نئے پاکستان میں مہنگائی نے 9 سالہ ریکارڈ توڑ دیا، سرکاری اعدادوشمار پر مبنی رپورٹ منظرعام پر آگئی

نئے پاکستان میں مہنگائی نے 9 سالہ ریکارڈ توڑ دیا، سرکاری اعدادوشمار پر مبنی ...
نئے پاکستان میں مہنگائی نے 9 سالہ ریکارڈ توڑ دیا، سرکاری اعدادوشمار پر مبنی رپورٹ منظرعام پر آگئی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک میں مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے اورمہنگائی کا 9  سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے،جنوری 2020 میں مہنگائی کی شرح 14.6 فیصد رہی جو کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت میں سب سے زیادہ 

اور 9 سال کی بلند ترین سطح ہے۔نئے پاکستان میں اس مہنگائی کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا اور بجلی گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہے اور اس نے سخت مانیٹری پالیسی کو بھی غیرموثر بنا دیا ہے۔

ادارہ شماریات پاکستان کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2019 میں مہنگائی کی شرح 12.6 فیصد تھی جو جنوری 2020 میں بڑھ کر 14 اعشاریہ 6 فیصد ہو گئی جبکہ جنوری 2019 میں یہ شرح 5.6 فیصد تھی۔رپورٹ کے مطابق دسمبر 2019کے مقابلے میں جنوری 2020میں دال مونگ 19.74 فیصد جب کہ دال ماش 10.3 فیصد مہنگی ہوئی۔دال چنا 18 فیصد، مرغی 17.3 فیصد اور گندم کی قیمت میں 12.63فیصد اضافہ ہوا۔ ادارہ شماریات کے مطابق جنوری میں تازہ سبزیوں کی قیمت میں 11 فیصد اضافہ ہوا جب کہ چینی 5 فیصد اور آٹا ساڑھے 7 فیصد مہنگا ہوا۔

ادارہ شماریات کے مطابق شہری علاقوں میں ایک سال میں ٹماٹر 158 فیصد، پیاز 125 فیصد، تازہ سبزیاں 93 فیصد، آلو 87 فیصد، چینی 86 فیصد اور آٹا 24 فیصد مہنگا ہوا۔ دیہی علاقوں میں ایک سال میں ٹماٹر 211 فیصد، پیاز 137 فی صد، آلو 111 فیصد، تازہ سبزیاں 104 فیصد اور آٹا 25 فیصد مہنگا ہوا۔ادارہ شماریات کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک سال میں آٹا 25 فیصد مہنگا ہوا جب کہ چینی کی قیمت میں 86 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک ہفتے کے دوران روزمرہ استعمال کی 14 اشیا مہنگی ہوگئی ہیں۔

مزید : قومی /Breaking News /ڈیلی بائیٹس /تارکین پاکستان