عوض نور کے قاتلوں کو نشان عبرت بنایا جائے‘ جمشید دستی

عوض نور کے قاتلوں کو نشان عبرت بنایا جائے‘ جمشید دستی

  



چھوٹا لاہور (نمائندہ پاکستان)عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی نے نوشہرہ کے علاقہ زیارت کاکاصاحب میں انسان نما بیڑیوں کی درندگی کی شکار کمسن بچی عوض نور کی شہادت پر معصوم مقتولہ کے پسماندگان کیساتھ اظہار تعزیت کے موقع پر تحصیل لاہور پریس کلب کے کارکن صحافیوں انوارالحق، استخار احمد اورظفراقبال سائل سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاہے کہ معصوم بچی کیساتھ جو کچھ ہوا ہے یہ نہایت انسانیت سوز،شرمناک اور افسوس ناک واقعہ اوربہت بڑاظلم ہوا ہے اسکی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے بحیثیت ایک مسلمان اور اسلامی معاشرہ میں رہتے ہوئے ایسے دلخراش واقعات کا پیغام جب بیرون ممالک پہنچتے ہیں توباہر کی دنیا کو ہم کیا منہ دکھائیں گے یہ ہماری اور ہماری سٹیٹ کی بڑی بدقسمتی ہے کہ آج تک کسی ایک بھی ایسے درندے اوربیڑئیے کو نشان عبرت نہیں بنایاگیااس موقع پر انکے ہمراہ صوابی سے پی ٹی آئی کے رہنما سابق اُمیدوارتحصیل کونسل لاہور شاہ خالد خان، ضلعی نائب ناظم نوشہرہ ذوالفقار خٹک اوردیگربھی ہمراہ تھے عوامی راج پارٹی کے سربراہ کاکہناتھاکہ جب عوام بیرون ملک رزق حلال کمانے کیلئے جاتے ہیں توپیچھے انکی اولاد کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے جسمیں ہمیشہ حکومتیں غفلت برت رہی ہوتی ہیں اورنہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ اب عوض نور بچی کے قاتل پکڑے بھی گئے ہیں ملزم اقرارجرم بھی کرچکاہے مگر فوری سزاکے بجائے کبھی ایک اورکبھی دوسرا ٹیسٹ کرایاجارہا ہے اورنہ جانے کتناعرصہ عدالتوں کے چکرکاٹنے پڑیں گے ہوناتوچاہیے تھاکہ ملزم کے اعتراف جرم کے بعدفوری طور انہیں الٹایا لٹکایاجاتا تاکہ اوروں کو نشان عبرت بنتا ہماری بدقسمتی ہے کہ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں جو ذاتی فائدے کیلئے توکچھ بھی کرلیتے ہیں مگرعوام کیلئے کچھ نہیں بچوں سے درندگی کے واقعات میں روزبروزاضافہ اسی وجہ سے ہی ہورہا ہے کہ درندوں کو سزانہیں مل رہا انکایہ بھی کہنا تھا کہ یہ وزیراعظم عمران خان کی بھی بیٹی تھی یہاں سے انہیں کافی عزت افزائی ملی ہے اورحال یہ ہے کہ ابھی تک عمران خان درندگی کی شکار کمسن عوض نور کے پسماندگان کے زخموں پر مرحم پٹی لگانے بھی نہیں آئے چاہیے تویہ تھاکہ اب تک عمران خان پہنچ جاتے اوراُن بیڑیوں کے سر سرعام قلم کرواکے انکی نعشیں بھی جلائی جاتیں مگر افسوس کہ ریاست مدینہ کے دعویدار صرف نعروں پر عوام کو خوش رکھتے ہیں جمشیددستی نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اور چیف جسٹس آف پشاور ہائی کورٹ سے بھی اپیل کی کہ خدارا جو معصوم بچی کو زیادتی کانشانہ بناکے قتل بھی کرنے والوں کو کوئی مہلت دئیے بغیر فوری سزائے موت دلوادیں کہ بیڑئیے سے بھی بدترلوگ،معاشرہ کے ناسوراورخوفناک درندے ہیں اورمہربانی کرکے یہ رکاوٹ وہ رکاوٹ یہ ٹیسٹ وہ ٹیسٹ ختم کردیجئے ان چیزوں کو ایسے خطرناک ملزموں کو سزائے موت دلوانے میں عدالتوں کے پاس بہت بڑے راستے ہوتے ہیں اس موقع پر جمشیددستی نے متاثرہ خاندان کو یہ بھی یقین دلایا کہ انصاف کی حصول اورعوض نور بچی کے درندوں کو نشان عبرت بنانے کیلئے اگر پشاور اوراسلام آباد میں دھرنے بھی دینے پڑے تو میں گریز نہیں کرونگا اورانشااللہ معصوم بچی کے قاتلوں کو نشات عبرت بنانے کیلئے کسی بھی حدتک جاؤنگا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر