آئی جی سندھ کی تبدیلی صوبائی حکومت کا آئینی حق ہے،حافظ احمد علی

آئی جی سندھ کی تبدیلی صوبائی حکومت کا آئینی حق ہے،حافظ احمد علی

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علماء اسلام (س) کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ احمد علی نے کہا ہے کہ آئی جی سندھ کی تبدیلی کی صوبائی حکومت کا آئینی و قانونی حق ہے۔وفاقی حکومت معاملے کو انا کا مسئلہ نہ بنائے اور سندھ حکومت کی جانب سے بھیجے گئے ناموں میں سے کسی ایک کو نیا آئی جی سندھ تعینات کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو کارکنوں کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر علامہ عبدالستار بلوچ اور مفتی حماد مدنی بھی موجود تھے۔ حافظ احمد علی نے کہا کہ موجودہ آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام کی تعیناتی کے دوران صوبے میں جرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کچھ پولیس افسران اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے عوام کی پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔بارہا شکایات کے باوجود ان افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ کی تبدیلی کی منظوری صوبائی کابینہ نے دی ہے اور وفاق کو آئین و قانون کے مطابق نئے آئی جی کی تعیناتی کے لیے پانچ نام ارسال کیے گئے ہیں تاہم وفاقی حکومت نے اس کو انا کا مسئلہ بنالیا ہے جو انتہائی غیر مناسب ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ کی تعیناتی سے گورنر سندھ کا کوئی تعلق نہیں ہے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ جس طرح اس نے خیبرپختونخوا اور پنجاب میں صوبائی حکومتوں کی سفارش پر نئے آئی جیز کی تعیناتی کی ہے اسی طرح حکومت سندھ کا بھی آئینی و قانونی حق تسلیم کرتے ہوئے فوری طور پر نئے آئی جی سندھ کی تعیناتی کی جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر