چین سے پاکستانیوں کو واپس نہ لانے کا اقدام قتل کے مترادف ہے،عثمان کاکڑ سمیت دیگر سینیٹرز کا اظہار خیال

چین سے پاکستانیوں کو واپس نہ لانے کا اقدام قتل کے مترادف ہے،عثمان کاکڑ سمیت ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اپوزیشن نے حکومت سے چین میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کا مطالبہ کردیا۔سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عثمان کاکڑ نے کہا کہ چین میں اس وقت 10 ہزار کے قریب طلبہ سمیت 28 ہزار پاکستانی ہیں، وزیرصحت نے بیان دیاکہ چین سے پاکستانیوں کو پاکستان نہیں آنے دیں گے، وزیرصحت نے حکم دیا پاکستانیوں کو چین سے نا آنے دو، یہ اقدام قتل کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ عجیب حکمران ہیں اور عجیب پالیسی ہے، چین سے آنے والوں کو بے شک آپ کسی جگہ ہفتے 10 دن اکیلا رکھ دیں لیکن اس آفت سے چین میں مقیم پاکستانیوں کو بچایا جائے، حکومت پاکستان 28 ہزار پاکستانیوں کا اقدام قتل کررہی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ کورونا وائرس سے متعلق وزارت خارجہ اور صحت کو اقدامات کرنے چاہئیں، چین میں پاکستانی سفارتخانہ سب سے بڑا ہے لیکن وہاں کوئی فعال افراد نظر نہیں آئے، پاکستان میں ابھی تک کورنٹائن نہیں بنائے گئے، یہ وطیرہ بن گیا ہے کہ ہم جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں، ہماری حکومت نے کہہ دیا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کا چین سے انخلا نہیں کرائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں، چین میں لوگ مررہے ہیں اور ہم خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں، اس فیصلے کا کیا جواز ہے کہ ہم نے چین سے اپنے لوگوں کا انخلا نہیں کرانا، پاکستانی طلبہ کی مائیں رو رہی ہیں۔ راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس بین الاقوامی ایمرجنسی ہے، وائرس کے پھیلاؤ میں چین کا قصور نہیں، وہ خود اس کا شکار ہے، ہرملک کو اپنے شہریوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، دیگر ممالک چارٹرڈ طیارے کرکے لوگوں کو چین سے نکال رہے ہیں، چین میں پاکستانی طلبہ کہہ رہے ہیں وہ تکلیف میں ہیں، حکومت اپنا رویہ درست کرے۔سینیٹر رحمان ملک نے مطالبہ کیا کہ جو پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں انہیں سی ون تھرٹی بھیج کر لائیں، پاکستانی بچوں کے پاس پیسے نہیں ہیں، حکومت اس لیے بچوں کو واپس نہیں لا رہی کہ وائرس پاکستان آنے کا ڈر ہے۔ شیری رحمن نے کہا کہ کرونا وائرس انسانیت کیلئے چیلنج ہے، چین وائرس سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات کئے، پاکستان کو چین کی حمایت کرنی چاہئے۔پی پی رہنما نے مزید کہا کہ چین میں پاکستانی سفارتخانے کی ہیلپ لائن کام نہیں کر رہی، ملکی ائیرپورٹس پر سکریننگ کے حوالے سے نظام کام نہیں کر رہا۔ دیگر ممالک چین سے اپنے شہری نکال رہے ہیں۔سینیٹر محسن عزیزنے کہا کہ پاکستانی طلبہ کو بے یار و مددگار نہ چھوڑا جائے۔ سیمی ایزدی نے کہا کہ حکومت کا اقدام سخت لگ رہا ہو گا، چین اس بیماری کا علاج نکال لے گا اسی لئے پاکستانی طلبہ کو وہاں روکا گیا ہے۔ طلبہ کا چین میں بہتر علاج ہو گا، ہم اس بیماری کا علاج نہیں کر سکتے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ چین پاکستان کا سدا بہار دوست اور ہمیشہ مشکل وقت میں کام آیا۔انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی شکل میں اب چین پرمشکل وقت آیا ہے توہمیں بھی ساتھ دینا چاہئے اورضرورت پڑے توہمارے ماہرین چین کی معاونت کریں۔

سینیٹ/اپوزیشن

مزید : صفحہ اول