مودی مخالف ٹیبلوپیش ہونے پرسکول کی ہیڈ مسٹریس اور طالبہ کےاہلخانہ مشکل میں پھنس گئے، گرفتاریاں

مودی مخالف ٹیبلوپیش ہونے پرسکول کی ہیڈ مسٹریس اور طالبہ کےاہلخانہ مشکل میں ...
 مودی مخالف ٹیبلوپیش ہونے پرسکول کی ہیڈ مسٹریس اور طالبہ کےاہلخانہ مشکل میں پھنس گئے، گرفتاریاں

  



بنگلور(ویب ڈیسک) بھارت میں متنازع شہریت قانون کیخلاف ٹیبلو پیش کرنے کے جرم میں سکول کی ہیڈ مسٹریس اور ایک طالب علم کی والدہ کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کرناٹک میں بیدار نیو ٹاؤن تھانے کی حدود میں قائم شاہین پبلک اسکول میں منعقد کردہ تقریب میں طلبا نے ٹیبلو پیش کیا جس میں متنازع شہریت ترمیم قانون پر تنقید کی گئی تھی۔ ٹیبلو کے کرداروں میں وزیراعظم مودی کا بھی کردار شامل تھا۔شکایت ملنے پر پولیس نے  سکول پر چھاپہ مارا، ہیڈ مسٹریس، اساتذہ اور طالبات سے پوچھ گچھ کی جس کے بعد ہیڈ مسٹریس فریدہ بیگم کو گرفتار کرلیا گیا جب کہ ٹیبلو میں مودی کے بارے میں تنقیدی جملے کہنے والی طالبہ کی والدہ 26 سالہ زیب النسا کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پولیس نے دونوں خواتین کو عدالت کے سامنے پیش کر کے جوڈیشل ریمانڈ حاصل کر لیا جب کہ اسکول انتظامیہ نے ہر قانونی اقدام اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس نے کارروائی ایک سماجی کارکن کی درخواست پر کی جس میں کہا گیا تھا کہ ٹیبلو میں متنازع شہریت ترمیم قانون کی مخالفت اور وزیراعظم مودی کی بے عزتی کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ یہ ٹیبلو چوتھی، پانچویں اور چھٹی جماعت کی طالبات نے 21 جنوری کو پیش کیا تھا جب کہ 26 جنوری کو اسکول کیخلاف پرچہ درج کیا گیا تھا اور دو دن تک پولیس نے اسکول کا کنٹرول روم بند کرکے تفتیش کی تھی اس کے بعد گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔

مزید : بین الاقوامی