حرم مکی میں زائرین کی موجودگی کے باوجود چابکدستی سے صفائی رضاکاروں کا کارنامہ

  حرم مکی میں زائرین کی موجودگی کے باوجود چابکدستی سے صفائی رضاکاروں کا ...

  



لاہور(ڈویلپمنٹ سیل)حرم مکی میں جہاں 24 گھنٹے طواف بیت اللہ جاری رہتا ہے اور یومیہ لاکھوں زائرین حرم میں آتے ہیں، اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد و رفت رہے وہاں مستقل بنیادوں پر صفائی رکھنا یقیناً بہت مشکل کام ہے۔ ادارہ امور حرمین کی جانب سے حرم مکی میں روزانہ کی بنیاد پر کی جانیوالی صفائی کے بارے میں وڈیو جاری کی گئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے طواف کرنیوالوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا کیے بغیر کس طرح منٹوں میں پانچ لاکھ مربع میٹر رقبے کو دھو کر صاف کر دیا جاتا ہے۔ادارہ امور حرمین کے مطابق حرم کے صحن مطاف میں جہاں روزانہ لاکھوں افراد طواف کعبہ کرتے ہیں کو دن میں کم از کم چار باردھویا جاتا ہے۔ فرش کو دھونے کے عمل کا مکمل دورانیہ 45 منٹ کا ہے اس دوران پانچ لاکھ مربع میٹر فرش کو جراثیم کش ادویات سے دھونے کے بعد خوشبو والے محلول سے مہکایا جاتا ہے۔حرم کے فرش کی دھلائی میں تین ہزار76 کارکن حصہ لیتے ہیں جو مختلف شفٹوں میں ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔ وڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ صحن مطاف اور حرم شریف کے دیگر مقامات کو دھونے اور صاف کرنے کے آپر یشن میں 40 الیکٹریکل گاڑیاں اور 60 بجلی کے ویکیوم پمپس کے علاوہ فرش کو سکھانے کے بجل کے دسیوں آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔حرمین شریفین کی انتظامیہ کا کہنا ہے صفائی کے کارکن اپنے کام میں اتنے ماہر ہیں کہ وہاں ہر وقت طواف کرنیوالوں کو کسی قسم کی دقت و پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔انتہائی منظم انداز میں صحن مطاف کو دھونے کے بعد عرق گلاب اور دیگر اعلیٰ قسم کی خوشبو سے صحن کو معطر کیا جاتا ہے۔ صفائی کے اس عمل کی با قاعدہ نگرانی کی جاتی ہے جبکہ کارکنو ں کی ایک پارٹی زائرین اور صفائی کرنیوالے مقام کو جدا کرنے کیلئے ڈیوائیڈر ربن لے کر کھڑے ہوتے ہیں تا کہ صفائی کیلئے استعمال ہونیوالی مشنری سے زائرین متاثر نہ ہوں اور کام میں بھی کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو نے پائے۔واضح رہے ماہ رمضان اور حج سیزن کے دوران صفائی کے اوقات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ رمضان میں لاکھوں افراد حرم شریف میں افطاری و سحری کا بندوبست کرتے ہیں۔افطاری کے وقت جبکہ اذان اور اقامت کے درمیان وقت بہت کم ہوتا ہے اس دوران افطاری کرنے فوری بعد انتہائی مہارت اور چابکدستی سے کارکن صفائی کی مہم انجام دیتے ہیں جو واقعی ایک کارنامہ ہی ہے۔

حرم صفائی

مزید : صفحہ آخر