فضل اللہ پیچوہو کو صوبائی محتسب بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے: فردوس شمیم

فضل اللہ پیچوہو کو صوبائی محتسب بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے: فردوس شمیم

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ صوبائی محتسب کے عہدے پر آصف علی زرداری کے بہنوئی فضل اللہ پیچوہو کو تعینات کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے،جس پر ہمیں اعتراض ہے کیونکہ یہ عہدہ نیب سمیت دیگر اداروں کی تحقیقات سے بالاتر ہے۔سندھ حکومت کی کارکردگی بدسے بدتر ہوتی جارہی ہے،ہمارا وفاقی حکومت سے مطالبہ ہے کہ چیف سیکرٹری سندھ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایاجائے۔امتیاز شیخ اور سعید غنی کے خلاف الزامات کی تحقیقات ایف آئی اے سے کرانے کے لیے وفاقی وزیر داخلہ کو خط لکھا ہے۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سندھ اسمبلی میں حلیم عادل شیخ،علی جی جی،سدرہ عمران اور اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ قانون یہ ہے کہ آئی جی سندھ کی تعیناتی کے لیے تین نام وفاق دے گا۔یہ سندھ حکومت کا منظور کردہ قانون ہے۔آئی جی سندھ کی تعیناتی تین سال کے لیے ہوتی ہے۔کیا یہ اخلاقیات ہیں کہ آئی جی کے لیے نام پریس کانفرنس کے ذریعے دیئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ سے بات چیت سے انکار کرکے صوبائی حکومت نے گورنر کی توہین کی ہے۔گورنر سندھ وفاق کے نمائندے ہیں۔اتفاق رائے کے لئے وہ اپنا کردارادا کررہے ہیں۔وزیراعظم کے وعدے پر سندھ حکومت بھرسہ نہیں کررہی ہے۔پچھلے 12سال میں 14آئی جیز تبدیل ہوچکے ہیں۔اگر انہیں گورنر کے حوالے سے اعتراضات ہیں تو وہ عدالت چلے جائیں۔انہوں نے کہا کہ جب بھی سندھ میں کوئی عہدہ خالی ہوتا ہے تو اس پر تنازع پیدا ہوجاتا ہے۔42فیصد اپوزیشن اورمرکز سے بات نہیں کی جاتی ہے۔صوبائی محتسب کا عہدہ پیرکے دن سے خالی ہورہا ہے۔آصف علی زرداری کے بہنوئی فضل اللہ پیچوہو کو اس عہدے پر تعینات کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے،جس پر ہمیں اعتراض ہے کیونکہ یہ نیب سمیت دیگراداروں کی تحقیقات سے بالاتر عہدہ ہے۔صوبائی محتسب کی تعیناتی کے حوالے سے اپوزیشن اور وفاق سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی جارہی ہے۔صوبائی محتسب صاف ستھراانسان ہونا چاہیے،جس پر جس کے اوپر الزامات اورکیسزنہ ہوں۔فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ پیپلزپارٹی 12سال سے سندھ میں برسراقتدار ہے لیکن صوبے میں کوئی بھی بہتری نہیں آئی ہے۔مختلف محکموں کے سیکرٹریز کو تیزی کے ساتھ تبدیل کردیا جاتا ہے لیکن چیف سیکرٹری سندھ کی کمر میں ہڈی ہی نہیں ہے۔ہم وفاق سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چیف سیکرٹری سندھ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کی جانب سے صوبائی وزرا امتیاز شیخ اور سعید غنی پر عائد الزامات کے حوالے سے ہم وفاقی وزیر داخلہ کو خط لکھا ہے،جس میں مطالبہ کیا ہے کہ دونوں وزراء پر عائد الزامات کی تحقیقات ایف آئی اے سے کرائی جائیں۔فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ ٹیکس کلیکشن میں کمی کے باعث این ایف سی کی مد میں تمام صوبوں کو کم پیسے مل رہے ہیں تاہم حکومت سندھ کو بجٹ میں پچھلے سال کے حساب سے 32 فیصد زیادہ پیسے ملے ہیں۔ہمیں ایسے چیف سیکرٹری کی ضرورت نہیں ہے جو ایک پاری کا حصہ بن گئے ہوں۔اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا کہ گورنر آئین کے تحت سندھ حکومت کا بوریا بستر گول کرسکتا ہے، تاہم ابھی ماحول نہیں کہ گورنر ایسا کریں۔انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے پولیس افسران کو دھمکیاں دیں اور انہیں کہا کہ آئی جی کا ساتھ دیا تو سب کو ٹھیک کردوں گا۔

مزید : صفحہ اول