤٹوں کے ذریعے ہر کام منٹوں میں ہو جاتا ہے۔ پٹواری کا بستہ تو سامنے ہوتا تھا، وہ غلط یا صحیح اندراج کے بارے میں ریکارڈ بھی دکھا دیتا تھا، یہاں تو سب کچھ کمپیوٹر کے اندر ہی موجود ہے اور وہ کمپیوٹر کسی اور کی دسترس میں نہیں۔ ہم ایک ایسا بدنصیب معاشرہ ہیں، جہاں اصلاح کے لئے اٹھایا جانے والا ہرقدم انتشار کا نیا دروازہ کھول دیتا ہے۔ یقین کریں آج لوگوں کو پٹواری فرشتے لگنے لگے ہیں۔ آپ دودھ دیں، مگر مینگنیاں ڈال کر تو اسے کون پئے گا؟ کیا سہل نظام نہیں بنایا جا سکتا؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ جن لوگوں کی رجسٹریوں کے کمپیوٹر سنٹروں میں انتقال نہیں ہوئے، انہیں باہمی رابطے سے درج کر لیا جائے؟سائلوں کو دھکے کھانے کے لئے کیوں بھیجا جاتا ہے، صرف اس لئے کہ وہ تنگ آکر رشوت دینے پر مجبور ہو جائیں …… تو کیا یہی کام پٹواری سستے داموں نہیں کر رہا تھا؟

میرے نزدیک یہ کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہو گا کہ اراضی سنٹروں کو بند کرکے پھر سے پٹوار خانوں کا نظام رائج کر دیا جائے۔ اس سے مزید مسائل پیدا ہوں گے اور کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ سے دوبارہ مینویل ریکارڈ میں منتقلی عوام کے لئے عذاب بن جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اراضی سنٹروں کے نظام کا جائزہ لے کر اس میں اصلاحات کی جائیں، خاص طور پر اس نظام کو سادہ اور آسان بنایا جائے۔ سب سے پہلا کام یہ کیا جائے کہ جتنا بھی کسی شہر یا موضع کا ریکارڈ ہے، اسے کمپیوٹر سنٹروں میں منتقل کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی جائے، پھر غلطیوں یا چھوٹی چھوٹی دفتری خامیوں کی اصلاح کے لئے سہل فارمولا بنایا جائے، اراضی سنٹروں کی تعداد بڑھائی جائے اور انہیں یونین کونسل کی سطح تک لایا جائے، مانیٹرنگ کا موثر نظام بنا کر ہر قسم کی کرپشن کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے…… یہ ادارے اس حوالے سے حکومت پر کوئی بوجھ نہیں کہ اپنی آمدنی خود پیدا کرتے ہیں۔ ان اراضی سنٹروں کی وجہ سے ہم ایک قدم آگے بڑھے ہیں تو دوبارہ پیچھے قدم لے جانے کی حماقت نہ کی جائے۔ کوئی بھی فیصلہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر کیا جائے، تاکہ ”آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا“…… جیسی صورتِ حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید : رائے /کالم