صدر ٹرمپ کو مواخذے کی ”سیاسی قیمت“ چکانی پڑے گی: پروفیسر ایلن لکٹمن

صدر ٹرمپ کو مواخذے کی ”سیاسی قیمت“ چکانی پڑے گی: پروفیسر ایلن لکٹمن

  



واشنگٹن(اظہر زمان، بیوروچیف) سینیٹ میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مقدمہ اہم مرحلے میں داخل ہو گیا۔سینیٹ میں آخری اطلاعات تک مزید گواہوں کو طلب کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں بحث جاری تھی جس میں پیش ہونے والے ناموں پر ووٹنگ بھی ہونا تھی۔معلوم ہوا کہ ری پبلکن پارٹی کی لیڈر شپ ایک مرتبہ پھر مزید گواہوں کو پیشی سے روکنے اور مزید بحث کرنے سے قبل یک قرارداد کے ذریعے صدر ٹرمپ کو بری کرنے کی تجویز پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مزید گواہ پیش نہ ہوئے تو یہ سینیٹ پر ایک سیاہ دھبہ لگ جائے گا۔ اس دوران امریکن یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ایلن لکٹمن نے ”ایم ایس این بی سی“ ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو سینیٹ نے مواخذے کے مقدمے سے بری بھی کردیا تو پھر بھی انہیں اس کی سیاسی قیمت چکانی پڑے گی۔ وہ ”دی کیس فار امپیچ منٹ“ نامی کتاب کے مصنف بھی ہیں پہلے ڈیمو کریٹس کو بتا چکے ہیں کہ اگر وہ2020 کے انتخابات جیتنا چاہتے ہیں تو انہیں صدر ٹرمپ کا مواخذہ کرنا چائیے وہ مواخذے کا مقدمہ ہار بھی گئے تو پھر بھی صدرٹرمپ کا ریکارڈ خراب ہو جائے گا۔ انہوں نے ایک ری پبلکن سینیٹر الیگزینڈ ر کے اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ صدر نے غلطی کی ہے لیکن اس کا فیصلہ ہم نہیں بلکہ امریکہ کے ووٹر کریں گے۔

پروفیسر ایلن لکٹمن

مزید : صفحہ اول