امریکی تاجروں تک رسائی‘ پاکستانی نوجوانوں کو مفت تربیت دینے کا اعلان

امریکی تاجروں تک رسائی‘ پاکستانی نوجوانوں کو مفت تربیت دینے کا اعلان

  



ملتان (سٹی رپورٹر)ماہر امور سرمایہ کاری اور کاروباری ترقی اور ایرن کیش فلووید آؤٹ انویسٹمنٹ کے بانی پاکستانی نژاد امریکی محمد صدیق نے لاکھوں پاکستانی نوجوانوں کی امریکی کاروباری کمپنیوں اور تاجروں تک رسائی کو ممکن بنانے کے لیے مفت تربیت کا اعلان کردیا۔ آن لائن طریقہ کار کے تحت نوجوانوں کو امریکہ میں کاروبار کے طریقہ کار کی آگاہی دی جائے(بقیہ نمبر15صفحہ12پر)

گی۔ امریکہ میں دنیا کے سب سے زیادہ30لاکھ چھوٹے کاروبار ہوتے ہیں 4.8 ٹریلین ڈالر کا سالانہ کاروباری حجم ہے۔ عوام خدمت کے جذبے کے تحت پاکستانی نوجوانوں کو امریکی کاروبار کے مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں تعلیم، عمر، زبان کی کوئی قید نہیں ہے۔ ان خیا لات کا اظہارانہوں نے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے جناح آڈیٹوریم میں ”ایرن کیش فلووید آؤٹ انویسٹمنٹ“سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے نوجوان انتہائی باصلاحیت ہیں۔ مواقع تک رسائی کی ضرورت ہے کوئی ایسا کام نہیں ہے جو پاکستانی نوجوان نہ کرسکے۔ امریکہ میں 30لاکھ مختلف چھوٹے کاروبار ہورہے ہیں جس میں 4.8ٹریلین ڈالر کا سالانہ کاروبار ہوتا ہے پاکستان کے نوجوان بغیر کسی معاوضے کے امریکی کاروبار تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور گھر بیٹھے ماہانہ ڈالرز کما سکتے ہیں اس کے لیے کسی معاوضے کی ضرورت نہیں ہے صرف تعلیم کو استعمال کرنا پرے گا کسی بھی زبان میں وہ امریکی کاروبار تک اپنی رسائی کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی اور اردو کسی بھی زبان میں آپ آن لائن مختلف امریکی کمپنی یا تاجر سے بات اور ڈیلینگ کرسکتے ہیں اس کے لئے دیلتھ کیش فلو چیلنجز ڈاٹ کام کے ذریعے تربیت دی جائے گی ہماری طرف سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا جائے گا پہلے بھی ہم ایک پروگرام کے تحت ہم پاکستان کے2لاکھ نوجوانوں کو تربیت دے چکے ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کو ڈالر کمانے کا طریقہ بتا رہے ہیں ٹیکنالوجی کا دور ہے مواقع تک رسائی کی تربیت دی جائے گی اس کے لیے سمارٹ فون اور بینک اکاؤنٹ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ویب پیج پر آئیں اور اپنی خواہش بتائیں ہم آپ کی رہنمائی کریں گے پاکستان میں آن لائن بزنس کمانے کا طریقہ بتانے کا مقصد صرف اور صرف عوامی خدمت ہے یہی جذبہ کارفرما ہے سب پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ ہمارے شانہ بشانہ چلیں نوجوانوں کے ذریعے اربوں ڈالر پاکستان آنا شروع ہوجائیں گے امریکی تاجر اور امریکی کمپنی سے پاکستان میں بولی جانے والی کسی بھی زبان میں بات کرسکتے ہیں انگلش اگر آتی ہے تو اس سے زیادہ فائدہ ہوگا تعلیم اور عمر کی کوئی حد نہیں ہے۔ ایف اے بھی کافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں کاروبار کے لیے کسی ویزے کی ضرورت نہیں ہے پاکستان بیٹھے آپ کی ساری ڈیلینگ ہوگی امریکہ کاروبار تک رسائی کا انتخاب ا س لیے کیا کہ دنیا میں سب سے زیادہ چھوٹے کاروبار امریکہ میں ہوتے ہیں مجھے خود بھی تجربہ ہے پاکستانی نژاد امریکیوں سرمایہ کاری و کاروباری جدید طریقوں کے علاوہ پاکستانی نوجوان تربیت دینا چاہتے ہیں اور کوئی بھی مفاد وابستہ نہیں ہے

سیمینار

مزید : ملتان صفحہ آخر