نا اہل وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں سے ملک میں معاشی بحران بڑھا ہے: سعید غنی

نا اہل وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں سے ملک میں معاشی بحران بڑھا ہے: سعید غنی

  



خیرپور(این این آئی) سندھ کے وزیراطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ نالائق اور نااہل وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کے وجہ سے ملک میں معاشی بحران بڑھا ہے جس کے اثرات سندھ صبے پر بھی پڑے ہیں، آئی جی سندھ کے معاملے پر ضد کرکے سندھ کے لوگوں کو دوسرے درجے کے شہری کا احساس دلانے کی کوشش کی جارہی ہے، اگر جبری طور پر فیصلہ مسلط کیا گیا تو اسے قبول نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظیار خیرپور میں وسان ہاؤس پر وزیراعلیٰ سندھ کے خصوصی معاون برائے بینظیربھٹو ہاؤسنگ سیل نواب علی وسان کے ساتھ ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سینیٹر یوسف بلوچ بھی موجود تھے۔صوبائی وزیراطلاعات سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں حزب اختلاف پی ٹی آئی اور جی ڈی اے کی رضامندی سے آئی جی لانے غلط روایت ڈالنے کی کوشش کی جارئی ہی اگر ایسا کرتے ہوئے فیصلہ مسلط کیا گیا تو سندھ حکومت ہرگز اسے قبول نہیں کریگی۔ انہوں نے کہا کہ ڈسمبر میں وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران وزیراعظم نے آئی سندھ کی تبدیلی پر مشاورت کے بعد رضامندی ظاہر کی بعد میں ان کا ایک بھی واعدہ وفا نہیں ہوا، وزیراعظم کو سوچنا چاہئے کہ وہ کون لوگ ہیں جو انہیں شرمندہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نامزدآئی جیز کو گورنر سندھ کی جانب سے نامناسب قرار دینا اور ان پر بغیر ثبوتوں کے 22ویں گریڈ کے کسی افسر پر الزام لگانا غلط عمل ہے، کے پی، پنجاب اور اسلام آباد کے آئی جیز 30۔30منٹس میں تبدیل ہوتے رہے مگر صرف سندھ کے آئی جی کی تبدیلی کا معاملہ وفاقی کابینا میں جانا سندھ کیلئے غلط پیغام ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے تعلیم، صحت اور بیروزگاری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ مسائل صرف سندھ میں نہیں بلک پورے ملک میں ہینں، مگر سندھ صوبے کو ٹارگٹ کرکے بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو نامناسب ہے، دیگر صوبوں کے بارے میں اسٹڈی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے اپنے لوگوں کو راضی کرنے کیلئے اسکولوں کے نام پر بھینسوں کے باڑے بناکر دیے، تھرپارکر کے ایک گاؤں میں تو 57اسکول قائم کیے گئے، مگر موجود پیپلزپارٹی حکومت نے پہلی مرتبہ اسکولوں کی سروے کروائی اور معلوم ہوا کہ 42ہزار اسکولوں میں سے صرف 9ہزار اسکول ایسے ہیں جہاں 80فیصد انرولمنٹ ہے جہاں ترجیحی بنیادوں پر مطلبوبہ ضروریات کو پورا کیا جارہا ہے، یو ایس ایڈ کے تحت 100سے زائد اسکولوں کو اسٹیٹ آف دی آرٹ بنایا جارہا ہے جن میں سے 40سے زائد مکمل ہوچکے ہیں جن میں پرائیویٹ اسکولوں سے بھی بہتر تعلیم مہیا ہورہی ہے۔ صوبائی وزیراطلاعات سعید غنی نے کہا کہ صحت کے شعبے کے فروغ کیلئے سندھ حکومت بھرپور کوششیں کر رہی ہی اور مہنگے علاج کی سہولیات بھی سندھ میں مفت دی گئی ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ دیگر صوبوں کے لوگ بھی سندھ میں علاج کیلئے آ رہے ہیں گمبٹ جیسے چھوٹے تعلقہ میں قائم میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں سندھ حکومت کی جانب سے سہولیات دینے کے بعد 100سے زائد لوگوں کے جگر کی رکارد ٹرانسپلانٹیشن کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ادویات کی خریداری میں حکومت نے جان بوجھ کر دیر نہیں کی، اس عمل کو شفاف بنانے اور قوانین کی پاسداری کرنی ہوتی ہے تمام جلد خریداری عمل میں آجائے گی اور قلت ختم ہوگی۔ خیرپور ہسپتال سے ادویات کی چوری کے حوالے سے سوال کے جواب میں صوبائی وزیراطلاعات نے کہا کہ ادویات چوری ہونے والے معاملی کی تحقیقات ہوگی اور زذمیواران کے خلاف کاروائی کی جائے گی، یہ طریقہ غلط ہے کہ عام لوگوں کے علاج کیلئے آنے والی ادویات چوری ہوں، اگر پہلے بھی چوری کا واقعہ ہوا تھا تو اس مرتبہ ادویات کی حفاظت کیلئے انتظامات کیوں نہیں کیے گئے اس معاملے کو ضرور دیکھا جائیگا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ گذشتہ مالی سالے میں وفاقی حکومت نے سندھ کو ایک سو پانچ ارب روپے کم دیے، جس کی وجہ سے یونیورسٹیوں سمیت صوبے کے دیگر بڑے منصوبے متاثر ہوئے امید کی جارہی ہے کہ وفاق اپنے واعدوں پر عمل کریگا۔ انہوں نے کہا کہ خیرپور پریس کلب کے لئے فنڈز اور فرنیچر سمیت دیگر مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائینگے۔

مزید : صفحہ اول