گندم کی خورد برد،محکمہ خوراک کے افسر کی بحالی کا فیصلہ معطل

گندم کی خورد برد،محکمہ خوراک کے افسر کی بحالی کا فیصلہ معطل

  



لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں قائم 3رکنی بنچ نے گندم کی خورد برد میں ملوث محکمہ خوراک کے افسر احسان اللہ کی بحالی کے خلاف دائر درخواست پرافسر کی بحالی کا سروس ٹربیونل کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر حکومت پنجاب سے مزید دستاویزات طلب کر لی ہیں۔ چیف جسٹس مسٹر جسٹس گلزار احمد، مسٹرجسٹس عمر عطا بندیال اورمسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پرمشتمل بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں گندم کی خرد برد میں ملوث محکمہ خوراک کے افسر کی بحالی کے خلاف پنجاب حکومت کی درخواست پر سماعت کی،فاضل بنچ کے رکن مسٹر جسٹس اعجازالاحسن نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ باردانہ اور گندم کی بے شمار بوریاں غائب کی گئی ہیں، احسان اللہ نے سروس ٹربیونل کو بتایا کہ بوریاں سیلاب میں بہہ گئیں، 56 لاکھ روپے کا قومی خزانے کو نقصان ہوا،سروس ٹربیونل نے اس کو کیسے بحال کر دیا؟سرکاری وکیل نے فاضل بنچ کو بتایا کہ احسان اللہ محکمہ خوراک میانوالی میں فوڈ گرین سپروائزر تعینات تھا،میانوالی کے علاقے مچھ میں تعینات افسر احسان اللہ نے 56 لاکھ روپے کی گندم اور باردانہ خورد برد کیا۔

فیصلہ معطل

مزید : صفحہ آخر