ریاست مدینہ میں مسئلہ کشمیر

ریاست مدینہ میں مسئلہ کشمیر
ریاست مدینہ میں مسئلہ کشمیر

  



تحریر: شبانہ ایاز

اچھا کیا وزیراعظم صاحب نے اپنا رخ مدینے سے واشنگٹن کی جانب موڑ لیا،ورنہ اگر اب مدینے کا نام لیتے تو لوگ یاد نہ دلا دیتے کہ مدینے والے تو دشمن کے لائو لشکر کے مقابلے میں اپنی بے سروسامانی کی حالت میں محض دین کی سر بلندی کے لئے میدان بدر جا پہنچے تھے۔اپ دنیا کی بہترین فوج کے وزیراعظم اور ایٹمی قوت ہوتے ھوئے دنیا کے کھوکھلے بیانات کا حوالہ دے کر پاکستان کی عوام کو جھوٹی تسلیاں دے رہے ہیں۔

تاریخ اسلام میں مسلمان حکمرانوں نے ہمیشہ کمزور مسلمانوں کی داد رسی کی ہے۔ عباسی خلیفہ محتصم باامراللہ نے بوڑھی عورت کی شکایت کے ازالہ کے لیے فوج کوعموریہ (عیسائی ریاست) پر چڑھائی کا حکم دیا.عباسی خلیفہ نےاس موقع پر یادگار جملہ بولا تھا ''تلوار نجومی سے زیادہ سچ بولتی ہے.'' سراندیب (موجودہ لنکا) سے بحری راستے راجہ داہر کی قزاقی کا شکار مسلمان لڑکی کی پکار پر حجاج کی مدد کے نتیجے میں سندھ کا دارالسلام بن جانا اسی تلوار اور اسلامی حکمرانوں کی دادرسی کا کرشمہ تھا

کشمیریوں کے جذبہ حریت کو سرد کرنا اب مودی سرکار کے بس کی بات نہیں.کشمیری مسلمان 90 برس سے جبر و استبداد سے نجات کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں.کشمیریوں نے 193میں ڈوگرہ راج سے آزادی کے لئے اپنی تحریک کا آغاز کیا تھا, کشمیری مسلمانوں نے پہلے مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے قائد حریت چوہدری غلام عباس مرحوم کی قیادت میں تحریک مزاحمت شروع کی اور آج سید علی گیلانی چودھری غلام عباس کے بعد بھارت کے خلاف نبردآزما تمام کشمیری رہنمائوں کے غیر متنازعہ قائد ہیں. کشمیریوں نے پہلے ڈوگرہ راج اور بعد ازاں بھارتی جبر و استبداد سے آزادی کے لئےایک لاکھ سے زائد اپنے جوانوں،بچوں اور بزرگوں کی جانوں کی قربانیاں پیش کیں۔ ہزاروں مائوں، بہنوں، بیٹیوں کی عزت و آبرو کی چادر تار تار ہوئی۔ آج پورا مقبوضہ کشمیر جیل خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے

مودی سرکار نے تمام حریت قائدین،سیاسی کارکنوں اوررہنمائوں کو گرفتار کر رکھا ہے۔احتجاج کرنے والے اور گھروں سے نکلنے والے ہزاروں کشمیریوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے.مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیہ پال نےمحبوبہ مفتی اورعمرعبداللہ کو اسں شرط پہ رہا کرنے کا کہا کہ وہ رہائی کے بعد خاموش رہیں گے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے لیکن عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی نے مودی سرکار کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت نے پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کرکے بھارت میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو نافذ کردیا تھا۔بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈائون ہے۔ سخت سردی بڑھنے کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج کی طرف سے مظالم کا سلسلہ بھی طویل سے طویل اور سخت سے سخت تر ہوتا جا رہا ہے۔80 لاکھ سے زائد انسان دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید ہیں. وادی میں خوراک اور ادویات کی قلت بھی برقرار ہے.نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران کشمیری نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کرشہید کیا جارہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے جنگ سمیت تمام راستے کھلے ہیں۔ اس مسئلہ کی بنا پر اب تک تین جنگیں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہو چکی ہیں اور چوتھی جنگ کے خطرات سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ کشمیری اگر اپنی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھائیں تو انہیں اس کا اختیار جنیوا کنونشن بھی دیتا ہے۔جبکہ اسلام جبر و استبداد کے خلاف جہاد کا حکم تو دیتا ہی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو اس جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا،کیونکہ مودی حکومت جنگی جنون میں مبتلا ہے۔

کشمیر کا نوجوان نہتا بھارتی فورسز کی گولیوں کے آگے سینہ تانے کھڑا ہے۔ بین الاقوامی قانون رائٹ ٹو سیلف ڈیٹرمینیشن یہ واضح کرتا ہے کہ جب کسی آبادی پر قبضہ اور ظلم اور استبداد ہو اور بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جارہے ہوں تو وہاں پر مسلح جدوجہد ضروری ہو جاتی ہے۔ کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور مالی حمایت ضروری ہے۔ عالمی ادارے اور طاقتیں مودی کی پشت پر ہیں۔ کشمیر میں اسرائیل کا پلان آزمایا گیا ہے۔ انڈیا دوسرا اسرائیل بن چکا ہے۔ لیکن کشمیری فلسطینیوں کی طرح اکیلے نہیں ہیں۔ انڈیا کے مسلمانوں کی طرف سے بھی ری ایکشن آرہا ہے۔ پاکستان بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ 2020 میں سکھ انڈیا میں ریفرنڈم کروانے جارہے ہیں۔ آزادی کی بیشتر تحریکیں انڈیا میں چل رہی ہیں۔اسام میں مسلمانوں نے انڈیا توڑنے کی تحریک شروع کردی ہے۔

جب ہمارے وزیراعظم امریکا سے ثالثی کا کہتے ہیں تو امریکہ کا پلان ہے کہ پاکستان کا کشمیر، انڈیا کا کشمیر اور جو حصہ چین کے پاس(گلگت بلتستان) ہے, اس سب کو ملا کر خود مختار کشمیر بنا دیا جائے۔لیکن امریکہ کی حیثیت اور اس کا حشر افغانستان میں دنیا نے دیکھ لیا ہے۔ امریکہ کی یہ ثالثی کشمیریوں کو منظور نہیں ہوگی نہ انڈیا اپنا کشمیر چھوڑے گا۔ کشمیری انڈیا کے ساتھ خوش نہیں ہیں۔ انڈیا بھی امریکہ کو ثالث نہیں مانتا۔انڈیا اگر مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھتا ہے تو اس کا کیس کمزور ہے۔ وہ کبھی بھی یونائیٹڈ نیشن کی قراردادوں کو نہیں مانے گا۔ امریکہ سے انڈیا پر صرف دبائو ڈلوایا جائے۔پاکستان کشمیریوں کی تحریک حریت کی مکمل حمایت کرے اور آخری گولی اور آخری سپاہی تک مدد جاری رکھے۔انڈیا سے جنگ میں نقصان سے نہ ڈرا جائے بلکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوہ ہند کی پیشن گوئیوں کو مدنظر رکھا جائے،جس میں انڈیا سے جنگ جیتنے کی بشارت ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ