مذہبی دل آزاری پر مبنی کیس کی سماعت موخر

  مذہبی دل آزاری پر مبنی کیس کی سماعت موخر

  



ملتان (خبر نگار خصوصی)سینئر سول جج جہانیاں کے رخصت پر ہونے کی وجہ سے امام ہونے کے مبینہ دعویدار ملزم (بقیہ نمبر36صفحہ7پر)

کے خلاف مذہبی دل آزاری پر مبنی کیس کی سماعت گزشتہ روز سینٹرل جیل میں نہ ہوسکی۔اج مزید گواہوں پر جرح مکمل ہونی تھی آئندہ سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائیگی گزشتہ پیشی پرفاضل عدالت میں کمپیوٹر آپریٹر یوسف کمال اور محرر عابد محمود کے بیانات پر جرح مکمل کی گئی، سماعت کے دوران ملزم(فرحان) کے وکیل سید اطہر شاہ بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا موکل نے تصوف پر دو درجن سے زائد کتب لکھیں وہ کیسا ایسا دعویٰ کرسکتا ہے اور یہ سازش ٹھٹھہ صادق آباد کی فوزیہ سردار نامی ایک خاتون نے رانا محمد فریاد کے ساتھ مل کربنائی ہے بعدازاں پولیس کے ساتھ مل کر مذہبی دل آزاری کا مقدمہ درج کرادیا اور پولیس نے بھی تحقیق کیے بغیر اس نوجوان کو ملزم جان کر جیل بھجوا دیا اور اس کے خلاف نہ صرف مذہبی دل آزاری بلکہ 16 ایم پی او کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا۔

موخر

مزید : ملتان صفحہ آخر