قومی اسمبلی، حکومت کا بی آئی ایس پی سے مستحقین کو بھی نکالنے کااعرتراف

    قومی اسمبلی، حکومت کا بی آئی ایس پی سے مستحقین کو بھی نکالنے کااعرتراف

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں منی لانڈرنگ کی روک تھام اور سزائیں بڑھانے کیلئے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل2020سمیت5بل پیش کر دئیے گئے۔ انسداد دہشتگر دی ترمیمی بلمیں تجاویز دی گئی ہیں کہ منی لانڈرنگ مقدمے میں ناقص تفتیش کے مرتکب افسر کو 10 سال تک قیدیا 25 ملین روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکیں گی،سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے تحت وفاقی حکومت کے احکامات سے انکار کرنے پر 10 سال تک کی قید کی سزا یا 25 ملین روپے تک کا جرمانہ ہو سکے گا،ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے تمام بل مزید غور و خوض کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دئیے۔جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں مزید ترمیم کا بل (انسداد دہشتگردی ترمیمی بل2020)، ڈاکخانہ نقدی سرٹیفکیٹ ایکٹ 1917 میں مزید ترمیم کا بل(ڈاکخانہ نقدی سرٹیفکیٹ ترمیمی بل2020)، ڈاکخانہ قومی بچت سرٹیفکیٹ آرڈیننس 1944 میں مزید ترمیم کا بل(ڈاکخانہ قومی بچت سر ٹیفکیٹ ترمیمی بل2020)، سرکاری بچت بینک ایکٹ1873 میں مزید ترمیم کا بل (سرکاری بچت بینک ترمیمی بل2020) پیش کئے۔ پارلیمانی سیکریٹری سمندر پار پاکستانیز جویریہ ظفر نے ترک وطن آرڈیننس 1979 میں مزید ترمیم کا بل (ترک وطن ترمیمی بل2020)پیش کیا۔ دریں اثنا ء قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن نفیسہ شاہ کے سوال کہ بی آئی ایس پی سے بہت سے مستحق افراد کو بھی نکالا گیا ہے کا جواب د یتے ہوئے وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے اعتراف کیا کہ بی آئی ایس پی سے کئی نام ایسے نکالے گئے جو واقعی مستحق ہیں۔ بی آئی ایس پی سے غلط نکالے جانیوالے افراد کی شکایات آرہی ہیں، اب تک غلط نکالے جانیوالے 265 افراد کی شکایات آ چکی ہیں جن میں سے 100 درخواستوں کوچیک کرکے بحال کیا جاچکا ہے، توجہ دلاؤ نوٹس پر آغا رفیع اللہ اور دیگر کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر شہری ہوابازی غلام سرور خان نے کہا پی آئی اے کا حشرنشر کر کے ہمارے حوالے کیا گیا،پی آئی اے کا خسارہ 32 ارب سے کم ہو کر 2019 میں 11ارب رہ گیا، پی آئی اے میں جعلی ڈگریوں کے حامل 600افراد کو ملا ز متوں سے برطرف کیا گیا ہے، تمام گراؤنڈ کئے گئے جہازوں کو پروازوں کیلئے فعال کردیا، آٹھ بوئنگ 777طیاروں میں دوران پرواز خاطر داری کو بہتر بنانے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے ریمارکس کی روشنی میں ٹینڈرز پر مزید پیشرفت روک کر تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔ تمام تر خرافات کے باوجود پی آئی اے کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔خسارے، اخراجات میں کمی، ریونیو بڑھ رہا ہے۔توجہ مبذول نوٹس پر وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ چاول اور کپاس کی فصل کو ہنگامی بنیادوں پر دستیاب وسائل بروکار لاتے ہوئے ٹڈل دل سے بچا لیا،ٹڈی دل ہماری زرا عت کیلئے تباہ کن ہوسکتی ہے،ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے اگلے ڈیڑھ سال کیلئے7 ارب 30کروڑ روپے کی لاگت سے جامع پروگرام بنا لیا ہے، ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں، حکومت نے پیپرا رولز کو معطل کرکے کیڑے مار ادویات منگوائیں جبکہ وفاقی حکومت نے پچاس کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی تھی۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) نے ملک میں آٹا بحران کی تحقیقات کیلئے منتخب نمائندوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔لیگی رہنما رانا تنویر حسین نے کہا ملک میں آٹا بحران سے اربوں روپے جیبوں میں ڈالنے والوں کو بے نقاب کرنے کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے،وزیر اعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ موصول ہونے کے باوجود ذمہ داروں کے نام نہیں بتائے،آٹے کے بحران کے پیدا کرنیوالوں میں وفاقی کابینہ کے کچھ ارکان کے نام بھی آ رہے ہیں۔جمعہ کواجلاس میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا تنویر حسین نے کہا کہ گزشتہ دنوں ملک میں آٹے کا بحران پیدا ہوا جس سے ہر شخص متاثر ہوا۔بحران کی بدولت جن لوگوں نے اربوں روپے کمائے ان پردہ نشینوں کے نام ہمیں بتائیں جائیں جن لوگوں نے قوم کو تکلیف پہنچائی اور روٹی کا نوالہ چھینا ان کے نام بتائے جائیں، یہ پارلیمان 22 کروڑ عوام کا نمائندہ ہے اس کو بھی تحقیقات سے اگاہ نہیں کیاگیا۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ آخر