نیب ترامیم،مسودہ قانون پر پیپلزپارٹی اورن لیگ اختلافات کا شکار

      نیب ترامیم،مسودہ قانون پر پیپلزپارٹی اورن لیگ اختلافات کا شکار

  



اسلام آباد(آئی این پی) قومی احتساب بیورو(نیب) ترامیم پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) اختلافات کا شکار ہوگئیں اور دونوں جماعتوں نے الگ الگ مسودہ حکومت کے حوالے کردیا ہے۔نیب ترامیم پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن)نے مشترکہ مسودہ دینے پر اتفاق کیا تھا تاہم دونوں جماعتوں نے اب اپنا الگ الگ مسودہ حکومت کے حوالے کردیا ہے کیونکہ پیپلزپارٹی کون لیگ کی تجویز کردہ نیب ترامیم پسند نہیں آئیں۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت ہم سے فاروق ایچ نائیک کے سینیٹ کمیٹی سے منظور شدہ مسودہ پر بات کرے، حکومت اپوزیشن کی تجویز کی گئی نیب ترامیم کا پیر کو جائزہ لیکر منگل کو جواب دے گی جبکہ نیب ترامیم پر حکومت اور اپوزیشن کی منگل کو پارلیمنٹ ہاس میں میٹنگ ہوگی۔مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ 50کروڑ روپے یا اس سے کم بدعنوانی کا مقدمہ نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیا جائے، پانچ سو ملین سے کم کا مقدمہ اینٹی کرپشن کو دیکھنا چاہیے اور نیب عدالت کے پاس ضمانت کا اختیار ہونا چاہئے۔ ملزم کو تحویل میں لے کر تحقیقات کے طریقہ کو ختم ہونا چاہئے جبکہ نیب مقدمات کے ذریعہ میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہئے، ریفرنس دائر ہونے تک نیب افسر کسی انکوائری کو پبلک نہیں کریں گے جبکہ گرفتاری کے احکامات دینے کے چیئرمین نیب کے اختیارات ختم کر دیئے جائیں۔مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ الزام لگنے پر کسی کو گرفتارنہیں کیا جاسکے گا جبکہ غلط الزام لگانے یاغلط تفتیش کرنے والا نیب افسر جواب دہ ہوگا۔

اختلافات

مزید : علاقائی