جون تک انتظار فرمائیے!

جون تک انتظار فرمائیے!
 جون تک انتظار فرمائیے!

  



حیرت تو اس بات پر ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ڈیووس سے واپس آتے ہی سیاسی بحران پر قابو پالیا۔ ان کی عدم موجودگی میں جس طرح کی پیش رفت ہورہی تھی، اس سے لگتا تھا کہ حکومت کے دن گنے جا چکے، مرکز میں شہباز شریف وزیر اعظم اور پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ ہوں گے، سپیکر بلوچستان اسمبلی وزیر اعلیٰ بلوچستان کو چلتا کریں گے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جس راستے اقتدار میں آئے تھے اسی سے واپس ہولیں گے اور آئی جی سندھ جوتیاں سر پر رکھ کر سندھ سے بھاگتے نظر آئیں گے۔

مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا، اپوزیشن تو اپوزیش حکومت کے اتحادیوں کو بھی یوں چپ سادھ گئی ہے جیسے ان کا وجود ہی نہ ہو۔ اس صورت حال پر اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ وہ آیا، اس نے دیکھا اور اس نے فتح کرلیا!.... لیکن معاملہ واقعی اتنا سادہ ہے جتنا دکھائی دیتا ہے یا پس پردہ کچھ اور عوامل ہیں جس سے پی ٹی آئی حکومت کو ایک اور لائف لائن مل گئی ہے کیونکہ اس مرتبہ تو وفاقی وزیر فواد چودھری نے یہ بھی نہیں کہا کہ سول اور عسکری ادارے ایک پیج پر ہیں، نہ ہی ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی موافقانہ ٹوئٹ سامنے آیا، یہ کیا جادوگری ہے کہ نہ صرف سیاستدان بلکہ ذخیرہ اندوز اور منافع خوف مافیا بھی بلوں میں جا گھسا، آٹے کا بحران جیسے کبھی تھا ہی نہیں اور چینی کی قیمتیں کبھی اوپر کی طرف گئی ہی نہیں ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ ارشاد بھٹی، عارف حمید بھٹی اور مبشر لقمان کو بھی عمران خان کی طرفداری میں گلے پھاڑ پھاڑ کر پروگرام کرنا پڑے ہیں، وہ اکیلا ہی One Man Armyکی تصویر بنے نظر آئے ہیں اور دو دنوں میں ہر طرح کے بحران پر قابو پا گئے ہیں، آخر ان کے پاس ایسی کیا گیدڑ سنگھی ہے؟

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے عہدہ سنبھالنے پر جب کہا تھا کہ وہ کرپشن کے خلاف ایجنڈا رکھتے ہیں تو پی ٹی آئی کے حامیوں کے چہروں کی رونق دیدنی تھی، ان کا خیال تھاکہ نون لیگ کی کم بختی میں کمی نہیں آئے گی۔ ایسی ہی ایک میٹنگ میں جب پی ٹی آئی کے حامی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ نئے چیف جسٹس کرپشن کے خلاف کاروائیاں کریں گے تو ماتحتوں میں سے ایک نے معصومیت سے پوچھاکہ آیا چیف جسٹس نچلی سطح کی عدلیہ میں موجود کرپشن کی بات کر رہے ہیں تو سربراہ نے برا سے منہ بنا کر کہا تھا کہ کوئی بھی ہو کرپشن، کرپشن ہوتی ہے۔ اب خیر سے چیف جسٹس نے شیخ رشید کی وزارت ریلوے کو آڑے ہاتھوں لیا ہے تو وہی صاحب انگشت بدنداں ہیں کہ چیف جسٹس تو نون لیگ کی بجائے حکومت کی سرجری پر لگ گئے ہیں اور سب سے منہ پھٹ وزیر کو لائن حاضر کرلیا ہے۔گویا کہ اسٹیبلشمنٹ نے نیوٹرل رویہ اختیار کیا ہے تو عدلیہ حکومت مخالف ہوگئی ہے جبکہ میڈیاسر سے پاؤں تک منقسم نظر آتا ہے۔

کوئی ہم سے پوچھے توہم تو یہی کہیں گے کہ اگلے چھ ماہ حکومت کو کچھ نہیں ہونے والا!... سردیاں ختم ہونی ہیں تو بجلی کے بلوں نے عوام کی روح قبض کرلینی ہے، مہنگائی مافیا پر قابو نہ پایا گیا تو اپریل میں شروع ہونے والے ماہ رمضان کے دوران مہنگائی کا جادو عوام کے سر چڑھ کر بولے گا اور اس کے بعد جون کے مہینے میں آئی ایم ایف کے اصرار پر حکومت بجٹ میں نئے ٹیکس کا نفاذکرے گی تو تب تک جلسے جلوسوں کا موسم آچکا ہوگا اور اپوزیشن کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہوگا۔ چنانچہ اگر حکومتی سیٹ اپ میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے تو وہ جون کے بعد ہی ممکن ہوگی، اسی لئے بلاول بھٹو نے فروری کے آخری ہفتے سے پنجاب میں عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ شہباز شریف بھی فروری کے وسط سے پہلے واپس آتے دکھائی نہیں دیتے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کی ترجیحات بھی اب روزوں کے بعد ہی واضح ہوسکیں گی۔ چنانچہ اگر اس وقت عمران خان کے ایک ایک دورے نے ہند سندھ میں چین کی بانسری بجادی ہے تو سیاسی طور پر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے اتحادیوں نے گزشتہ نومبر دسمبر سے جو نیٹ پریکٹس شروع کی تھی وہ اب اختتام کو پہنچی ہے اور اب یہ تمام حکومت مخالف حلقے بجٹ کے آس پاس چاقو کھول کر چوک میں کود پڑیں گے!

اس دوران حکومت کٹہرے میں ہی کھڑی رہے گی، کبھی عدلیہ کے کٹہرے میں تو کبھی عوام کے کٹہرے میں، اس دوران اگر کچھ ریلیف ملا تو وہ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے مل سکتا ہے کہ پاکستان کو گرے سے بلیک لسٹ میں نہیں جانا پڑے، اس لئے حکومت کی تبدیلی کا خواب دیکھنے والے جون تک انتظار فرمائیں!

مزید : رائے /کالم