سینیٹ خزانہ کمیٹی، اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل ترامیم کیساتھ منظور

      سینیٹ خزانہ کمیٹی، اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل ترامیم کیساتھ منظور

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل2019 ء کی ترامیم کیساتھ منظوری دیدی۔ بل کے تحت منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کی جائیداد تحقیقات کے دوران 180 دنوں تک ضبط کی جا سکے گی،جائیداد کی ضبطگی میں مزید6 ماہ کی اجازت ہوگی، منی لانڈرنگ میں ملوث فرد کو پولیس افسر مجسٹریٹ یا بغیر وارنٹ کے گرفتار نہیں کر سکے گا، منی لانڈرنگ میں ملوث افرادکو 1کروڑ تک جرمانہ اور10 سال تک قید کی سز ہو سکے گی جبکہ کمیٹی نے بل میں منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات کیلئے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے ساتھ دیگر تحقیقاتی اداروں کو تحقیقات کرنے کے اختیارات دینے کے حوالے سے تجویزکو مستر د کردیا۔ جمعہ کوایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل2019 کاجائزہ لیا گیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ بل قومی اسمبلی سے پاس ہو چکا ہے۔ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ رپورٹ میں غلطیاں ہیں جسکی درستگی کیلئے دوبارہ لایا گیا، کمیٹی کو آ گاہ کیاگیا کہ فیٹف سفارشات پر عملدرآمد کا وقت پورا ہو رہا ہے۔ڈی جی ایف ایم یو نے کہاکہ بل میں ترامیم فیٹف سفارشات کے مطابق نہ ہوئیں تو مشکلات ہو سکتی ہیں،سینیٹرعائشہ رضا فاروق نے کہاکہ کیا یہ بل ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا جائے تو گرے لسٹ سے نکل سکتے ہیں، اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل سیکشن(4)،سیکشن(e)(4) 6،سیکشن(1)7 اور(4)7، سیکشن(1)8،سیکشن(5)9،سیکشن21، سیکشن(3)21،سیکشن33اورسیکشن(2)34 میں تجاویز ترمیم کی گئیں تھیں۔ قائمہ کمیٹی نے ترمیم کے ساتھ بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

مزید : صفحہ اول