کرونا وائرس، چین میں حالات بے قابو، ہلاکتوں کی تعداد 213، عالمی ایمرجنسی نافذ، محفوظ دورانیہ گزارے بغیر چین سے کوئی پاکستان نہیں آئے گا: حکومت

کرونا وائرس، چین میں حالات بے قابو، ہلاکتوں کی تعداد 213، عالمی ایمرجنسی ...

  



واشنگٹن، بیجنگ(اظہر زمان، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کی ایک منفرد قسم کی وباء پھونٹے کو صحت کی عالمی ایمرجنسی قرار دے دیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ادارے نے تصدیق کردی ہے کہ اس وائرس کے چین سے شروع ہونے کے بعد اس کے دوسرے ملکوں میں پہنچنے سے شدید خطرات پیدا ہوگئے۔ جس کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ مربوط طریقے سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ ادارے کے جنیواکے صدر دفتر میں ایمرجنسی کمیٹی کی سفارش کے بعد ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبری نے یہ اعلان کیا۔ نیو یارک میں ادارے کے ایک دفتر کی ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے ایمرجنسی کمیٹی نے ہنگامی حالت نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اب اس وباء کے چین سے باہر پھیل جانے سے یہ فیصلہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ واشنگٹن میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے اس صورت حال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ چین کے صوبے ”ہوبے“ اور خاص طور پر اس کے صدر مقام شہر ”ووہان“ میں اگرچہ حالات تشویشناک ہیں لیکن چین سے باہر معاملات سنجیدہ ضرور ہیں تاہم زیادہ فکر مندی اور پریشانی کی ضرورت نہیں ہے اس وقت تک چین میں 9692 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 213 اموات شامل ہیں۔ تاہم تازہ 43اموات کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ واشنگٹن کے حکام نے امریکی اور دیگر ممالک کے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر جاری رکھنے کا مشورہ دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کرونا وائرس کی اس نئی قسم سے چین کے علاوہ کسی اور مقام پر کوئی موت واقع نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے ہنگامی حالت کے نفاذ سے سراسمیگی پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جس کسی وباء پر قابو پانے کیلئے عالمی ادارے کو اپنے وسائل استعمال کرنے کیلئے سامنے آنا پڑتا ہے تو وہ ایمرجنسی نافذ کئے بغیر ایسا نہیں کرسکتا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بین الاقوامی ایمرجنسی سے مرادایک ایسی ”غیر معمولی صورتحال“ ہے جس سے دوسرے ملکوں کو خطرہ لاحق ہو جسے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر ایک ”مربوط ردعمل“ کے اظہار کی ضرورت ہے چین نے سب سے پہلے دسمبر میں عالمی ادارہ صحت کو ایک نئے وائرس سے متاثر ہونے والے متعدد کیسزکی اطلاع دی تھی جس کے بعداب اٹھارہ دیگر ممالک میں اس وائرس کے پہنچنے کی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جن میں امریکہ، فرانس، جاپان، جرمنی، کینیڈا، جنوبی کوری اور ویت نام شامل ہیں۔ تاہم تمام ممالک میں چین کے مخصوص شہر سے آنے والے مسافروں سے یہ وائرس پہنچا ہے۔ ادھر امریکہ میں چین سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ کا سلسلہ جاری ہے تاکہ ان میں کرونا وائرس کے موجود ہونے کا پتہ لگایا جاسکے۔ امریکہ میں ابھی تک اس وائرس کے صرف پانچ تصدیق شدہ کیسز ہیں اور ایک کے سوا تمام کیسز چین سے آنے والے افراد ہیں۔ چین سے شکاگو آنے والی ای خاتون سے یہ وائرس اس کے خاوند تک پہنچاہے۔ دونوں میاں بیوی دوسرے افراد کی طرح ہسپتال میں ہیں اوران کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے شہریوں کو خبردار کیاہے کہ وہ چین اور خاص طور پر ”ووہان”کے شہر کا سفر نہ کریں۔ اس دوران صدر ٹرمپ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ حکام کے مطابق پورے امریکہ میں کرونا وائرس کا معاملہ مکمل کنٹرول میں ہے اور اس کے پھیلنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔۔اقوام متحدہ میں چین کے مندوب زینگ جون نے کہا ہے کہ چین عالمی ادارہ صحت کی طرف سے کوورنا وائرس کو عالمی مسئلہ قرار دیئے جانے کے اعلان کا جائزہ لے رہا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اب بھی مشکلات درپیش ہیں لہذا اس حوالے سے بین الاقوامی حمایت بہت اہم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ممالک کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

کرونا ہلاکتیں

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صحت کومعاون خصوصی صحت ظفر مرز ا نے آگاہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث اموات کی شرح 2.2فیصد ہے، سو لوگوں کو یہ بیماری ہو تو 2کی موت واقع ہوسکتی ہے، یہ ا نفیکشن چین میں دریافت ہوا، بہتر تشخیص بھی وہیں ہو سکتی ہے، چینی حکومت کیساتھ اتفاق ہوا ہے کہ کوئی بھی چینی اس وقت تک پاکستان نہیں آئیگا جب تک وہ محفوظ دورانیہ نہیں گزار چکا ہو گا، چین نے اتفاق کیا ہے ان لوگوں کو پاکستان پہنچنے کے بعد 14د ن مشاہدے میں رکھیں گے،ووہان میں 538پاکستانی بچے موجود ہیں، چینی حکام انکی دیکھ بھال کررہے ہیں، چین کی فلائیٹس نہیں آرہیں، 3فروری سے فلائیٹس دوبارہ آنا شروع ہوں گی۔ ظفر مرزا نے چین میں موجود پاکستانیوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ ووہان میں 538پاکستانی بچے موجود ہیں چین نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان کی دیکھ بھال کررہے ہیں، ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ جو کچھ کیا جا جاسکتاہے وہ کر رہے ہیں ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ سست بارڈر میں برفباری کے باعث راستہ بند کیا جاتا ہے، جوکہ اپریل میں کھلے گا ، اس وقت کرونا وائرس کی نہ ویکسین ہے نہ کوئی علاج ہے۔ کمیٹی اجلاس میں ڈریپ سے متعلق معاملہ بھی زیر غور آیا، کمیٹی نے ڈریپ سے بیرون ممالک سے درآمد کی جانے والی ادویات کی تفصیلات طلب کر لیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے وفاق اور صوبے مستعد ہیں، تمام ہوائی اڈوں پر سکریننگ کے نظام کو یقینی بنا رہے ہیں، وزارت صحت میں قائم ایمرجنسی آپریشن سیل بھی صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہے، ایمرجنسی کور کمیٹی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔ وہ جمعہ کو ایمرجنسی کورونا وائرس کی کور کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ اجلاس میں سیکرٹری ہیلتھ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی ایچ، پاک فوج کے نمائندے اور دیگر ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین نے کورونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال اور اقدامات کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ تمام ہوائی اڈوں پر ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ کا تربیت یافتہ عملہ سکریننگ کے نظام کو یقینی بنا رہا ہے، وزارت صحت میں قائم ایمرجنسی آپریشن سیل بھی صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کور کمیٹی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے وفاق اور صوبے مستعد ہیں۔ ڈاکٹر ظفرمرزا نے کہا کہ تمام صوبوں سے درخواست کی ہے کورونا وائرس کے ممکنہ کیسز کیلئے ہسپتال اور علیحدہ وارڈز مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کور کمیٹی میں کیے جانے والے فیصلوں پر عملدرآمد ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر جنگی بنیادوں پر کورونا وائرس سے بچاو کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ دوسری طرفعالمی ادارہ صحت نے کوروناوائرس سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو 100تھرموگنز فراہم کی ہیں جن کی مدد سے داخلی اور خارجی راستوں پر مسافروں کی اسکریننگ کی جائے گی۔تھرمل سکینرز کے ذریعے انسانی جسم کا درجہ حرارت چھوئے بغیر معلوم کیا جاسکے گا اور کورونا وائرس کے مشتبہ افراد کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر پاکستان کے قومی ادارہ صحت کی جانب سے تھرمل سکینرز کی فراہمی کی درخواست کی گئی تھی۔کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر چین کے شہر وہان سے کراچی کے علاقے لیاری پہنچنے والے طالبعلم ارسلان کو آغا خان ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا۔محکمہ صحت سندھ کے حکام کے مطابق ارسلان کی ناک سے رطوبت کا سیمپل لیکر قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد بھجوا دیا گیا ہے اور اگر وہاں سے سیمپل نیگیٹو آیا تو ارسلان کو ہسپتال سے جلدی ڈسچارج کیا جاسکتا ہے۔دریں اثنا لاہور چیمبر نے کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر چین سے تجارت معطل کرنے کا اعلان کردیا جب کہ چین سے آنے والے درآمدی مال پر اسپرے بھی کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔لاہور چیمبر کے کنوینر رحمت اللہ جاوید کے مطابق تاجروں کے لیے نئی ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے۔اعلامیے کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے چین سے تجارت معطل کرکے تمام کنٹینرزکی درآمد روک دی گئی ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ چین سے تجارت فی الحال ایک ماہ کے لیے روکی گئی ہے اور ساتھ ہی مقامی صنعتکاروں و تاجروں کو ویزوں کا اجراء بھی روک دیا گیا ہے۔اعلامیے کے مطابق چین سے مجموعی تجارت کا حجم 15 ارب ڈالر ہے تاہم چین کے علاوہ دیگر ممالک سے تجارتی اشیاء منگوانے پر غور کیا جارہا ہے۔دوسری جانب ایف پی سی سی آئی نے چین سے درآمد کی جانے والی کھانے پینے کی تمام چیزوں پر جراثیم کش اسپرے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔اس ضمن میں کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ چین سے آنے والے درآمدی مال پرپہلے اسپرے کیا جائے گا۔

کرونا انتظامات

مزید : صفحہ اول