بزم تقدیس ادب کے زیر اہتمام اعجاز رحمانی تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

      بزم تقدیس ادب کے زیر اہتمام اعجاز رحمانی تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)اعجاز رحمانی جیسے شاعر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بات بزم تقدیس ادب کے زیر اہتمام نارتھ کراچی میں اعجاز رحمانی کیلئے منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے معروف ادیب و شاعر رونق حیات نے کہی۔ انہوں نے کہا کہ نعت گوئی کے حوالے سے اعجاز رحمانی کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعجاز رحمانی کا خلا کوئی پورا نہیں کرسکتا ہے۔ صدر تقریب رفیع الدین راز نے کہا کہ اعجاز رحمانی ایک بلند پایہ شاعر تھے۔ نعت گوشاعروں میں بھی اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔ اعجاز رحمانی کا حضور? کی سیرت طیبہ سے تعلق انتہائی گہرا اور سچا تھا۔ ا?پ کی حضور? سے عقید دلی اور رحانی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ا?پ کی نعت میں روح کو چھو لینے اور روح میں اترنے کا اثر تھا۔ اس تعزیتی ریفرنس سے مہمانِ اعزازی معتبر شاہجہاں پوری نے کہا کہ اعجاز رحمانی ایک مستند نعت گو شاعر تھے جنہیں مکمل عبور حاصل تھا۔ انہوں نے اپنی عقید ت اور محبت کا اظہار نعت گوئی کے ذریعہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے کراچی کے نائب امیر اسامہ رضی نے کہا کہ اعجاز رحمانی ہمارا ایسا اثاثہ ہیں جس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ ان کا نعتیہ کلام ایک ایسا سرمایہ حیات ہے جسے پڑھ کر سکون حاصل ہوتا ہے۔ قبل ازیں تقدیس ادب کے جنرل سیکریٹری احمد سعد خان نے تقدیس ادب کا تعارف اور بہترین میزبانی کے فرائض انجام دیئے، دیگر مقررین میں نظر فاطمی، رضا حیدر، اکرم رازی، صدیق راز، اختر سعیدی، ا?صف رضا رضوی، حنیف عابد شامل تھے۔ ا?خر میں اعجاز رحمانی کیلئے فاتحہ خوانی اور دعا بھی کی گئی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر