حکومت کے 15 ماہ میں مجموعی قرضوں میں 11 ہزار 610 ارب روپے کااضافہ

حکومت کے 15 ماہ میں مجموعی قرضوں میں 11 ہزار 610 ارب روپے کااضافہ
حکومت کے 15 ماہ میں مجموعی قرضوں میں 11 ہزار 610 ارب روپے کااضافہ

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) موجودہ حکومت کے 15 ماہ میں مجموعی قرضوں میں 11 ہزار 610 ارب روپے کااضافہ ہوگیا30 ستمبر 2019 تک قرضوں کامجموعی بوجھ 41 ہزار 489 ارب روپے ہوگیااور قرضے جی ڈی پی کے لحاظ سے 94.3فیصدہوگیاجو گزشتہ برس 29ہزار879ارب روپے تھے۔

روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق بیرونی قرضے 106ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں ، وزارت خزانہ نے ڈیٹ پالیسی سٹیٹمنٹ 2019۔20 جاری کر دی ،پی ٹی آئی حکومت نے 15 ماہ میں قرضوں میں 11 ہزار 610 ارب روپے اضافے کا اعتراف کرلیا ہے قرضوں میں اضافہ یکم جولائی 2018 سے 30 ستمبر 2019 کے دوران ہوا، قرضے جی ڈی پی کے لحاظ سے94.3 فیصد تک پہنچ گئے۔

15 ماہ میں مجموعی پبلک قرضوں میں 9 ہزار 288 ارب روپے کا اضافہ ہوا، حکومتی قرضوں میں 6 ہزار276 ارب روپے جب کہ غیر ملکی حکومتی قرضوں میں 2 ہزار 802 ارب روپے اضافہ ہوا۔30 ستمبر 2019 تک قرضوں کا مجموعی بوجھ 41 ہزار 489 ارب روپے ہو گیا، 30 جون 2018 کو ملک پر قرضوں کا بوجھ 29 ہزار 879 ارب روپے تھا، 30 ستمبر 2019 تک حکومتی قرضے 34 ہزار 241 ارب روپے ہو گئے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 1533ارب روپے کا اضافہ ہوا، 30 جون 2018 کو حکومتی قرضے 24 ہزار 953 ارب روپے تھے۔

وزارت خزانہ نے یہ رپورٹ قومی اسمبلی میں جمع کرا دی ہے، حکومت نے نئی ضمانت جاری کرنے سے متعلق ایک ہدف حاصل کیا جبکہ قرضوں سے متعلق کوئی ہدف پورا نہیں کیا جاسکا گزشتہ سال کے دوران روپے کی قدر میں تقریباً 40فیصد کمی ہوئی جس سے سال 2018-19کے دوران مجموعی بیرونی پبلک قرضے 7755ارب روپے میں 3ہزار 61ارب روپے اضافہ ہواجو کہ 39 فیصد ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2018-19میں وفاقی بجٹ خسارہ (گرانٹس کے علاوہ) تین ہزار 635ارب روپےیعنی 9.4فیصد ریکارڈ کیا گیا۔وزارت خزانہ کے مطابق جون 2018میں فسکل ریسپنسیبلٹی اور ڈیبٹ لیمٹیشن ایکٹ کے تحت قرضے کو جی ڈی پی کے لحاظ سے 60 فیصد تک لایا جانا چاہئے تھا تاہم یہ مجموعی پبلک قرضہ 72.1فیصد رہا جون 2019میں حکومتی قرضہ جی ڈی پی کے 76.6فیصد اور مجموعی پبلک قرضہ جی ڈی پی کے 84.8فیصد پر پہنچ گیا۔

وزارت خزانہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پانچ برسوں میں 2023-24تک مجموعی پبلک قرضے میں سالانہ 0.5فیصد کے حساب سے کمی کی جائیگی اور 2032-33تک ہر سال 0.75فیصد کمی کی جائیگی۔سال 2018-19میں حکومت نے 489ارب روپے کی نئی ضمانتیں جاری کی ہیں جو جی ڈی پی کا 1.3فیصد ہے ا س طرح یہ ہدف کے اندر رہی ، سال 2018-19میں مجموعی حکومتی ریونیو میں سے 43فیصد قرضوں کے سود کی ادائیگی میں خرچ ہوئےاور سود کی ادائیگی بڑھ کر 39فیصد ہو گئی۔

دریں اثناوزارت خزانہ کی جمعہ کو جاری مالیاتی پالیسی سٹیٹمنٹ 2019-20کے مطابق حکومت پرائمری خسارے کو بہتر کرنے میں کامیاب رہی اور سال 2022-23تک پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 2.6فیصد حاصل کرنے کا ہدف ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد